لندن میں مسلمان طالبہ قتل لیکن مسلمان تقسیم

شیئر کریں:

برطانیہ میں مسلمان لڑکی کو دن دہاڑے فائرنگ کر کے شہید کر دیا گیا۔
انیس سالہ آیا ہاشم کا تعلق لبنان سے تھا اور وہ سالفورڈ یونیورسٹی برطانیہ میں زیر تعلیم تھیں۔
آیا ہاشم لندن میں چلڈرن سوسائٹی کے نام سے ادارہ بھی چلا رہی تھیں۔
اساتذہ کے مطابق آیا ہاشم انتہائی زہین اور سرگرم طالبہ تھی۔
ایا ہاشم منگل کے دن کنگ اسٹریٹ بلیک برن میں سپر مارکیٹ کے لیے نکلی تھیں کہ ایک گزرتی ہوئی کار سے ان پر فائرنگ کر دی گئی۔
تین گولیاں ان کے سینے میں پیوست ہوگئیں اور وہ موقع پر ہی دم توڑ گئیں۔
سر راہ ایک طالبہ اور برطانوی معاشرہ کی خدمات کرنی والی نوجوان لڑکی اسلامو فوبیا کا شکار ہو گئی۔
اس واقعہ نے برطانیہ کو ہلا کر رکھ دیا ہے ابھی تک یہ پتہ نہیں لگایا جاسکا کہ انہیں کیوں گولیاں ماری گئیں۔
خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ وہ اسلام فوبیا ہی کا شکار ہوئی ہیں۔
یہ المناک خبر سنتے ہی برطانوی مسلمان برادری میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے۔
ہر طرف آیا ہاشم کے لیے فنڈنگ اور اس کے نام پر مسجد اور ادارہ بنانے کے منصوبے شروع ہو گئے۔ افسوس جیسے ہی لبنان کے شیعہ گھرانے سے تعلق رکھنے والی اس مسلمان لڑکی کے مسلک کا علم ہوا تو سب پیچھے ہٹ گئے۔
اب مظاہرے ہیں اور نہ نوجوان لڑکی کے لیے کوئی آواز اٹھائی جارہی ہے۔
لندن میں آباد تارکین وطن نے اس عمل کو انتہائی افسوس ناک قرار دیا۔
اس طرح کے غیر مناسب رویہ اور تقسیم کو لوگوں نے مسترد کر دیا۔
ان کا کہنا ہے مارنے والے گورے نے ایا ہاشم کو گولیاں مسلک پوچھ کر نہیں ماریں۔
آیا ہاشم کو شیعہ یا سنی نہیں بلکہ مسلمان ہونے کی سزا دی گئی ہے۔
اس وقت دنیا بھر میں مسلمانوں کو ظلم و بربریت کا سامنا ہے لیکن افسوس بعض ناعاقبت اندیش لوگ امت میں تفریق کا بیج بونے سے باز نہیں آرہے۔
یہ وقت یکجا اور جڑنے کا ہے، جیسا کہ مسلمان ڈاکٹرز بغیر کسی مسلک اور رنگ و نسل کی تفریق اسپتالوں میں کورونا وائرس کے مریضوں کی جانیں بچاتے ہوئے شہید ہو رہے ہیں۔
لیکن چند مٹھی پھر تفرقہ باز محض اپنی دکانداری کی وجہ سے اسلام دشمن قوتوں کے ہاتھ مضبوط کر رہے ہیں۔
ایسا نہ کریں کیونکہ تاریخ بڑی بے رحم ہوتی ہے وہ کبھی معاف نہیں کرتی۔
اور کوشش کریں کہ کوئی پھر اس شعر کی تکرار نہ کرے۔
مسلک پتہ چلا جو مسافر کی لاش کا
چُپ چاپ آدھی بھیڑ گھروں کو چلی گئی

ابتدائی تحقیقات کے مطابق پولیس کا کہنا ہے کہ کار سواروں کے نشانہ پر کوئی اور تھے۔
نوجوان لڑکی کا قتل اسلامو فوبیا یا اسکارف کی وجہ سے نہیں ہوا۔
تاہم لوگوں کا کہنا ہے جس طرح گولیاں براہ راست جسم کے اوپری حصہ پر ماری گئی ہیں اس سے یہ واقعہ دہشت گردی ہی ہو سکتا ہے۔


شیئر کریں: