لاہور میں 2021 کے دوران تعلیم کا کیا حال رہا؟

شیئر کریں:

لاہور سے اجلال زیدی

لاہور میں سال دو ہزار اکیس کے دوران پہلے کورونا وباء پھر اسموگ تدریسی عمل کے آڑے آئی۔ دو ہزار اکیس میں محکمہ تعلیم پنجاب کو بھرپور چیلنجز کا سامنا رہا۔یکساں نصاب تعلیم کے نفاذ کے علاوہ ایک سال کے دوران بہت سے پروگرام بھی شروع کئیے گئے۔
تین سو پینسٹھ دنوں میں سے ایک سو پچاس سے زائد روز چھٹیاں،، دو ہزار اکیس میں موذی کورونا کے سبب کئی بار اسکولز بند کرنا پڑے۔ کورونا کا زور ٹوٹنے پر فروری اور مئی کے دوران پچاس فیصد گنجائش سے کلاسز ہوتی رہیں۔
کورونا کے بعد، سال کے آخر میں اسموگ کا روگ بھی تعلیم کی راہ میں رکاوٹ بنا۔ بچوں کی صحت کو مدنظر رکھتے ہوئے پیر کے روز اسکولوں کی بندش کا حکم جاری کیا گیااور بچے آن لائن کلاسز کا حصہ بننے پر مجبور ہوئے۔
محکمہ ایجوکیشن پنجاب نے اگست میں نئے تعلیمی سال کے شروع ہونے پر یکساں نصاب تعلیم کا نفاذ کیا۔ابتدائی طور پر یکساں نصاب تعلیم کا اطلاق پرائمری سطح پر کیا گیا اور اس حوالے سے اساتذہ کی کی تربیت کیلئے لرننگ مینیجمنٹ سسٹم کا آغاز بھی ہوا
اگست میں ہی محکمہ تعلیم کے تمام نظام کو ڈیجٹلائز بھی کر دیا گیا،، ٹرانسفر ہو یا پروموشن، چھٹی لینی ہو یا ریٹائرمنٹ، اب اساتذہ کے لیے سب کچھ ایک کلک کی دوری پر ہے،، سرکاری اسکولز میں زیر تعلیم طلبہ کا ریکارڈ بھی آن لائن موجود ہے
صوبائی وزیر تعلیم پنجاب ڈاکٹر مراد راس سے جب اس پر موقف لیا تو ان کا کہنا تھا کہ وزیر ایجوکیشن پنجاب، دنیا میں سکولز کی بلڈنگ سارا دن استعمال ہوتی ہیں ہم دو بجے بند کر دیتے تھے ٹرانسجینڈرز سکول شروع کیا۔
محکمے کی جانب سے انرولمنٹ ڈرائیو بھی جاری رہی، حکام کا دعوی ہے اس مہم کے باعث سات لاکھ چھیاسٹھ ہزار بچے سرکاری اسکولوں میں داخل ہوئے۔
تعلیم کے بہتری کے اقدامات اپنی جگہ لیکن محکمہ سکول ایجوکیشن میں اساذہ کی بارہ ہزار جبکہ محکمہ ہائر ایجوکیشن میں پانچ سواسامیاں خالی پڑی ہیں جنہیں فوری طور پر پر کیا جانا ضروری ہے۔


شیئر کریں: