قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے سندھ بھر میں ویئر ہاوس بنانے کا منصوبہ

شیئر کریں:

نواب شاہ سے اسد بخاری
نواب شاہ میں وزیر اعلیٰ سندھ کے صوبائی مشیر برائے رلیف اینڈ ریھیبلیٹیشن ڈپارٹمنٹ حاجی رسول بخش چانڈیو نے کہا ہے کہ ممکنہ قدرتی آفات کے نقصانات کے پیش نظر محکمے کی جانب سے عوام کو فوری امداد کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے سندھ کے مختلف اضلاع میں ویئر ہائوسز اور دفاتر کا قیام عمل میں لایا جارہا ہے تاکہ رلیف کے سامان کی پہلے سے دستیابی کو یقینی بنایا جاسکے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے آج نواب شاہ کے قریب پی ڈی ایم اے سندھ کی جانب سے زیر تعمیر ویئر ہائوس کے تعمیراتی کام کا جائزہ لینے کے دوران موجودہ افسران سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان کی کوشش ہوگی کہ صوبے کی عوام کو کسی بھی ممکنہ ہنگامی حالات میں جلد امداد کی فراہمی کے لیے ایک بہتر مکینزم تشکیل دیا جائے۔ حاجی رسول بخش چانڈیو نے زیر تعمیر ویئر ہاؤس کا جائزہ لیا اور متعلقہ محکمے کے افسران کو ہدایت دی کہ منصوبے میں شامل ایک ویئر ہاؤس اور دفتر کے بلاک کو جلد سےجلد مکمل کیا جائے اور منصوبے کی زمین کو قبضے سے محفوظ بنانے کے لیے بائونڈری وال بھی دی جائے۔ اس موقعے پر اس منصوبے کے ایگزیکٹو انجینئر نے معاون خصوصی کو جاری کام کے متعلق بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ 10 ایکڑ کی ایراضی پر مشتمل 3 ویئر ہاؤسز ، انڈر گراؤنڈ واٹر ٹینک، کولڈ اسٹوریج اور آفس کی بلڈنگ کا منصوبہ 2018 شروع کیا گیا تھا جو کووڈ کی صورتحال کی وجہ سے فنڈز کی عدم دستیابی کے باعث مقررہ مدت میں مکمل نہیں ہوسکا ہے جبکہ رواں سال فنڈز کے جاری ہونے کے بعد منصوبے پر کام تیزی سے جاری ہے اور آفس بلاک اور ایک ویئر ہاؤس کی کام چھت تک مکمل ہوچکا ہے جبکہ دیگر دو ویئر ہاؤسز پر کام جاری ہے۔ اس موقعے پر ڈائریکٹر جنرل پی ڈی ایم اے سندھ سید سلمان شاہ، ڈپٹی کمشنر شہید بینظیر آباد ابرار احمد جعفر، اسسٹنٹ کمشنرز نواب شاہ و سکرنڈ سمیت دیگر متعلقہ افسران بھی موجود تھے۔ قبل ازیں صوبائی مشیر حاجی رسول بخش چانڈیو نے کمشنر آفس میں کمشنر شہید بینظیر آباد سید محسن علی شاہ سے بھی ملاقات کی اور ڈویژن میں ریسکیو اور ریلیف کے حوالے سے کاموں کے متعلق معلومات لی۔


شیئر کریں: