“فیصلہ میرے لیے عزاب بن گیا” ایک اور جج کا اعتراف

شیئر کریں:

رپورٹ علیم عُثمان

” ماڈل ٹاؤن ایکسٹینشن میں ایچ بلاک شروع ہوا جہاں نوازشریف کے والد میاں شریف اور ان کے بھائیوں نے سات جڑواں پلاٹ خریدے۔
انہی کے سامنے میں نے بھی ایک چھوٹا سا پلاٹ خرید کے گھر بنا لیا اور پھر جنرل ضیاء الحق کو بھی وہاں آتے دیکھا اور پھر ‘ شریفوں ‘ کو جنرل صاحب سے فیض یاب ہوتے بھی دیکھا۔
” یہ تاثرات گورنمنٹ کالج لاہور کے سابق پروفیسر مظفر بخاری نے ایک روز قبل اپنے کالم میں درج کئے ہیں لیکن آگے جا کر انہوں نے ایک ایسا انکشاف کیا جس نے سوشل میڈیا میں ہلچل مچا دی ہے۔
لندن میں مقیم ڈاکٹر آمین مغل سے ہمراز احسن تک اور بی بی سی والے شاہد ملک سے ثقلین امام تک سیکڑوں لوگ اس پر کمنٹ کر چکے ہیں۔

پروفیسر بخاری لکھتے ہیں ” جسٹس (ر) مولوی مشتاق بھی ماڈل ٹاؤن کے B بلاک میں رہتے تھے ، ریٹائرمنٹ کے چند سال بعد وہ بہت لاغر ہو گئے تھے۔
چلنے پھرنے سے معذور تھے انہیں سرکاری سیکیورٹی ملی ہوئی تھی۔
حکومت کی طرف سے ججوں کو جو سیکیورٹی گارڈز ملتے ہیں انہی میں میرا ایک عزیز کانسٹیبل منیر (مرحوم) بھی تھا۔
اس کی وساطت سے میں ایک دن جسٹس صاحب سے ملاقات کرنے میں کامیاب ہو گیا۔
اپنا تعارف کروایا کہ گورنمنٹ کالج لاہور میں پڑھاتا ہوں بڑے تپاک اور محبت سے ملے تاہم لیٹے رہے۔
باتوں باتوں میں بھٹو مرحوم کا ذکر آ گیا وہ کچھ دیر کے لیے خاموش ہو گئے۔
چہرے پر اداسی کا تاثر تھا پھر فرمایا’’پروفیسر صاحب! چند دن کا مہمان ہوں۔ سوچتا ہوں اللہ کا سامنا کیسے کروں گا۔
بھٹو صاحب کے معاملے میں مجھ سے انصاف نہیں ہوا۔ دراصل میں کسی وجہ سے بھٹو صاحب سے ناراض تھا۔ اسی انتقامی جذبے کے تحت میں نے وہ فیصلہ دیا، جس کی یاد میرے لیے عذاب بن چکی ہے۔ ”

سابق چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ڈاکٹر نسیم حسن شاہ کے بعد سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کے (عدالتی) قتل یا مقدمہ قتل سے جڑے ججوں میں سے یہ پہلا جج ہے جس نے بھُٹو کو پھانسی کی سزا سنانے کی صورت میں ان کے ” عدالتی قتل ” کے حوالے سے” اقبال جرم ” کیا ہے یا جس کا اس حوالے سے کوئی اعتراف سامنے آیا ہے۔
اگرچہ جسٹس نسیم حسن شاہ کا ” اعتراف ” ان کی زندگی ہی میں اور براہ راست انہی کی زبانی سامنے آگیا تھا۔
جسٹس مولوی مشتاق کے محسوسات بالواسطہ اور وہ بھی ان کے انتقال کے ایک طویل عرصہ بعد سامنے آئے ہیں۔

سوشل میڈیا میں یہ اقتباس شیئر کئے جانے کے فوری بعد دنیا بھر سے سینئر صحافیوں، دانشوروں، سیاسی کارکنوں اور پرانے ” جیالوں ” کی طرف سے اس پر ردعمل آنا شروع ہوگیا جن میں سے کسی نے کہا کہ بھٹو کا قتل ایک انٹرنیشنل پلان کے تحت عمل میں لایا گیا اس لئے ایسے کرداروں کے ذاتی محسوسات کی کوئی اہمیت ہی نہیں تو کسی نے نہائت جذباتی انداز میں کہا ” جسٹس مولوی مشتاق کی لاش نکال کر اسے لٹکا دینا چاہیئے ” واضح رہے جسٹس مولوی مشتاق حسین کو سینیارٹی میرٹ پر ان کی باری کے باوجود اس وقت کے چیف ایگزیکٹو، وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے انہیں لاہور ہائی کورٹ کا چیف جسٹس نہیں بنایا تھا۔
بھٹو کا تختہ الٹنے کے بعد چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر جنرل ضیاء الحق نے انہیں اس بنچ کا سربراہ ” بنوا ” دیا جس نے قتل کے ایک مقدمے میں بھٹو کو پھانسی کی سزا سنائی کیونکہ یہ تاثر عام تھا کہ وہ بھٹو سے نفرت کرتے تھے اور بھری عدالت میں ان کے خلاف اپنے شدید جذبات کا اظہارِ کرتے رہتے تھے۔
یہ بات بھی عام تھی کہ اس ٹرائل کے دوران ان کے عدالتی چیمبر کو ” ہاٹ لائن ” فراہم کی گئی تھی جس کے ذریعے ان کا چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر جنرل ضیاء الحق سے براہ راست رابطہ ممکن تھا۔
یاد رہے ملکی تاریخ میں یہ پہلا قتل کیس تھا جسے ایک ایڈیشنل سیشن جج کی بجائے ہائی کورٹ کے 5 ججوں کے بڑے بنچ نے سنا اور تمام ملزمان کا ٹرائل محض ایک شریک ملزم (بھٹو) کی وجہ سے اعلیٰ عدالت کے لارجر بنچ میں ہوا، جس پر اعانت جرم کا الزام تھا۔
بنچ کے ارکان میں جسٹس اکرم اور جسٹس چوہدری صدیق بھی شامل تھے بالترتیب جن کے بیٹے ملک قیوم اور خلیل الرحمٰن رمدے اسی ہائی کورٹ میں جج لگے۔

یہ بھی یاد رہے کہ اس سارے عرصے میں جسٹس (ر) نسیم حسن شاہ اور جسٹس (ر) مولوی مشتاق حسین کے علاوہ جسٹس (ر) انوارالحق کو بھی کسی موقع پر یہ کہتے سنا گیا۔
“ہم پر انتہائی دباؤ تھا ہمیں بتادیا گیا تھا کہ اس کیس میں چھوڑ دیا تو کسی اور میں لٹکادیں گے” جسٹس انوارالحق سپریم کورٹ میں اپیل کی سماعت کرنے والے بنچ میں شامل تھا۔


شیئر کریں: