فوج مخالف بیان دینے والے طلال چوہدری کو لہولہان کر دیا گیا

شیئر کریں:

میاں محمد نواز شریف کی جانب سے ملکی سلامتی کے اداروں کے خلاف بجایا گیا طبل جنگ الٹا گلے پڑ گیا۔
لیگی رہنما بھی کہنے لگے ہیں کہ لندن سے فوج مخالف بیان کے ذریعے خود کو اینٹی اسٹیبلشمنٹ منوانے
کی ناکام کوشش کی گئی ہے۔
بہرحال کہتے ہیں نہ “جیسی نیت ویسے فرشتے” بالکل اسی طرح جیسی قیادت ویسے ہی رہنما۔
ن لیگ کے سابق وفاقی وزیر داخلہ طلال چوہدری نے اپنے عمل اور کردار سے اس محاورے کو من و عن
درست ثابت کر دیکھایا ہے۔
فوج اور عدلیہ کی مخالفت میں ہر حدیں عبور کرنے والے طلال چوہدری کو ان ہی کی جماعت کی
خاتون نے چھٹی کا دودھ یاد دلادیا۔
جڑانوالہ سے تعلق رکھنے والے سابق وزیر داخلہ طلال چوہدری اپنی ہی جماعت کے مرحوم رہنما
کی خوبرو اہلیہ پر فریفتہ ہیں۔
48 سالہ رجب علی بلوچ کا 13 مئی 2018 کو لاہور میں انتقال ہوا وہ طویل عرصے سے سرطان
کے مرض میں مبتلا تھے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ رجب علی بلوچ کی اہلیہ عائشہ رجب علی پر طلال چوہدری کافی عرصے سے نظریں
جمائے ہوئے تھے لیکن انتقال کے بعد سے کچھ زیادہ ہی قریب ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔
گزشہ روز عائشہ رجب علی کے بھائی نے فیصل آباد میں گھر بلوایا اور پھر ملازموں کے ساتھ مل کر خوب دھلائی کی۔
اس دوران پٹائی کی موبائل سے ویڈیو بھی بنائی جاتی رہی تاکہ موصوف مہمان نوازی کو فراموش اور جھٹلا نہ سکیں۔
طلال کا فون بھی ان لوگوں نے چھین لیا لیکن مارکٹائی کے بعد بے حد اسرار پر واپس کیا گیا۔
طلال نے پھر پولیس کو بلایا لیکن مار کھانے اور مارنے والوں نے معاملہ خود سے حل کرنے کا کہہ
کر پولیس کو واپس کر دیا۔
بدنامی کے خوف سے طلال نے گھر کی چار دیواری میں پٹائی کو ہی اپنی عافیت جانی۔
اس دوران انہوں نے میاں فاروق کے بیٹوں کو بلایا اور پھر معافی کے بعد وہ طلال کو اسپتال لے گئے۔
رجب علی خان کے انتقال کے بعد سے طلال ان کی بیوہ عائشہ کے پیچھے لگے ہوئے تھے۔
طلال اپنے بیوی بچوں کے باوجود عائشہ رجب علی سے شادی کے خواہش مند رہے ہیں۔
عائشہ کسی طور طلال میں دلچسپی نہیں رکھتیں ذرائع کہتے ہیں وہ کسی اور کو پسند کرتی ہیں
اس کا طلال کو بھی بخوبی علم ہے۔
سب کچھ علم میں ہونے کے باوجود طلال مہم جوئی پر نکلے جو انہیں فوج مخالف بیانات دینے سے بھی مہنگی پڑی۔
جڑانوالہ کے لیگی رہنما طلال سلامتی کے اداروں کے خلاف بیان بازی میں نواز شریف سے بھی آگے نکل جاتے ہیں۔

خواتین کے معاملے میں بھی طلال نے اپنی قیادت سے آگے نکلنے کی کوشش کی جسے بری طرح ناکام بنا دیا گیا۔
بدقسمتی سے ہماری سیاسی جماعتوں میں اس طرح کا غیر پارلیمانی چلن سرائیت کر چکا ہے۔
امید ہے طلال چوہدری کی چوہدرات کو چار چاند لگنے کے بعد دیگر رہنما بھی سبق حاصل کر لیں‌ گے۔


شیئر کریں: