فیضان بدھا (کہانی)

شیئر کریں:

تحریر:عامر حسینی

وہ پہلی بار مجھے شہر کی سب سے بڑی یونیورسٹی کے اردو
ڈیپارٹمنٹ کی عمارت کے لان میں ملا تھا۔ پتلا چھریرا بدن،
لمبی لمبی ہاتھ کی انگلیاں، چہرے پر ہلکی ہلکی شیو بڑھی
ہوئی جس سے کہیں کہیں چہرے پر چیچک کے داغ چھپ
سے گئے تھے۔

سر پر لمبے بال جو سب کے سب سفید تھے اور اس نے بالوں
کی پونی بنا رکھی تھی۔ جینیز کی اسکن کلر کی پینٹ اور
سفید کلر کی شرٹ اور اس پر ایک پتلی سی اونی جرسی
پہنے ہوئے تھا-

آنکھوں پر نظر کا چشمہ تھا جس سے جھانکتی اس کی گول
مٹول مگر تھوڑی بند بند سی آنکھیں اور زرا کشادہ پیشانی
تھی اس کی- جسم کو تھوڑا خم دے کر کھڑا تھا اور ایک
ہاتھ ہوا میں اٹھائے جس کی ہتھیلی تھوڑی سی خم ہوا
میں ایسے کھڑی تھی جیسے وہ ابھی بھارت ناٹیم شروع کرنے
والا ہے۔ اس کا اوپر والا ہونٹ تھوڑا باریک اور نچلا تھوڑا
موٹا تھا- جبکہ ناک ستواں تھی۔ مجھے وہ پہلی نظر میں بھا
گیا تھا لیکن میں تھوڑی بے نیازی دکھاتا رہا۔

میری دوست شہلا نے اس کا مجھ سے تعارف کرایا۔
کامریڈ، یہ ہیں فیضان بدھا۔ فیضان ان کا نام اور بدھا ان کا
تخلص ہے اگرچہ یہ شاعری کرتے نہیں ہیں مگر پڑھتے بہت
ہیں۔اردوادب میں ایم فل کررہے ہیں۔ گوتم بدھا سے بہت
متاثر ہیں تو اپنے نام کے ساتھ انھوں نے بدھا تخلص جوڑ لیا ہے۔

یہ کامریڈ فارغ اطہر ہیں، سرائیکی وسیب میں رہتے ہیں،
پڑھ کر اسی جامعہ سے گئے ہیں۔ پیشے کے لحاظ سے صحافی
ہیں لیکن فکشن بھی لکھتے ہیں۔ ویسے یہ کب سنجیدہ ہوتے
ہیں ان کا پتا نہیں چلتا،اکثر ایسے لگتا ہے کہ جیسے کسی پنجابی
تھیڑ میں چل رہے وقتی بازی کے مقابلے میں پرفارم کررہے ہوں۔
شہلا کا انداز ہی ایسا تھا کہ وہ دوستوں کا باہم تعارف کراتے
وقت باتوں ہی باتوں میں دونوں کی لے لیتی تھی۔ شہلا اس زمانے
میں جینڈر اسٹڈیز میں ایم فل کررہی تھی اور وہ بیک وقت فیمنسٹ،
ٹراٹسکائٹ، سٹالنسٹ،نیشنلسٹ،لبرل اور یہاں تک کہ الطاف حسین
کی دیوانی بھی تھی۔ اس کی فکری لا ابالیت اپنی جگہ لیکن وہ تھی
زبردست ایکٹوسٹ۔ ہر ایک مظاہرے میں سب سے آگے،بھوک ہڑتالی
کیمپ میں پہلی صف میں اور ہر ایک اسٹڈی سرکل میں بھی سب
سے آگے کی نشستوں پر براجمان ملتی۔

اسے تصویر کھنچوانے کے لیے جہنم میں بھی جانا پڑتا تو وہ چلی جاتی
تھی بشرطیکہ وہ تصویر اگلے روز اخبارات میں لگی ہو۔
فیضان بدھا نے مجھ سے متعارف ہونے کے فوری بعد ہیلو کہا اور مجھ
سے ہاتھ ملانے کے لیے اپنا ہاتھ آگے کردیا۔ ہاتھ گداز اور مخمل کی طرح
نرم تھا۔ میں نے کچھ دیر اس کے ہاتھ کو تھامے رکھا اور تھوڑا سا ہاتھ دبا
کر چھوڑ دیا۔

اس کی آواز نہ تو بہت باریک تھی نہ بہت بھاری لیکن اس میں
لوچ تھا جو مجھے بہت پسند تھی۔میں نے بات بڑھانے کو پوچھا
کہ معاصر فکشن لکھنے والوں میں اس کی پسند کون ہے تو اسی
لوچ دار آواز میں بولا’زاہدہ حنا’
اور شاعر؟
‘سلمان حیدر’
میں نے تھوڑی شرارت کی اور کہا کہ ‘جون ایلیا’ پسند ہیں کیا؟
‘کبھی بطور شاعر اور انسان دونوں مجھے اچھے لگتے تھے لیکن اب
صرف ان کی شاعری پسند ہے لیکن وہ بالکل پسند نہیں ہیں۔’
یہ کہتے ہوئے بدھا کے لہجے میں سخت نفرت جھلک رہی تھی
اور چہرے پر ناپسندیدگی کے تاثرات تھے۔
اور آپ کو معاصر فکشن لکھنے والوں میں کون پسند ہے؟
مجھے پھر شرارت سوجھی اور کہا، ‘تم پسند ہو’
ارے، میں بھلا کہاں فکشن لکھتا ہوں۔
تم سچ نہیں بول رہے، تمہارا سراپا جمالیات کا نمونہ اور
ایک ڈھلا ڈھلایا فکشن ہے اور تم تو بات بھی فکشنی رنگ
میں کرتے ہو اور پھر ایم فل بھی اردو ادب میں کررہے ہو تو
کیسے کہتے ہو فکشن نہیں لکھتے۔

اردو ادب میں ایم فل کرنے سے لازم نہیں آتا کہ فکشن بھی لکھا
جائے۔ آپ مذاق نہ کریں نا، بتائیں فکشن میں کون معاصر لکھنے
والا /والی آپ کو پسند ہے۔ وہ تھوڑا اٹھلا کر اور نرت بھاؤ کے ساتھ
بولا تھا اور میں دل ہی دل میں اس کے انداز و ادا پر قربان ہوگیا تھا۔
میرے اندر وحشت سی کوئی چیز جاگ گئی تھی۔ دل کرتا تھا کہ ابھی
اسے اپنے سینے سے لگاؤں اور زور سے اسے دباؤں۔

کامریڈ، بدھا کو تنگ مت کریں، سنجیدگی سے جواب دیں۔
زاہدہ حنامیرے ذہن میں تو فوری جو نام آئے تھے وہ ساجد رشید،
محمد حمید شاہد، ارون دھتی رائے، رحمان عباس اور منشا یاد کے
تھے لیکن دل کے ہاتھوں مجبور ہوکر میں نے زاہدہ حنا کا نام لے
دیا جو اوسط درجے کی فکشن لکھنے والی تھیں۔ اور اندر کی بات
یہ تھی جیسے بدھا کو جون ایلیا سے اللہ واسطے کا بیر تھا ویسا
بیر مجھے زاہدہ حنا سے تھا اگرچہ میں اسے ایک اوسط درجے کی
ادیبہ خیال کرتا تھا۔

واقعی؟ مذاق تو نہیں کررہے؟
میں نے سپاٹ چہرہ کرکے کہا، میں ادب کے معاملے میں مذاق نہیں کرتا۔
میں نے دیکھا،میری بات سن کر بدھا کا چہرہ اور کھل اٹھا تھا- وہ تھوڑا
سا ریلیکس ہوگیا۔ اس نے وہیں لان کی خشک پڑی گھاس پر ہمیں بیٹھنے
کو کہا۔ اس دوران دو اور شہلا کے جاننے والے لڑکے وہاں آگئے تھے۔

اس دوران فیضان بدھا، شہلا اور دیگر لڑکے ادب،سیاست، کلچر، آرٹ
اور تاریخ سے متعلق موضوعات پر باتیں کرتے رہے اور میں تھوڑی
سی بات کرکے چپ ہوجاتا اور فیضان بدھا کوتکنے لگتا۔ اس پہلی
ملاقات میں میں نے اس کا بات کرنے کا انداز، اس کے کھلتے،بند
ہوتے ہونٹ، کبھی کبھار چہرے پر پڑنے والی چند ایک شکنیں
اور چشمے کےدوسری طرف اسکینر جیسی آنکھیں جو لگتا تھا
کہ آپ کو اندر سے اسکین کرنے کی کوشش کررہی ہوں اور بدھا
ایسے لگتا تھا جیسے آپ کو اندر سے پڑھنے کی کوشش کررہا ہو
کو خوب نہارا۔

وہ کافی دیر سے میرا جائزہ لے رہا تھا۔ اور میں اندر ہی اندر
ڈرا ہوا تھا۔ میری ساری خود اعتمادی ہوا میں تحلیل ہوگئی
تھی اور میں کچھ بول ہی نہیں پارہا تھا۔ شہلا نے ایک دو بار
مجھے ٹوکا بھی ،’کامریڈ،آپ کو کیا ہوگیا آج؟

اس دوران شاید فیضان بدھا نے میرا اندر تھوڑا بہت سمجھ لیا
تھا۔ اس کے چہرے سے اب بیزاری ہویدا تھی۔ وہ مجھ پر فوکس
بھی نہیں کررہا تھا۔ اچانا سے وہ اٹھ کر کھڑا ہوگیا اور کہا کہ اسے
ڈیپارٹمنٹ جاکر اپنے سر سے ملنا ہے۔ اور بائے کہہ کر چلتا بنا
۔

میں اس کے مڑنے کے انداز اور پھر اس کے چلنے کے انداز جس میں
ایک ادا،ایک نرت بھاؤ اور ایک عجیب سی دلفریب اور کھچ ڈالنے
والی لچک تھی جس نے میرے اندر اتھا پتھل کردی تھی اور میں
ارد گرد میں کوئی دلچسپی نہیں لے رہا تھا، کو دیکھتا رہ گیا۔

میں وہاں سب سے رخصت لیکر یونیورسٹی کے گیٹ تک آیا
اور وہاں پر اوبر منگوائی اور بحریہ ٹاؤن چلا آیا۔ میں بحریہ ٹاؤن
میں ایک دوست کے اپارٹمنٹ میں ٹھہرا ہوا تھا جس کی بیوی
اور بچے اسلام آباد گئے ہوئے تھے۔

سارے راستے سگریٹ نوشی کے دوران دھوئیں کے مرغولوں میں بھی
میری نظروں کے سامنے فیضان بدھا کا سراپا تھا۔ کب اوبر نے مجھے
میری لوکیشن پر پہنچایا،مجھے کچھ پتا نہ چلا۔

‘صاحب، آپ کی منزل آگئی’ ،ڈرائیور بولا تو مجھے ہوش آیا۔ میں نے
کرایہ ادا کیا اور لفٹ کا استعمال کرکے سیکنڈ فلور پر بنے اپنے دوست
کے اپارٹمنٹ میں چلا آیا۔ وہ ابھی اپنے آفس سے نہیں لوٹا تھا۔

میں اپنے دوست کا بیڈ روم استعمال نہیں کررہا تھا۔ میں نے کچن،
داخلی دروازے اور بیڈ روم کے درمیان لاؤنج کے فرش پر گدا بچھایا
ہوا تھا اور وہیں پر سونا، کتابیں پڑنا، کھانا پینا شروع کررکھا تھا۔
میں وہاں آکر لیٹ گیا اور جوتے اتارنے کا تکلف بھی نہیں کیا اور
چوکڑی مار کر بیٹھ گیا۔ اس دوران بیوی کی کال آئی جسے نہ چاہتے
ہوئے بھی ریسیو کی اور اس کی ہجر کی باتوں کو بے دھیانی سے سنتا
رہا۔ جیسے ہی کال ختم ہوئی میرا گیان دھیان پھر فیضان بدھا کے
سراپے میں ڈوب گیا۔ اور اس دوران میں نے ڈن ہل کی سگریٹ کے
دو پیکٹ پھونک ڈالے۔ اور جب زرا تھک سا گیا تو میں لیٹ گيا۔

اسی گیان دھیان میں میں سوگیا اور میرے لاشعور کی اتھاہ
گہرائیوں میں فیضان بدھا سے جڑے جذبات کی تجسیم ہونے
لگی۔

میں نے دیکھا کہ میں اور فیضان بدھا لباس فطرت میں ایک بیڈ
پر ہیں اور میں بدھا کو چوم رہا تھا اور پھر ہم ان سارے مراحل
سے گزرے جو اس طرح کے جذبات کے اثر لیے واردات جسمانی
میں طے کیے جاتے ہیں۔ اور پھر ہم ایک دوسرے کے ساتھ لپٹ
کر سو گئے۔

شام کو آفس سے تھک ہار کر میرا دوست جب اپارٹمنٹ پہنچا
تو اس نے مجھے جھنجھوڑ کر اٹھایا تو جیسے اچانک سے سارا
طلسم ٹوٹ گیا۔

میں جتنے دن وہاں رہا،فیضان بدھا سے ملنے کی کوشش کرتا رہا۔
کبھی وہ ملا اور کبھی نہ ملا۔ اس نے منہ سے کچھ نہ کہا لیکن
اس کی آنکھوں سے ناپسندیدگی صاف مترشح تھی۔ ایک دن
تھوڑی تنہائی میسر آئی تو میں نے اس کو اپنے دل کا حال کہہ
ڈالا اور اسے کہا،’میں تم سے پیار کرتا ہوں’

‘مگر میں نہیں کرتا، آپ پلیزآئیندہ اس موضوع پر بات مت کرنا’
اس نے انتہائی کٹھور دلی سے مجھے مسترد کردیا- میرے پندار کو
سخت ٹھیس پہنچی تھی۔ فارغ اطہر کو بھلا آج تک ایسے
معشوقوں نے کیسے یکسر ٹھکرایا تھا۔

میرے اندر اس طرح سے مسترد کیے جانے پر جذبہ انتقام پیدا ہوگیا۔
اس کے بعد میں نے خیالوں میں اسے کئی بار روندا۔ اپنی وحشت کا
نشانہ بنایا اور اپنے کئی اور معشوقوں کو بستر پر سخت وحشت کا
نشانہ بنایا،وہ سب میری درشتی پر سخت حیران تھے اور اس دوران
سلینگ کا استعمال کرتے ہوئے میں نے کئی بار بدھا کا نام لیا، جسے
سن کر وہ حیرت سے مجھے تکا کرتے۔

فیضان بدھا کا جو حلقہ تھا، اس میں میرے کافی جاننے والے تھے۔
میں نے ان میں کافی گوسپ بدھا کے بارے میں پھیلائیں اور اس
کے کچھ لوگوں سے تعلقات کے فرضی قصّے کہانیاں بھی سنائیں۔
اور سب کو بتایا کہ فیضان باٹم گے ہے۔

میں اس کے بعد کئی بار اس شہر گیا لیکن فیضان بدھا سے کوئی
ملاقات نہ ہوسکی۔ لیکن مجھے اس دوران اس کے بارے میں اطلاعات
ملتی رہتی تھیں۔ بدھا نے ایم فل کرلیا ہے۔ بدھا کسی کالج میں پڑھانے
لگا ہے۔ بدھا فلاں این جی او سے منسلک ہوگیا ہے۔ اور پھر بدھا کے
ایک لڑکی سے افئیر کے قصّے عام ہونے لگے۔ لڑکی کو اس کے ساتھ میں
نے کئی تصویریوں میں دیکھا بھی اور تین چار سوشل میڈیا پر اپ لوڈ
ہونے والے ویڈیو کلپس میں بھی دیکھا۔ لڑکی قد میں اس سے بڑی تھی

اس کی آواز رانی مکھرجی جیسی تھی۔ اور اس کی چال مردانی سی تھی
مگر اس سے اس کے پیارے ہونے پر فرق نہیں آتا تھا۔ خوب گوری چٹی
اور نین نقش قیامت کے تھے۔ جینز کی پینٹ اور اوپر اکثر پیلے رنگ کی
یا سبز کلر کی کرتی اور خوب گھنے سیاہ بال شانوں پر لہراتے ہوئے۔
بادامی رنگ کی آنکھیں بھرا بھرا جسم کسی کے بھی دل کی دنیا کو زیر
و زبر کرڈالنے کے لیے کافی تھا۔ مجھے ان کے تعلق پر زرا بھی جیلسی
محسوس نہیں ہوتی تھی بلکہ اپنے کئی خوابوں میں ، ہم تینوں ایک
ساتھ نظر آئے۔

دن مہینوں میں اور مہینے سالوں میں بدلتے چلے گئے۔ ایک دن خبر آئی
کہ فیضان بدھا اور فاطمہ عروسہ رشتہ ازواج میں منسلک ہوگئے۔ مجھے
بہت سے لوگوں نے جھاڑ پلائی کہ تم تو کہتے تھے فیضان بدھا باٹم گے
ہے اور یہاں اس کی فاطمہ عروسہ سے شادی ہوگئی ہے۔ مجھے کافی
خجالت کا سامنا کرنا پڑا۔

میں فيضان بدھا کو جیسے بھول سا گیا تھا اور میں نے نئے معشوق دریافت
کرلیے تھے۔ سات سال بعد میں پھر اسی شہر گیا اور ایک ادبی کانفرنس
میں اپنے اسی دوست کے ساتھ شرکت کرنے گیا جس کے اپارٹمنٹ میں
سات سال پہلے میں ٹھہرا تھا۔ وہیں مصطفا گھالوانی کے ساتھ فیضان
بدھا سے آمنا سامنا ہوگیا۔ فیضان بدھا پر جیسے زمانہ ٹھہرا ہوا تھا،
اس میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی تھی۔ سات سال پہلے کا فیضان بدھا
میرے سامنے کھڑا تھا۔ علیک سلیک کے بعد باتیں ہونے لگیں۔

مجھے لگا کہ فیضان بدھا کے ہاں پہلے سا عدم التفات نہیں ہے۔
کانفرنس سے فارغ ہونے کے بعد میں نے ان کو اپنے ہوٹل چلنے
کی دعوت دی تو فیضان بدھا نے بھی قبول کرلی اور ہم سب وہاں
سے روانہ ہوگئے۔ ہوٹل روم میں پہنچنے کے بعد اچانک سے میرے
اندر سات سال پرانا جذبہ پھر جاگ اٹھا۔ میں بیڈ پر سرہانے کی
جانب سر کیے تھوڑا سا لیٹا ہوا تھا اور فیضان بدھا نے بیڈ میں پائنتی
کی طرف دیوار سے ٹیک لگا رکھی تھی۔ میں نے لگاوٹ کی باتیں کرنا
شروع کیں اور اسی دوران غیر محسوس انداز میں اپنا پیر اس کی کمر
کے ساتھ ٹکا دیا اور اپنے انگوٹھے سے اس کی کمر کو دبانے لگا۔ اس کے
چہرے پر بظاہر ایسے کوئی آثار نہ تھے جس سے پتا چلتا کہ اسے میری
حرکت ناگوار گزر رہی ہے۔ اس دوران وہ زیادہ تر میرے بحریہ ٹاؤن والے
دوست کی طرف متوجہ رہا اور اس سے باتیں کرتا رہا۔ اس نے اس کا فون
نمبر بھی لے لیا۔ میں نے فیضان بدھا کو رات کمرے میں ٹھہرنے کی پیشکش
کی جسے اس نے مسکراکر ٹالا اور کہا، پھر کبھی سہی۔ اور میرے دوست
کو کہنے لگا کہ کیا وہ اسے ملیر ہالٹ اتار دے گا۔ میرے دوست نے بخوشی
ایسا کرنے کی حامی بھر لی۔ یوں وہ سب رخصت ہوگئے۔

تین دن بعد جب میں اپنے دوست کا اپنے ہوٹل روم میں میں منتظر تھا،
دروازہ کھلا تو میرا دوست اور اس کے ساتھ فیضان بدھا داخل ہوئے۔
فیضان بدھا کے چہرے پر خوشی بکھری پڑی تھی۔ میرے دوست نے
بتایا کہ وہ بحریہ سے چلا تو ملیرہالٹ سے کچھ پہلے بدھا کا فون آیا
اور جب اسے پتا چلا کہ وہ صدر جارہا ہے تو اس نے اسے بھی ساتھ لے جان
ے کو کہہ دیا۔ میرے دوست نے بتایا کہ اسے کچھ دیر اس لیے ہوئی کہ
بدھا نے اسے صدر میں اللہ والی کالونی دکھائی، جس کی تنگ و تاریک
گلیاں میرے دوست کو بہت پسند آئیں۔ اور پھر اسے ایک قدیم سے
چائے کے ہوٹل سے چائے بھی پلوائی۔ میرا دوست جب یہ سب بتارہا تھا
تو فیضان بدھا کی آنکھوں میں فتحمندی سے سرشاری جھلک رہی تھی۔

میری چھٹی حس مجھے کچھ کاشن دے رہی تھی لیکن فیضان بدھا
کی وہاں موجودگی نے مجھے اس کاشن پر دھیان نہ دینے دیا اور ہم
سب باتوں میں مشغول ہوگئے۔ اس دن میں نے تھوڑی ہمت کی اور
بدھاکے ہاتھوں کو بوسہ دے ڈالا۔ میرا دوست اس پر کافی ہنسا اور
اس نے پیشکش کی کہ وہ وہاں سے جاسکتا ہے لیکن فیضان بدھا اس
پر راضی نہ ہوا۔ دونوں کچھ دیر بعد چلے گئے اور میں پھر خیالات
میں ڈوب گیا۔

میں نے جس دن واپس جانا تھا، صبح مجھے بحریہ ٹاؤن والے دوست
کی کال آگئی اور اس نے کہا کہ وہ بھی واپس چھٹیوں پر جارہا ہے۔
اس کی اپنی گاڑی ہے اور بائی روڈ سفر کرتے ہیں۔ میں نے بادل
نخواستہ اس کی بات مان لی۔ کیونکہ اتنا لمبا سفر میں تو کار
میں کر نہیں سکتا تھا۔ ہم دونوں شام کے وقت روانہ ہوئے۔

رات ہم نے حیدرآباد ٹھہرنے کا فیصلہ کیا۔ دوست ایک ہوٹل میں
ٹھہر گیا اور میں نے اپنے کزن کے گھر جانے کا فیصلہ کیا۔ اس سے
پہلے ہم کھانا کھانے ایک ریستوران میں گئے۔ ریستوران کے قدرے
پرسکون خاموش سے گوشے میں لگی میز کے گرد بیٹھ گئے۔ میرا
دوست گہری سوچ میں ڈوبا لگ رہا تھا۔ دوران سفر بھی وہ کھویا
کھویا سا تھا۔ میں نے کرید کی- پہلے اس نے ٹالا اور جب زیادہ
اصرار کیا تو اس نے جو بتایا اس نے مجھے حیران کردیا۔ پہلے
اس نے اپنا موبائل کھولا اور وٹس ایپ میسجز مجھے دکھائے
” آپ کی آنکھیں بہت خوبصورت ہیں، میں ان پر مر مٹا ہوں”

” آج ملیر ہالٹ تک کے سفر کے دوران جب کبھی آپ گئیر بدلنے کے
لیے ہاتھ کو حرکت دیتے اور مجھے چھو جاتا تو مجھے اپنے اندر
کرنٹ دوڑتا محسوس ہوتا اور ابتک میں اس نشے میں ہوں۔ آپ
کی آنکھوں نے مجھے جکڑ رکھا ہے”
“Love you Jani…..your eyes have mesmerizing effect”
” کیا ہم ریلشن شپ میں آ نہیں سکتے؟”

اس نے مجھے فیس بک پر اپنی اپ لوڈ تصویر کے نیچے اس کی آنکھوں
بارے ویسے ہی کمنٹ بدھا کی جانب سے دکھائے۔یار، یہ آدمی تو میرا
گھر برباد کردے گا۔ میں اسے انفرینڈ کردوں گا۔ اس نے انتہائی بیزاری
سے کہا۔
It is so disgusting ….. I am feeling vomiting like situation
‘کہہ رہا تھا کہ شادی کے ایک ماہ بعد ہی اس کے اور فاطمہ عروسہ کے درمیان
طلاق ہوگئی تھی’

اس کے بعد سارے راستے ہم نے اس موضوع پر کوئی بات نہیں کی۔ اور یوں
اس نے پھر مجھے میرے شہر چھوڑا اور خود وہ اپنے شہر کی طرف چلا گیا۔
سال بعد میں پھر اس شہر کی طرف گامزن تھا۔ میرے پاس اپنے بحریہ ٹاؤن
والے دوست کے اپارٹمنٹ کی فاضل چابی تھی۔ میں اپنے دوست کو سرپرائز
دینا چاہتا تھا۔

رات کے دو بج رہے تھے۔ دوست بتا چکا تھا کہ اس کے بیوی بچے پھر
تعطیلات گزارنے گئے ہوئے ہیں۔ میں نے آہستہ سے اپارٹمنٹ کی
چابی کي ہول میں گھمائی، دبے پاؤں اندر داخل ہوا ہی تھا کہ
مجھے بیڈ روم سے تیز تیز سانس لینے کی آواز آئی اور ایسے لگا
جیسے اندر دو لوگ ایک دوسرے کو چوم رہے ہوں۔

مجھے اس طرح سے اندر چلے آنے پر شرمندگی ہوئی اور میں
واپس پلٹنے لگا اور ابھی دو قدم چلا تھا کہ فیضان بدھا کی
جذبات بھری آواز ابھری(میں اس آواز کو بھلا کیسے بھول سکتا تھا)
Kiss me more and more, love me in a drastic way my blue-eyed baby……f…k and f..k with more power…..
میں نے باہر جانے والا دروازہ آہستہ سے کھولا اور اسے لاک کیا اور لفٹ
کی طرف بڑھتا چلا گیا۔


شیئر کریں: