قطر کو اسرائیل کے قریب اور ایران ترکی کے خلاف کرنے کی کوشش

شیئر کریں:

عرب ممالک میں صرف قطر ترکی اور ایران کے خلاف تصور کیا جاتا ہے باقی سب ان دونوں
ممالک کے خلاف ہیں۔

سعودی عرب کی جانب سے جون 2017 میں مصر میں اخوان المسلمین کی حمایت کرنے پر
قطر کی ناکہ بندی کی گئی۔

اب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سینئر ایڈوائزر اور داماد جیریڈ کشنر قطر کی ناکہ بندی ختم
کرانے کے لیے متحدد ہو گئے ہیں۔

کشنر نے پیر کو سعودی عرب کا دورہ کیا اور سعودی عرب کی قیادت کو ایران مخالف اتحاد
مزید مستحکم کرنے کے لیے قطر کو ہمنوا بنانے کی کوشش کی۔

توقع یہی کی جارہی ہے کہ ایران اور ترکی کو مزید تنہا کرنے کے لیے قطر کی جون 2017 سے
جاری ناکہ بندی سعودی عرب ختم کرنے کا اعلان کر دے۔

سعودی عرب کی جانب سے لگائی گئی پابندی پر متحدہ عرب امارات، بحرین اور مصر نے
بھی عمل درآمد کرایا تھا۔
امریکا چاہتا ہے کہ قطر میں موجود ترکی کا فوجی اڈا بھی ختم کیا جائے۔

پورے عرب ممالک اور بیشتر اسلامی ملکوں میں سعودی عرب کا اثر ہے اور جو بھی عمل سعودیہ
کی جانب سے زیادہ تر اس پر عمل کرتے ہیں۔

سعودی عرب کی ایران مخالف پالیسیوں کی وجہ سے مسلمان ممالک میں کشیدگی بڑھتی جارہی ہے۔

اسرائیل کو تسلیم کرنے کی عرب ممالک کی پالیسی بھی تیزی سے آگے اسی لیے بڑھائی جارہی ہے
کہ ایران کو کسی طرح سے ختم کیا جاسکے۔

ڈونلڈ ٹرمپ کے دور اقتدار 20 جنوری کو ختم ہو جائے اور اسی روز جو بائیڈن امریکا کے
صدر ہو جائیں گے۔
اسی لیے جاتے جاتے ٹرمپ کی خواہش ہے کہ جتنا زیادہ ممکن ہو سکے ایران کے نام پر تمام عرب
اور مسلمان ممالک کو یکجا کیا جائے۔

اس طرح ایران دشمنی میں اسرائیل اور امریکا کےہتھیاروں کی فروخت بڑھ جائے گی، ساتھ ہی
فلسطین کا مسئلہ بھی ختم ہو جائے اور تمام مسلمان ممالک اسرائیل کی حقیقت کو تسلیم کر لیں گے۔


شیئر کریں: