ففتھ جنریشن وار فیئر پاکستان پر مسلط کرنے کی سازشیں

شیئر کریں:

تحریر: عمید اظہر

دنیا بھر میں ان پچھلے کچھ عرصے سےففتھ جنریشن وار فیئر کا ذکر عام ہے۔
پہلی اور دوسری جنگ عظیم کی تباہ کاریوں سے کون واقف نہیں؟
اسی طرح عراق ، شام، یمن اور افغانستان کی تباہی سب کے سامنے ہے۔
لیکن اب گولہ بارود کے ساتھ ساتھ ففتھ جنریشن وار کو جوڑ دیا گیا ہے۔
ففتھ جنریشن وار فیئر کے ذریعے ملکوں کو اندر سے کھوکھلا اور کمزور کرنے کی سازشیں کی جاتی ہیں۔
ففتھ جنریشن وار فیئر کا مطلب شاید کم ہی لوگ جانتے ہوں گے۔
ففتھ جنریشن وار فیئر درحقیقت دور حاضر میں دشمن کے خلاف استعمال کیا جانے والا مہلک ہتھیار ہے جو کسی بھی ملک کی بنیادیں ہلا کر رکھ دیتا ہے۔
موجودہ دور میں جب دشمن آپ پر براہ راست حملہ کرنے کی طاقت نہ رکھتا ہو تو وہ ففتھ جنریشن وار فیئر کی حکمت عملی اپناتا ہے۔
ففتھ جنریشن وار میں دشمن ملک کے عوام کو فوج کے مدمقابل کھڑا کرنے کی سازش کرتا ہے۔
سوشل میڈیا کے استعمال سے ملک میں خانہ جنگی کی صورت حال پیدا کا جال تیار کیا جاتا ہے۔
فوج کو توڑنے کی کوشش بھی اسی جنگ کا حصہ ہوتی ہے۔
ففتھ جنریشن وار فیئر میں فوجیوں کو جنرلز سے بغاوت کے لیے اکسایا جاتا ہے۔ اور کوشش کی جاتی ہے کہ فوجی اپنی اعلی قیادت کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں۔

اس جنگ کے دوران نوجوانوں کو فوج کے خلاف بھڑکایا جاتا ہے اور جھوٹے پروپیگنڈا سے فوج کے خلاف نفرت بھڑکائی جاتی ہے۔
اسکولوں کا نصاب تبدیل کیا جاتا ہے اور نوجوانوں کو دشمن کی لکھی ہوئی تاریخ بتانے کی سازش کی جاتی ہے۔
پاکستان کو بھارت کی طرف سے اسی طرز کی جنگ کا سامنا ہے۔
ففتھ جنریشن وار فیئر کا لفظ پاکستان میں پہلی بار سابق ڈی جی آئی ایس پی آر میجرجنرل آصف غفور کی زبان سے مقبول ہوا۔
دشمن پاکستان پر ففتھ جنریشن وار مسلط کرنا چاہتا ہے۔
لیکن بھارت جانتا ہے کہ وہ پاکستان کی مسلح افواج کا کسی طور مقابلہ نہیں کرسکتا۔
بھارت اس سے بھی بخوبی آگاہ ہے کہ پاکستان کی بہادر افواج وطن عزیز کی حفاظت کے لیے ہمہ وقت تیار ہیں۔
بھارت بارڈرز پر پسپائی اور پراکسی وار میں شکست کے بعد پاکستان پر ففتھ جنریشن وار فیئر مسلط کرنے کی سازش کر رہا ہے۔
اس مقصد کے لیے بھارت کے الہ کار چند عناصر بیرونی فنڈنگ لے کر پاک فوج کے خلاف زہر اگل رہے ہیں۔
چند نادان سیاست دان بھی ذاتی مفاد کے لیے پاکستان کی مسلح افواج پر بلاجواز تنقید کر رہے ہیں۔
چند پرائیویٹ اسکولوں میں دشمن ملک سے متاثرہ تعلیمی نصاب پڑھایا جارہا ہے۔
تاریخ کو غلط انداز میں پیش کر کے عوام کو اپنے ہی محافظوں کے خلاف کھڑا کیا جانے کی سازش کی جارہی ہے۔
ملک میں فرقہ ورانہ اور لسانی تقسیم کے لیے سوشل میڈیا کو استعمال کیا جارہا ہے۔
ہمیں ان چند عناصر کا مقابلہ کرنا ہو گا اور پاک فوج کے ساتھ مل کر وطن عزیز کی حفاظت کرنا ہوگی۔
دنیا کی بڑی بڑی قومیں اپنے محافظوں کے شانہ نشانہ کھڑی نظر آتی ہیں۔ جرمنی اور جاپان کو دوسری جنگ عظیم میں شکست ہوئی لیکن وہاں کے عوام آج بھی فوج کے ساتھ کھڑے ہیں۔
امریکا کو ویتنام اور افغانستان جنگ میں ناکامی ہوئی مگر وہاں کے عوام اپنے محافظوں کے ساتھ ہیں اور انہیں عزت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔
آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ بھی اپنی تقریروں میں واضع کر چکے ہیں کہ دشمن کو پاکستان پر ففتھ جنریشن وار فیئر مسلط نہیں کرنے دیں گے۔
اپنے محافظوں کو عزت دینا ملکی سلامتی کے لیے بے حد اہم ہے۔
اگر کسی ملک کی فوج ختم ہوجائے تو اس ملک کا وجود ہی مٹ جاتا ہے۔
بین الاقوامی امور میں مقولہ مشہور ہے
“ہر ملک میں فوج ضرور ہونی چاہیے لیکن یہ فیصلہ عوام کا ہوتا ہے کہ فوج ان کی اپنی ہو یا دشمن کی فوج ان پر مسلط ہو”۔
پاکستان کے باشعور عوام دشمن کا ایجنڈا کسی صورت قبول نہیں کر سکتے۔
اور اپنے محافظوں کے ساتھ شانے سے شانا ملا کر کھڑا ہونا ہو گا۔


شیئر کریں: