لاڑکانہ کے اسپتالوں میں نوزائدہ بچیاں چھوڑ کر فرار ہونے کے واقعات کا انکشاف

شیئر کریں:

لاڑکانہ سے شہزاد علی خان
سندھ کے بڑے شہر لاڑکانہ کے اسپتالوں میں نوزائدہ بچیوں کو لاوارث چھوڑے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔
یہی نہیں والدین بچیوں کو زندگی بچانے کے حق سے بھی محروم کرنے لگے ہیں۔
لاڑکانہ کے شیخ زید اسپتال کے ڈاکٹر عبداللہ چانڈیو کا کہنا ہے کہ رواں سال کئی کیسز سامنے آئے ہیں۔

سرکاری اعدادو شمار کے مطابق 2020 میں 6 نومود بچیاں اسپتال لائی گئیں۔
انہیں داخل کروانے والوں نے اپنا نام نمبر اور ایڈریس کا اندراج غلط کروایا۔

ایسے افراد بچیوں کو اسپتال چھوڑ کر چلے گئے اور بچیاں مر گئیں پھر اسپتال انتظامیہ نے پولیس اور
ایدھی کی مدد سے دفنا دیا۔

حیرت انگیز واقعات یہاں کا معمول بن چکے ہیں جہاں ماہانا 15 سے 17 ایسے کیسز آ رہے جن میں بچیوں
کی حالت انتہائی تشویش ناک ہوتی ہے۔

انہیں آکسیجن پر رکھا جاتا ہے لیکن ورثہ ڈاکٹرز کے اعتراض کے باوجود آکسیجن اتار کر لے جاتے ہیں۔
ڈاکٹرز کے مطابق ایسے بچوں کے زندہ رہنے کے امکانات بالکل نہیں ہوتے۔

ایسے ورثہ اسپتال انتظامیہ کو فارم پر لکھ کر دیتے ہیں کہ وہ اپنی ذمہ داری پر بچی کو لے جارہے ہیں۔
اس طرح کے سالانہ 200 سے زائد فارمز ورثہ کی جانب سے بھرے جاتے ہیں۔
بیٹی کا پتہ لگنے پر غیر قانونی طور پر اسخاط حمل بھی کرائے جارہے ہیں۔
اس طرح کا گھناؤنا عمل دائیاں اور اسپتال نرسز اپنے گھروں پر انجام دے رہی ہیں۔
نمائندہ خبر والے کی تحقیق کے مطابق صرف ایک اسپتال کے پاس مکمل کمپیوٹرائزڈ ڈیٹا ہے۔
اس کے برعکس بیشتر زچہ و بچہ صحت کے سرکاری مراکز اور نجی قانونی و عطائی کلینکس
کا ڈیٹا موجود ہیں۔

ماہرین کے مطابق یہ ڈیٹا صرف لاڑکانہ میں سالانہ ایک ہزار بچوں پر مشتمل ہے جنہیں اگر یہ کہا جائے کہ
مار دیا جاتا تو غلط نہیں ہوگا۔
حیرت اس بات کی ہے کہ تمام حقائق محکمہ صحت کے افسران کے علم میں ہونے کے باوجود اس کی روک
تھام کے لیے کوئی پالیسی نہیں بنائی جارہی ہے۔


شیئر کریں: