فرانس میں ٹرانسپورٹ کی ہڑتال نے51سالہ ریکارڈ توڑدیا

شیئر کریں:

پیرس( علی اشفاق)

فرانس بھر میں ٹرانسپورٹ کی ہڑتال نے 51 سالہ ریکارڈ توڑ
دیا ۔ہفتے کے روز بھی پیرس میں احتجاج کرنے والوں پر پولیس
نے آنسو گیس کا استعمال کیا۔ یونین کے سربراہ نے ہڑتال
جاری رکھنے کا مطالبہ کیا ہے، فرانس میں جاری ہڑتالیں
1968 کی بدامنی کے بعد ملک کی طویل ترین ہڑتالیں ہے۔

حکومت کی مجوزہ پنشن اصلاحات کے خلاف 5 دسمبر کو
احتجاج شروع ہوا تھا جس کے نتیجے میں ایندھن کی قلت ،
بجلی کی کٹوتی ، نقل و حمل میں بڑے پیمانے پر خلل پڑا اور
اسکول بند ہوگئے۔ پیرس میں ہفتے کو پولیس نے شہر میں
بس ڈپو کی ناکہ بندی توڑنے کے لئے آنسو گیس کا استعمال
کیا جس کے باعث حکام اور یونینوں کے مابین تصادم ہوا۔

فرانس کے صدر ایمانویل میکرون نے مظاہرین کے مطالبات کو
ماننے سے انکار کردیا ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ فرانس کی 42
الگ الگ پنشن اسکیموں کو عالمگیر نظام میں شامل کرنے کا
متنازع منصوبہ مستقبل کی معاشی تباہی کو روکنے کے لئے
ضروری ہے۔

سی جی ٹی کے رہنما فلپپ مارٹنیج نے میڈیا سے گفتگو
میں کہا کہ ’’خودسے مطمئن صدر‘‘ یہ سمجھتا ہے کہ
اس ملک میں سب کچھ ٹھیک ہو رہا ہے ، ہمیں ایک
مضبوط انتباہی نشان بھیجنا ہوگا،ہم فرانسیسی عوام
سے مطالبہ کررہے ہیں کہ وہ متحرک ہوں ، مظاہروں میں
شریک ہوں اور ہڑتال کریں، یونینوں اور حکومت کے
مابین مذاکرات کا آغاز 7 جنوری کو ہوگا ،

جس کے بعد 9 جنوری کو مزید بڑے مظاہروں کا منصوبہ
بنایا گیا ہے۔ خلل ڈالنے کے باوجود ، حالیہ انتخابات میں
دکھایا گیا ہے کہ ہڑتالوں کے لئے عوامی حمایت مستحکم
ہے


شیئر کریں: