March 22, 2020 at 7:21 pm

تحریر: محمد امنان

کورونا وائرس نے انسان کو اس قدر بے بس و مجبور کر دیا ہے کہ میڈیا کا 80 فی صد سے زائد کانٹینٹ کورونا سے متعلق ہے ہمارے ملک میں بھی افراتفری کا عالم سا بن رہا ہے

حکومت کا اس سب میں کردار بڑا کنفیوژنگ سا لگ رہا ہے کورونا کے آنے کے دوران ہی ایم ٹی آئی ایکٹ پاس کر دیا گیا پنجاب کے ڈاکٹروں کو بقول ڈاکٹروں کے دیوار سے لگانے کی تیاریاں کی گئیں ڈاکٹروں کو ٹیسٹنگ کٹس اور ماسکس کی فراہمی پہ حکومت لیت و لال سے کام لے رہی ہے

تفتان کے راستے آنے والے زائرین کو مناسب انتظامات و اقدامات نہ ہونے کی وجہ سے ملک کے مختلف حصوں میں کورونا کے کیسز میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے

ڈاکٹروں کے احتجاج پہ لوگ بالخصوص وہ لوگ جو اس حکومت کو عقل کل مان کر دن رات ڈیفیند کرتے ہیں نے کہا کہ جی ڈاکٹر انسانی مسیحا ہوتے ہیں تو یہ علاج سے کترا کیوں رہے ہیں نیز گالیاں بھی بہت جگہ پہ پڑھیں

اور حیرت کی بات ہے ڈاکٹروں کے لئے سخت اور نازیبا الفاظ کرنے والوں میں اکثریت کی تعداد پڑھی لکھی تھی وکلا اور دیگر شعبہ جات میں کام کرنے والے ڈاکٹروں کے احتجاج پہ ٹھٹھے اڑا رہے تھے

لیکن دنیا میں صورتحال اس سے برعکس ہے وباوں یا آفات کے موقعوں پہ لاکھوں اختلافات کے باوجود لوگ ایک دوسرے کا دکھ بانٹتے ہیں چائینہ کو دیکھئیے ڈاکٹرز وقت رخصت اپنے پیاروں سے یوں مل رہے تھے گویا اب واپس نہیں آئیں گے

پھر دیکھئیے چائینہ نے یکجہتی اور حکمت سے اس وبا سے قریب قریب چھٹکارا حاصل کر لیا یا یوں کہیئے اس پہ قابو پا لیا تو ڈاکٹروں کو ملک کی عوام سمیت پولیس وغیرہ بھی سلیوٹ مارتئ دکھائی دی

یہاں ہمارے ہاں صورتحال یہ ہے کہ ہم ڈاکٹروں کو کہہ رہے ہیں نہتے لڑو اور جان سے جاو ایک ڈاکٹر کی پہلی لاش ہم نے وصول کر لی ہے ڈاکٹر اسامہ گلگت میں کورونا سے متاثرہ مریضوں کی سکریننگ کے فرائض ادا کر رہے تھے کورونا سے مبینہ طور پہ متاثر ہو کر وینٹی لیٹر پہ رہے اور جان کی بازی ہار گئے

پہلی لاش ایک ڈاکٹر کی وصول کرنے کے بعد سوال یہ ہے کہ نامناسب سہولیات کے رہتے اس وبا سے ہم کیسے لڑیں گے؟

حکومت وزیر مشیر چمچے کڑشے سب اس وقت ایک ہی گردان کر رہے ہیں کہ ہم نے انتظامات مکمل کر لئے ہیں فلانا ڈھمکانا دے مار ساڑھے چار ایک دن میم دو دو پریس کانفرنسز اور وزرا کی آپسی لڑائیاں

حکومت سے سوال ہے کہ حکومت جھوٹی تسلیاں عوام کو دے رہی ہے یا خود کو؟؟ صورتحال اس سے کہیں زیادہ بگڑ سکتی ہے اٹلی کے حالات سب کے سامنے ہیں انہوں نے بھی اس بات کو سیرئیس نہیں لیا اور آج وہاں لاشیں دفنانے کی جگہ بھی کم پڑ رہی ہے

ہماری حکومت مکمل لاک ڈاون کی طرف نہیں جا رہی اسکی وجوہات یہ ہو سکتی ہیں کہ حکومت کے پاس شاید بجٹ کی کمی ہو لیکن بجٹ کی بہتات والا محکمہ بھی اب اس آفت سے نمٹنے میدان عمل میں ہے لیکن ڈاکٹرز اور میڈیا کو حکومت اچھوت سمجھتے ہوئے فی الحال انکے حوالے سے پالیسی نہیں بنا پائی ڈاکٹروں کو تو دبے دبے الفاظ میں سراہا جا رہا ہے کہ کہیں یہ بگڑ گئے تو علاج کون کرے گا

لیکن میڈیا نمائندگان یا صحافیوں کی حالت اس بار بھی پتلی ہے میڈیا ادارے اپنے تئیں سٹاف کی حفاظت یقینی بنانے کی کوششوں میں ہیں خیر بات کہیں اور نکل رہی ہے بتانا یہ مقصود تھا کہ حکومت کنفیوژ سی لگ رہی ہے وہ ایسے

کہ فیصل آباد میں تاحال کوئی بھی کیس سامنے نہیں آیا 9 زائرین جو ڈی جی خان قرنطینہ میں ہیں کے ٹیسٹ مثبت آئے ہیں لیکن عثمان بزدار کی جانب سے کی جانے والی ایک پریس کانفرنس میں زائرین کے حوالے سے کہا گیا تھا کہ انہیں فیصل آباد منتقل کیا جائے گا

جس کے بعد انتظامیہ نے زرعی یونیورسٹی ، جی سی یونیورسٹی اور پارس کیمپس کے بالترتیب 8 8 اور 5 بلاکس کو قرنطینہ کے لئے مختص کر دیا صوبائی وزیر پبلک پراسیکیوشن چوہدری ظہیر الدین نے ایک پریس کانفرنس ڈی سی آفس میں کی اور تصدیق کی کہ زائرین کو یہاں منتقل کیا جا سکتا ہے

لیکن عرصہ دراز سے غائب رہنے والے اراکین اسمبلی اچانک سے منظر پہ آئے اور اس خبر کی نہ صرف تردید کی بلکہ کہا کہ عوام گھبرائیں مت فیصل آباد میں زائرین کو نہیں آنے دیں گے

یہ وقت قومی یکجہتی کا ہے مگر عوام اور اراکین اسمبلی اس بات کو سمجھنے سے قاصر ہیں کہ ہم ہجوم ہیں مگر یہ وقت متاثرین کو بچانے اور انہیں طبی سہولیات فراہم کرنے کا ہے عام عوام تاجروں اور صنعتکاروں نے اس خبر کے بعد سوشل میڈیا پہ ہلکا ہلکا احتجاج اور غصے کا اظہار شروع کر دیا کہ

بھئی شہر میں کورونا کے کیسز نہیں ہیں زائرین یہاں آئیں گے تو شاید یہ پھیل جائے گا اور ہمیں بھی لے ڈوبے گا ، سکھر اور منگا میں اس ہجوم کی حماقت پہ مہر تب ثبت ہوئی جب لوگ وارڈز توڑ کر باہر نکل آئے اور ان میں کورونا کے مریض تھے

پھر کرک میں اجتماع کو پولیس نے منتشر کرنا چاہا تو لوگوں نے دفعہ 144 کو جوتی کی نوک پہ رکھا اور پولیس پہ پتھراو کیا

حکومت اور عوام اس وقت کنفیوژڈ ہیں اور شاید ڈرے ہوئے بھی پنجاب کی صورتحال کے حوالے سے واقفان حال بتاتے ہیں کہ یہاں معلومات کو دبایا جا رہا ہے صورتحال کنٹرول سے باہر ہے یا یوں کہئیے نا اہلوں کی وجہ سے مزید بگڑ رہی ہے

ہم لوگ کیا لوگ ہیں کورونا پہ جگتیں کس رہے ہیں دفعہ 144 یا حفاظت کے پیش نظر اقدامات کو مذاق سمجھ رہے ہیں اور حکومت مکمل لاک ڈاون سے گھبرا رہی ہے کہ ابھی کیسز کونسا بڑھے ہیں جب بڑھیں گے تب کریں گے لاک ڈاون لیکن شاید تب تک بہت دیر ہو جائے

ڈاکٹر اسامہ جان کی بازی ہار گیا اور بقیہ ڈاکٹرز ڈرے سہمے بیٹھے ہیں کیونکہ وینٹی لیٹرز کی تعداد بہت ہی کم ہے ، ٹیسٹنگ کٹس نہیں ہیں ماسکس نہیں ہیں کیسے لڑیں گے ڈاکٹر ؟؟؟

فی الحال ڈاکٹر کی پہلی لاش وصول ہونے کا جشن منائیے اور سامان جنگ و جدل کو دیکھ دیکھ کر شکر ادا کریں

Facebook Comments