فلسطین کے مسلمانوں کے ساتھ سیاہ فاموں سے بھی بدترین سلوک

شیئر کریں:

تحریر: عمید اظہر

مسلمان مخالف متعصب رویہ انگلینڈ ویسٹ انڈیز کرکٹ میچ کے دوران کھل کر سامنے آگیا۔
انگلینڈ کے کھلاڑی معین علی کو ٹیسٹ کے دوران فلسطین کے حق میں بینڈ پہننے سے روک دیا گیا۔
بقول انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کھیلوں کے دوران سیاست کی اجازت نہیں۔
اس کے برخلاف سیاہ فام شہریوں کے حقوق کی خاطر بلیک لائیوز میٹر مونو گرام والی ٹی شرٹس پہنی گئیں اور میچ کے آغاز پر گھٹنوں پر جھک کر سیاہ فام شہریوں سے اظہار یکجہتی بھی کیا گیا۔
یہ ہے آئی سی سی کا دوہرا معیار۔
کرکٹ کے میدان سے باہر فیشن کی دنیا پر نظر ڈالیں وہاں بھی یہی صورت حال ہے۔
مشہور انٹرنیشنل ماڈل بیلا حدید بھی دنیا کے دوہرے رویے پر شدید مایوس ہیں۔

عالمی سامراج نے فلسطین کا نام لینا جرم بنا دیا

بیلا نے انسٹاگرام پر والد کے فلسطینی پاسپورٹ کی تصویر شیئر کی جسے انسٹاگرام نے فوری ڈیلیٹ کردی۔
اس پر بیلا نے ردعمل دیا جو بنتا بھی ہے۔
بیلا نے سوال کیا؟ کیا فلسطینی ہونا جرم ہے جو انسٹاگرام نے والد کے پاسپورٹ کی تصویر ہٹائی؟
اسی طرح کشمیریوں کے ساتھ بھی ناروا سلوک روا رکھا جارہا ہے۔
امریکا سے اٹھنے والی سیاہ فاموں کی تحریک کی حمایت اور فلسطینیوں اور کشمیریوں سے متعصب رویے نے دنیا کا دوہرا معیار مزید عیاں کردیا ہے۔
دنیا بھر میں آباد مسلمانوں اور سیاہ فام شہریوں کی مجموعی تعداد میں زمین اور آسمان کا فرق ہے۔
امریکا میں سیاہ فام شہریوں کی تعداد صرف 13.4 فیصد ہے۔
لیکن سیاہ فام شہریوں نے اپنے اتحاد سے دنیا کی سوچ بدل دی، سب نے متعصابہ رویہ مسترد کیا اور ان کی آواز میں آواز ملائی۔
اب آجائیں مسلمانوں کی طرف جن کا حصہ دنیا کی 7 ارب کی آبادی میں تقریبا 2 ارب بنتا ہے۔
یہی نہیں بلکہ اسلام دنیا کا دوسرا بڑا مذہب بھی ہے۔
پیش گوئی یہ کی جارہی ہے کہ 2070 تک اسلام دنیا کا سے بڑا مذہب بن جائے گا۔
دنیا کی 25 فیصد آبادی مسلمان ہے۔
49 ممالک میں مسلمانوں کی اکثریت ہے۔
57ممالک میں اسلامی حکومت قائم ہے۔
یہ 57ممالک اسلامی تعاون تنظیم او آئی سی کا حصہ ہیں۔

فلسطین میں‌ سنچری ڈیل کے خلاف مظاہرے

اب سوال یہ ہے کیا یہ ستاون ممالک اپنے حقوق کے لیے آواز بھی نہیں اٹھا سکتے؟
چھیاسی لاکھ آبادی والا چھوٹا سا اسرائیل تقریبا دو ارب مسلمانوں پر بھاری پڑ رہا ہے۔
اسرائیل نے فلسطین کی سرزمین پر غیر قانونی ریاست قائم کر رکھی ہے اور مظلوم فلسطینیوں پر کشمیریوں کی طرح ظلم کر رہا ہے۔
اور مسلمان ممالک ہیں کہ ظلم کی مزمت کے بجائے قبضہ گروپوں کی حیثیت کو جائز قرار دینے کی کوششوں میں لگے ہیں۔
آخر ہم ہیں کون ؟
طاقتور ہوتے ہوئے بھی کمزور و ناتواں؟
شاید مسلمانوں کی مثال اس ہاتھی کی سی ہے جو چھوٹے سے کھونٹے کے ساتھ بندھا بندھا ساری عمر گزار دیتا ہے اور اسے اپنی طاقت کا اندازہ ہی نہیں ہوپاتا۔
یا پھر مسلمانوں کی تعداد ان مرغیوں کی طرح ہے جنہیں علم ہوتا ہے کہ ان کا ایک ساتھی قصاب نے ذبح کردیا ہے۔
اگلی باری ان کی ہے لیکن پھر بھی آرام سے دانہ کھاتے رہتے ہیں۔
اسرائیل نے 50 لاکھ فلسطینوں کو پنجرے میں بند کر رکھا ہے۔
عالمی ادارے فلسطینوں کی حالت زار پر چیخ رہے ہیں۔
انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں کے مطابق 82 فیصد فلسطیوں کو صاف پانی، کھانا، تعلیم اور صحت جیسی بنیادی سہولیات تک میسر نہیں۔
یہ سب تو ایک طرف مگر قابض اسرائیل معصوم فلسطینوں کے علاقوں رہے سہے علاقوں پر قبضے کے لیے تیار ہے۔
ویسٹ بینک پر مزید اسرائیلی بستیاں بسانے کی منصوبہ تیار کر لیا گیا ہے۔
مسلمان ملکوں کی کمزوری اور اختلافات کے سبب اسرائیل فلسطینی علاقوں پر مزید یہودی بستیاں بنا رہا ہے۔
اور اگر ویسٹ بینک کو مکمل طور پر اسرائیل میں شامل کرلیا جاتا ہے تو یہ فلسطین کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہو گی۔

کیا پاکستان کرکٹ ٹیم کشمیریوں کی حمایت والی ٹی شرٹ پہنے گی؟

فلسطین کے بعد چھوٹی کربلا مقبوضہ کشمیر پر نظریں ڈالیں تو انسانیت تھرتھرا جاتی ہے۔
بھارت میں موجود 27 کروڑ مسلمانوں کی صورت حال بھی کچھ مختلف نہیں۔ کبھی مذہب کے نام پر تو کبھی نام نہاد آپریشن کے نام پر مسلمانوں کی نسل کشی جاری ہے۔
مقبوضہ کشمیر کے بھارت میں غیر قانونی ضم کے بعد بھارتی شہریوں کو کشمیر کے ڈومیسائل جاری کیے جارہے ہیں۔
مسلمان نوجوانوں کو قابض فوج بے دردی سے شہید کررہی ہے مگر انصاف کے علمبرداروں کی طرف سے بیان تک جاری نہیں ہوتا۔
مسلم ممالک کو اپنے بھائیوں پر ظلم نظر نہیں آرہا کیوں کہ وہ ظالم ریاستوں کے ساتھ تجارت کو فروغ دینے میں مصروف ہیں۔
عرب ریاستوں کا فلسطین، مقبوضہ کشمیر اور بھارت میں مسلمانوں پر جاری ظلم و ستم پر کردار کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔
ایک طرف مسلمان مخالف قوتیں ان کی نسل کشی کر رہی ہیں تو دوسری طرف یہی عرب ممالک نہ صرف ان سے تجارت بڑھا رہے ہیں بلکہ انہیں اعلی سول ایوارڈز سے بھی نواز رہے ہیں۔
ان مسلم ریاستوں کو سوچنا ہوگا کہ آج دوسرے مسلمان بھائیوں پر ظلم ہو رہا ہے تو کل ظالم ریاستوں کے ہاتھ ان تک بھی پہنچ سکتے ہیں۔
اس ساری صورت حال میں مسلمان ریاستوں کو اپنی زمہ داریاں اور اخلاقی کردار ادا کرنے کے لیے آگے آنا ہو گا۔


شیئر کریں: