فارن فنڈنگ کیسز پاکستان کے سیاسی نظام اور عوام کے ساتھ مزاق

شیئر کریں:

جمعیت علمائے اسلام کو اب اپنی طرف بھی دیکھنا پڑے گا کیونکہ تحریک انصاف نے اسے
پھسانے کی تیاری کر لی ہے۔
پاکستان میں فارن فنڈنگ کا چرچہ عام ہے تحریک انصاف کے بعد اب تمام جماعتوں کے کیسز
کھلنا شروع ہو گئے ہیں۔

تحریک انصاف نے جمعیت علمائے اسلام ف کی فارن فنڈنگ کے خلاف درخواست تیار کر لی ہے۔
رکن قومی اسمبلی فرخ حبیب کی جانب سے درخواست جلد الیکشن کمیشن میں جمع کرائی جائے گی۔

درخواست میں کہا گیا ہے کہ جے یو آئی کے رہنما حافظ حسین احمد نے ٹی وی پروگرام میں لیبیا اور
عراق سے فنڈنگ لینے کا اعتراف کیا۔
حافظ حسین کے مطابق لیبیا کے صدر معمر قذافی اور عراق کے صدر صدام حسین سے ملنے والی فنڈنگ
کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں۔

مولانا فضل الرحمان اور پارٹی کے کئی سینیئر رہنما ماضی میں تواتر سے عراق اور لیبیا کا دورہ کرتے رہے ہیں۔
خیال رہے معمر قذافی اور صدام حسین دونوں ہی دنیا میں نہیں رہے دنوں ہی رہنماؤں نے سالوں اپنے عوام
پر ظلم کیے۔
مولانا شیرانی نے اپنی پارٹی کی مجلس شوریٰ میں معاملہ اٹھایا لیکن کوئی جواب نہ ملا۔
درخواست میں پولیٹیکل پارٹی آرڈینس 2002 اور 2017 کے تحت کارروائی کی استدعا کی گئی ہے۔

یاد رہے ملک میں بیرون ملک سے سیاسی جماعتوں کی فنڈنگ سے متعلق سب سے پہلا کیس تحریک انصاف
کے خلاف اس وقت منظر عام پر آیا جب ان ہی جماعت کے بانی رکن اکبر ایس بابر نے2014 میں الیکشن
کمیشن کو درخواست جمع کرائی۔

سات سال گزرنے کے باوجود اس کیس کا اب تک کوئی فیصلہ نہیں آیا لیکن پاکستان پیپلز پارٹی، مسلم لیگ ن
اور اب جمعیت علمائے اسلام کے کیسز ضرور کھل گئے ہیں۔

اب تمام جماعتوں کے کیسز کھول دیے گئے ہیں ملک میں ایک عجیب سے صورت حال پیدا ہو گئی ہے کہ
ایک کیس جو سات سال سے چل رہا ہے ابھی وہ تو مکمل ہوا نہیں لیکن مزید کیسز ضرور فائل ہو چکے ہیں۔
سیاست اور عدالتی نظام پر نظر رکھنے والوں کا ماننا ہے کہ اس طرح کیسوں کا منظر عام پر آنے کا مقصد نیے
این آر او کی تیاری ہے یا پھر کسی اور نظام کی بنیاد پڑنے والی ہے۔


شیئر کریں: