فلسفہ کربلا اور ہم

شیئر کریں:

تحریر : محمد امنان

محرم الحرام اسلامی نکتہ نظر سے بالخصوص واقعہ کربلا کی نسبت سے اہل دل اور اہل ایمان کے ہاں بڑی ہی تکریم کا حامل مہینہ ہے کہ اس ماہ میں خانوادہ رسول (ص) نے دین خدا اور اپنے جد کی تعلیمات کی سربلندی کی خاطر بمعہ اہل و اعیال دین میں من گھڑت اور ممنوعہ چیزوں کی بہتات کی کوشش کرنے والے خود ساختہ خلیفہ وقت کے سامنے حق کی بات نہ صرف کہی بلکہ اپنے لہو کا خراج دیکر خداوند متعال کے دین کو سرفراز فرمایا

ماہ محرم کا آفاقی درس یوں تو وحدت اور اخوت کے ساتھ ساتھ خدائے واحد کی واحدانیت کو دل و جاں سے تسلیم کرنا اور مقدم رکھنا ہے لیکن وائے ہو کہ بجائے اسکے ہم ماہ محرم آتے ہی درس کربلا کے لئے تجدید عہد کریں ہم مختلف دستیاب فورمز پر ایام عزا کی تقدیس کی بجائے ایک دوسرے پر فتووں کی بوچھاڑ کو دین کی خدمت سمجھتے ہیں

واقعہ کربلا کو سمجھنے اور محسوس کرنے کی بجائے ہم ان دس دنوں میں ایک دوسرے پر کفر کے فتوے جھاڑنے سے بعض نہیں آتے کہیں لنگر و نیاز کی تقسیم پر اعتراضات ہیں تو کہیں درپردہ اس درس پر ہی اعتراضات کی بوچھاڑ کی جاتی ہے

دوسری تکلیف دہ بات جو میرے مشاہدے میں آئی وہ یہ کہ احترام و عقیدت کا فلسفہ سمجھنے کی بجائے خود نمائی اور خود پرستی کو ہم نے دل کی تشفی اور اپنے حصے کے فرض کی ادائیگی سمجھ لیا ہے جسکی واضح مثال مشہور زمانہ انٹرٹیمنٹ ایپ ٹک ٹاک ہے جس پر بیک گراونڈ میں نوحہ خوانی کے ساتھ شبیہات پر مختلف طرز کی ویڈیوز کی بھرمار لگا رکھی ہے خواتین ہوں یا مرد سبھی اس مای عزا کی حرمت کو سمجھے بغیر خود نمائی میں مصروف ہیں بجائے کہ خانوادہ رسول اکرم (ص) کی یاد میں گریہ کیا جائے انکی قربانیوں کے مقصد اور درس کو عملی طور پر اپنایا جائے ہم نے دکھاوے کے معاملات کو مقصد بنا رکھا ہے

نوجوان کس طرف نکل رہے ہیں سمجھ سے باہر ہے میرے بچپنے کے دنوں میں جب محرم الحرام کا آغاز ہوا کرتا تھا تو میری مرحومہ دادی خاص طور پر گھر کے ایک ایک فرد کو ہدایات دیا کرتی تھیں کہ سب کی کوشش ہو کہ پانی کم سے کم ضائع ہو ، بیبیاں پردے کا خاص خیال رکھیں، قرآن خوانی اور نماز کی پابندی کرو ، اونچی آواز میں بات مت کرو ، بچوں کو قہقہے لگانے پر ڈانٹ ڈپٹ ہوتی تھی

باقاعدہ احترام پیار اور ڈانٹ کر دونوں طریقوں سے سکھایا جاتا تھا لیکن آج کے وقت میں یہ سب معدوم ہوتا جا رہا ہے تحریر کا مقصد کسی پر فتوے تھوپنا یا دل آذاری نہیں ہے لیکن مجموعی روئیے اور سوشل میڈیا کی پوسٹس دیکھ کر اس حساس موضوع پر کی بورڈ چلا رہا ہوں

کہ امت خرافات میں کھو گئی آج ہم مختلف عقائد میں بٹ کر اصل مقصد اور درس کربلا سے دور ہوتے جا رہے ہیں

ہر ایک کا اپنا اپنا سچ ہے اور سبھی اپنے سچ کے ساتھ کھڑے ہیں جس گھرانے نے ہماری بقا کی خاطر اپنا سب کچھ لٹا دیا اس گھرانے کی شہادتوں پر بٹی ہوئی امت خدا سے رحمت کی طلبگار ہے عجب ماجرہ ہے بلکہ لکھنا چاہوں گا کہ عجب بد قسمتی ہے کہ جس دین معین کی خاطر نبی پاک (ص) کا گھرانہ شہید ہوا جن کے گھرانے کے 6 ماہ کے لعل کے ہم مقروض ہیں جن کے طفیل آذانوں کی صدائیں قائم و دائم ہیں انہی کے احترام اور غم کو لیکر بھی آپس میں اختلافات و بحثیں ہیں

شہید کربلا حضرت امام حسین (ع) کا قول مبارک ہے کہ
قال الامام الحسین علیہ السلام:
”ان المومن لا یسئی و لا یعتذر والمنافق کل یوم یسئی و یعتذر “
ترجمہ: حضرت امام حسین علیہ السلام فرماتے ھیں:
” مومن نہ برائی کرتا ھے نہ ھی عذر  پیش کرتا ھے جب کہ منافق ھر روز برائی کرتا ھے اور ھر روز عذر خواھی کرتا ھے “

پھر قرآن پاک میں بھی بار بار کھلے لفظوں حکم آیا ہے کہ

“مومنو اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رہو اور تفرقے میں مت پڑو”

بے شمار احادیث موجود ہیں خود آقائے دو جہاں رسول خدا(ص) کا فرمان مبارک ہے

’’اجتماعی وحدت کو اللہ کی تائید حاصل ہوتی ہے، جو کوئی جماعت سے جدا ہو گا وہ دوزخ میں جا گرے گا۔‘‘

اجتماعی وحدت اخوت اور بھائی چارے کا حکم بارہا دیا گیا ہے احکام خداوندی ، احادیث اور درس کربلا کے فلسفے کو سمجھے بغیر سوشل میڈیا پر انا کی تسکین کی خاطر بے دریغ کسی دوسرے عقیدے پر کاربند مسلم بھائی پر نہ صرف دین سے منحرف ہونے کا الزام لگا دیا جاتا ہے بلکہ عقائد کا مذاق بنایا جاتا ہے

بڑے ہی جید علما کرام اور سماجی شخصیات اپنے تئیں وحدت اور بھائی چارے کے فروغ کی تعلیمات کو عام کرتے رہتے ہیں ان دنوں فرقہ واریت پھیلنے کا خدشہ یوں بھی زیادہ رہتا ہے کہ اسلام دشمن عناصر ایسے موقعوں کی تاک میں رہتے ہیں اور ہمارے پڑھے لکھے نوجوان اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد اکثر اپنے نظرئیے کے دفاع میں ایسے جواز فراہم کر جاتے ہیں کہ جسکا نقصان ملت اسلامیہ کو اٹھانا پڑتا ہے

عقیدت و احترام ہر ایک کا ذاتی معاملہ ہے کسی پر اپنا نظریہ مسلط کرنا راقم کی غرض نہیں ہے البتہ جس بات سے تکلیف ہوتی ہے وہ یہ کہ ہم مذہبی، سیاسی اور سماجی طور پر بکھرے ہوئے لوگ ہیں اور یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ ہم اپنی غلطی تسلیم کرنے کی بجائے ڈھٹائی کا مظاہرہ کرتے ہیں

علما کرام اور دیگر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے ایسے افراد جن کے حلقہ احباب میں بات سننے والے لوگ کثرت سے موجود ہیں سے التماس ہے کہ خدارا اپنی نشستوں،مجالس محافل اور گفتگو کے سیشنز میں اخوت بھائی چارے کی تبلیغ کے ساتھ ساتھ بخدا اخلاقی تربیت اور اخلاقیات کی پختگی پر زور دیجئیے کہ ایسا کرنا وقت کی اہم ضرورت بھی ہے آئندہ آنے والی نسل کے لئے روشن راستہ متعین کرنے میں آسانی کا باعث بھی ہو گا


شیئر کریں: