غیر یقینی صورتحال وزارت اطلاعات پریشان

شیئر کریں:

تحریر ندیم رضا
تحریک لبیک پاکستان کے لاہور دھرنے سے کیا حکومت کی بساط لپیٹے جانے کا آغاز ہو چکا ہے؟ پیپلز پارٹی، مسلم لیگ ن اور دیگر جماعتیں بھی میدان میں نکل آئی ہیں۔ مہنگائی کے نہ تھمنے والے سونامی کے آگے کیا حکومت بند باندھ پائے گی؟ مہنگائی اس قدر بڑھ چکی ہے کہ والدین بچوں کے ساتھ خودکشی کرنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔ پیٹرول اور ڈالر 200 روپے تک لے جانے کی باتیں کون لوگ کر رہے ہیں؟ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید اضافے، پاکستانی روپے کی متوقع مزید بے توقیری اور عوام کے قہر سے وزرا اور مشیروں کی فوج کیا حکومت کا بچا سکے گی؟ وزارت اطلاعات سے وابستہ اداروں کے افسران بھی موجودہ صورت حال سے پریشان ہیں کہ مشیروں کی فوج میں سے وہ کسے جواب دہ ہیں؟


ان جیسے بےشمار سوالات جو آپ کے زہنوں میں ہیں آج کی نشست میں ان پر زمینی حقائق کے ذریعے احاطہ کرنے کی کوشش کی ہے۔
تحریک انصاف کی حکومت یا 92 کرکٹ ورلڈ کپ کے فاتح کپتان عمران خان کی کارکردگی پر ملک بھر میں تنقید شدت پکڑتی جارہی ہے۔ بزنس مین ہو یا مزدور، سرکاری ملازم ہو یا نجی شعبہ کے ملازم،ملازمت لینے والے ہوں یا ملازمت دینے والے، رکشتہ ڈرائیور ہو یا بین الاصوبائی ٹرانسپورٹ کے ڈرائیور، سبزی بیچنے والے ہوں یا خریدنے والے، بال کاٹنے والے ہوں یا بال کٹوانے والے، خوشی ہو یا غم کی محفل، گھر خریدنے والا ہو یا بیچنے والا، عوام ہوں یا خواص، اپوزیشن کے کارکن ہوں یا تحریک انصاف کے ورکرز، ملک میں ہوں یا بیرون ملک پاکستانی سب ہی حکومت کی کارکردگی سے نالاں دیکھائی دیتے ہیں۔
عوام و خواس کے ساتھ ساتھ اب تو سیاست میں بائیس سال کی جدوجہد کا نعرہ لگانے والے عمران خان کو اقتدار تک پہنچانے والے بھی بدظن ہو چکے ہیں۔ اقتدار سے لے کر اپوزیشن کو ہلکی پھلکی موسیقی کے ساتھ رام رکھنے تک منیج کر کے دیا گیا۔ بڑھتی ہوئی مہنگائی، پارلیمنٹ میں طوفان بدتمیزی اور بدانتظامی پر بھی سال ڈیڑھ سال تک میڈیا میں تنقید نہ ہونے دی۔ پرنٹ ہو یا الیکٹرانک میڈیا، بااثر افراد ہوں یا ان سے وابستہ وہ بس یہی کہتے رہے کہ نواز شریف اور آصف زرداری نے ملک میں لوٹ مار کر کے اس کا بھرکس نکال دیا۔ پاکستانی عوام کی محنت و مزدوری اور خون پسینے کی کمائی، عالمی اداروں سے ترقیاتی کاموں کے لیے ملنے والا قرضہ اور امداد کا خطیر حصہ منی لانڈرنگ کے ذریعے بیرون ملک منتقل کر دیا گیا۔
ہم اٹھتے بیٹھتے بس یہی سنا کرتے تھے کہ بس اب کرپشن اور کمیشن کے داغ سے پاک عمران خان ان لٹیروں کا کڑا احتساب کرے گا۔ قومی خزانہ لوٹنے والوں سے پائی پائی کا حساب لیا جائے گا۔ بیرون ملک ان کے اکاؤنٹس سے اربوں ڈالرز واپس لائے جائیں گے۔ ساڑھے تین سال میں کتنے ڈالر واپس لائے گئے؟ جواب کوئی نہیں!
اسی طرح مہنگائی پر چور چور کی طرح شور مچایا گیا۔ سابق حکمرانوں کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے مہنگائی بڑھ رہی ہے۔ وزیراعظم عمران خان بار بار کہتے رہے گھبرانا نہیں یہ مہنگائی عارضی ہے۔ قوم کو بہتر مستقبل کے لیے قربانی دینا پڑے گی اور ہماری بہتر پالیسیوں کے سبب مہنگائی کم ہو جائے گی۔ ساڑھے تین سال میں مہنگائی کم ہونا تو کجا اس میں مسلسل اضافہ ہی ہوتا جارہا ہے۔ اب تو حد ہی ہو گئی ہے۔ پہلے ہفتوں میں قیمتیں پانچ یا دس روپے تک بڑھا کرتی تھیں لیکن اب تو ایک ہی جھٹکے میں 100 روپے تیل پر بڑھا دیا جاتا ہے۔ دوائیاں اور دیگر اشیا 300 گنا مہنگی کردی جاتی ہیں پھر بھی کہا جاتا ہے گھبرانا نہیں۔
ایسے میں وزیر اعظم کے وزرا کی فوج ظفر موج اور خصوصا وزیر اطلاعات فواد حسین چوہدری، مشیروں کی فوج، اشتہارات سے وابستہ افراد کی ٹیم اور پرنسپل سیکریٹری انفارمیشن سہیل علی خان سمیت ہی سب اچھا ہے کا راگ الاپنے میں مصروف ہیں۔
حکومت کی ناقص کارکردگی کو پرنٹ، الیکٹرانک اور سوشل میڈیا پر بہتر ثابت کرنے کے لیے وزیراعظم شعبہ اطلاعات میں وزارت خزانہ کی طرح کئی بار تبدیلیاں کر چکے ہیں۔
دونوں وزارتوں کی یہی زمہ داری رہی ہے کہ اتنا جھوٹ بولا جائے کہ وہ عمران خان کے صحر میں مبتلا اور مخالفین کو سچ لگے۔ کہتے ہیں نا کہ جھوٹ کے پیر نہیں ہوتے اور کچھ وقت کے بعد سب کچھ عیاں اور بے نقاب ہو جاتا ہے۔ بس اب ان کے چہرہ سے پردہ اٹھنا شروع ہو چکا ہے۔
حکومت کا دفاع کرنے کے لیے فواد چوہدری کے مدد وزیر مملکت فرخ حبیب کر رہے ہیں۔ ویسے تو وہ اپنے آپ میں ہی پوری ٹٰیم ہیں لیکن دوسروں کو بھی نوازنا ضروری ہے اسی لیے رؤف حسن، فہد ہارون، ڈاکٹر ارسلان، عمران غزالی اور دیگر بھی ٹیم کا حصہ ہیں۔ عمران غزالی جو ڈیزل ونگ کو ہیڈ کر رہے ہیں اس میں بیشتر بھرتیاں سیاسی بنیاد پر کی گئیں۔ پی ایچ ڈی کی نشست پر صرف گریجویٹ کی ڈگری رکھنے والے عمران غزالی کو فوقیت دی گئی۔ بہرحال وزیراعظم نے اپنا اختیار استعمال کرتے ہوئے انہیں منتخب کیا۔
عوام میں مثبت امیج قائم کرنے کے لیے یوسف بیگ مرزا اور طاہر اے خان بھی وزیراعظم کی ترجمانی کر چکے ہیں۔ شعلہ بیان ڈاکٹر شہباز گل بھی ان دنوں پروپیگنڈہ مشنری کا اہم ٹول بن چکے ہیں۔
عوامی سیاست کرنے والے ندیم افضل چند کو بھی وزیر اعظم کی ترجمانی کا منصب دیا گیا۔ انہوں نے دیگر وزرا اور مشیروں کی طرح مخالفین پر الزامات کی سیاست نہیں کی۔ کہا یہی جاتا ہے کہ وزیراعظم کو وہی لوگ پسند ہیں جو تحریک انصاف کے علاوہ تمام جماعتوں کی قیادت پر برس پڑیں۔ منہ کے ساتھ ساتھ ہاتھ چلانا پڑے تو اس بھی گریز نہ کیا جائے۔ ندیم چن کو جانتے ہیں انہیں معلوم ہے کہ وہ شخص اپنے اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کرتا اور کسی پر بے بنیاد الزامات نہیں لگاسکتا۔ یہی وجہ ہے کہ ناقص کارکردگی کا دفاع اور اپوزیشن رہنماؤں پر بے تنقید کے لیے زور دیے جانے پر انہوں نے وزارت سے استعفی دینے ہی میں عافیت جانی۔ کیوں کہ وہ ایسے شخص کی ترجمانی اور دفاع نہیں کرسکتے جو اپنی بات پر ہی قائم نہ رہ سکے۔
ندیم چن ہی نہیں بلکہ انفارمیشن گروپ اور وزارت اطلاعات کے افسران کے لیے بھی اس صورت حال میں کام کرنا انتہائی مشکل ہوچکاہے۔ وزرا اور مشیران کی بڑھتی ہوئی کے سبب وہ اکثر پریشان دیکھائی دیتے ہیں کہ وہ کس کی سنیں اور کسے پروٹوکول دیں۔
پرنسپل انفارمیشن آفیسر سہیل علی خان اور سیکریٹری انفارمیشن شاہیرہ کی اپنی کارکردگی بھی متاثر ہورہی ہے۔ حکومت اور وزرا کی کارکردگی کسی سے اب پوشیدہ نہیں رہی، خود کام کرتے ہیں نہ ہی کسی کو کام کرنے دیتے ہیں۔ ایک دوسرے سے رابط ہے اور نہ پالیسی بھی ایک ہے۔ ہاں بس سب ہی خود کو وزیراعظم سے قریب تر ہونے کا اظہار کرتے ہیں۔
ایسے میں پرنسپل انفارمیشن سیکریٹری سہیل علی خان کیسے سب کو خوش کرسکتے ہیں۔ ایسی صورت حال میں بھی سہیل علی خان حکومت کا امیج بہتر بنانے میں بہت محنت کر رہے ہیں۔ دن رات دفتری امور انجام دیتے رہتے ہیں۔ مصروفیت اتنی کہ فون اٹھانے تک کی فرست نہیں ملتی۔ انہیں آفیشل افسران کے ساتھ کچھ ان آفیشلز کو بھی رام کرنا ہوتا ہے۔
حکومت کی کارکردگی صفر ہو تو سہیل علی خان ہوں یا ترجمانوں کی فوج وہ مہنگائی کی وجہ سے گرتی ہوئی ساکھ کو کسی طور سنبھالا نہیں دے سکتے۔ ایسی صورت حال میں بھی حکومت سادگی یا کفایت شعاری پروگرام کا ڈھونگ رچاتے تھکتی نہیں۔
ان سب کا بس یہ ہی کام رہ گیا ہے کہ صبح شام اٹھتے بیٹھے نواز شریف اور آصف زرداری کو گالیاں دیں اور چور چور کو نعرہ لگاکے اپنی نااہلی چھاپئی جائے۔
ایسے میں تحریک لبیک پاکستان نے لاہور میں حکومت کے خلاف 12 ربیع الاول کی شام سے دھرنا دے دیا ہے۔ اپوزیشن جماعتیں بھی مہنگائی کے خلاف سڑکوں پر نکل رہی ہیں۔ عوام پہلے ہی سونامی سے پریشان ہو کر اپنا غصہ نکالنے کے لیے مچل رہے ہیں۔
وزیراعظم عمران خان سے لے کر وزرا اور مشیروں کی فوج کو بھی علم ہے کہ ان کے دن گنے جاچکے ہیں۔ ان سب کے چہرے لٹکے ہوئے ہیں کیونکہ انہیں اقتدار سرکتا ہوا دیکھائی دے رہا ہے۔


شیئر کریں: