غیر مسلموں کی نظر میں کربلا

شیئر کریں:

تحریر ندیم رضا
واقعہ کربلا اسلام کی تاریخ کا بے مثال واقعہ ہے۔حق و باطل کے درمیان اس معرکہ کو
دیگر مذاہب کے ادیبوں اور مفکرین نے بھی اپنے اپنے انداز میں خراج عقیدت پیش کیا ہے۔

نواسہ رسولؐ حسین ابن علیؑ کی قربانی کو صرف مسلمانوں کیلئے مخصوص و محدود سمجھنا حسینیت کو نہ سمجھنے کے مترادف ہے ۔ حسینیت انسانیت کی معراج، ہر رنگ و نسل کیلئے حق کا معیار، زندگی اور موت کو سمجھنے کا شعور ہے ۔
یہی وجہ ہے کہ دنیا کے گوشے گوشے میں ہر زبان ، ادب اور مذہب سے وابستہ انسان امام مظلوم ؑ کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔

فلسفہ کربلا اور ہم

لبنان کے مسیحی مصنف انتونی بارا کہتے ہیں امام حسینؑ تمام عالم کے امام ہیں کیونکہ وہ تمام مذاہب کا ضمیر ہیں۔بھارت کے اولین صدر ڈاکٹر راجندر پرساد بیدی لکھتے ہیں امام حسین کی قربانی کسی ایک ریاست یا قوم تک محدود نہیں بلکہ یہ بنی نوع انسان کی عظیم میراث ہے۔بنگال کے معروف ادیب رابندر ناتھ ٹیگورکہتے ہیں سچ اور انصاف کو زندہ رکھنے کے لئے فوجوں اور ہتھیاروں کی ضرورت نہیں، قربانیاں دے کر بھی فتح حاصل کی جا سکتی ہے، جیسے امام حسینؑ نے کربلا میں قربانی دی۔ بلاشبہ امام حسینؑ انسانیت کے لیڈر ہیں۔

حضرت زینب کے خطبات اور یزید کی رسوائی

معروف مصنف تھامس کارلائل لکھتے ہیں کہ کربلا کے المیے سے ہمیں سب سے بڑا سبق یہ ملتا ہے کہ حق اور باطل کی کشمکش میں تعداد کی برتری کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی اور بہادری کا جو سبق ہمیں تاریخ کربلا سے ملتا ہے وہ کسی اور تاریخ سے نہیں ملتا۔
ایک اور عیسائی دانشور ڈاکٹر کرسٹوفر اپنا نظریہ یوں بیان کرتے ہیں کہ کاش دنیا امام حسین کے پیغام، تعلیمات اور مقصد کو سمجھے اور ان کے نقش قدم پر چل کر اپنی اصلاح کرے۔

حضرت امام حسینؑ کے حوالے سے مبلغ ڈاکٹر ایچ ڈبلیو بی مورنیو نے اپنی عقیدت کچھ اس طرح قلم بند کی کہ امام حسینؑ صداقت کے اصول پر سختی کے ساتھ کاربند رہے اور زندگی کی آخری گھڑی تک مستقل مزاج اور اٹل رہے۔ ایسی روحیں کبھی فنا نہیں ہوسکتیں اور امام حسینؑ آج بھی انسانیت کے رہنمائوں میں بلند مقام رکھتے ہیں۔جے اے سیمسن کہتے ہیں حسینؑ کی قربانی نے قوموں کی بقاء اور جہاد زندگی کیلئے ایک ایسی مشعل روشن کی جو رہتی دنیا تک روشن رہے گی۔

جی بی ایڈورڈ کا کہنا ہے تاریخ اسلام میں ایک باکمال ہیرو کا نام نظر آتا ہے۔ آپ کو حسینؑ کہا جاتا ہے۔ آپ کے عظیم واعلیٰ کردار نے اسلا م کو زندہ کیا اور دین خدا میں نئی روح ڈال دی۔ اسلام کے یہ بہادر میدانِ کربلا میں شجاعت کے جوہر نہ دکھاتے تو آج دین محمدؐ کا نقشہ کچھ اور نظر آتا… یوں کہنا چاہیے کہ انسانیت کا نشان تک دکھائی نہ دیتا۔ ہر جگہ وحشت و بربریت اور درندگی نظر آتی۔

مہاراج یوربندسرنٹور سنگھ کہتے ہیں قربانیوں ہی کے ذریعے تہذیبوں کا ارتقا ء ہوتا ہے۔ حضرت امام حسینؑ کی قربانی نہ صرف مسلمانوں کے لیے بلکہ پوری انسانیت کیلئے ایک قابلِ فخر کارنامے کی حیثیت رکھتی ہے۔ آپ نے جان دیدی لیکن انسانیت کے رہنما اصولوں پر آنچ نہیں آنے دی۔ انڈین نیشنل کانگریس کے سابق صدر بابو راجندر پرشاد لکھتے ہیں کہ کربلا کے شہیدوں کی کہانی انسانی تاریخ کی ان سچی کہانیوں میں سے ایک ہے۔ آپ کو کبھی نہیں بھلایا جائے گا‘ نہ ان کی اثر آفرینی میں کوئی کمی آئے گی۔

سوامی شنکر اچاریہ نے بھی امام عالی مقام ؑ کو اپنے الفاظ میں یوں خراج
عقیدت پیش کرتے ہیں کہ اگر ؐامام حسینؑ نہ ہوتے تو اسلامی تعلیمات ختم ہو جاتیں اور دنیا ہمیشہ کیلیے نیک بندوں سے خالی ہوجاتی۔

مشہور افسانہ نگار منشی پریم چند لکھتے ہیں امام حسین سے بڑھ کر کوئی شہید نہیں، معرکہ کربلا دنیا کی تاریخ میں پہلی آواز ہے اور شاید آخری بھی ہو جو مظلوموں کی حمایت میں بلند ہوئی اور اس کی صدائے بازگشت آج تک فضائے عالم میں گونج رہی ہے۔


سکھ لیڈر سردار کرتار سنگھ نے اپنے احساسات یوں بیان کئے کہ ’’حضرت محمدؐ نے جو انسانیت کے بہترین اصول پیش کیے تھے امام حسینؑ نے اپنی قربانی اور شہادت سے انہیں زندہ کردیا۔

اردو ادب کے شہرہ آفاق نقاد پروفیسر گوپی چند لکھتے ہیں راہِ حق پر چلنے والے جانتے ہیں کہ صلوٰۃ عشق کا وضو خون سے ہوتا ہے اور سب سے سچی گواہی خون کی گواہی ہے۔ اسلام کی تاریخ میں کوئی قربانی اتنی عظیم‘ اتنی ارفع اور اتنی مکمل نہیں ہے جتنی حضرت امام حسین ابن علیؑ کی شہادت۔ کربلا کی سرزمین ان کے خون سے لہولہان ہوئی تو درحقیقت وہ خون ریت پر نہیں گرا بلکہ سنتِ رسولؐ اور دین ابراہیمیؑ کی بنیادوں کو ہمیشہ کیلئے سینچ گیا۔ وقت کے ساتھ ساتھ یہ خون ایک ایسے نور میں تبدیل ہوگیا جسے نہ کوئی تلوار کاٹ سکتی ہے نہ نیزہ چھید سکتا ہے اور نہ زمانہ مٹا سکتا ہے۔ اس نے اسلام کو جس کی حیثیت اس وقت ایک نوخیز پودے کی سی تھی‘ استحکام بخشا اور وقت کی آندھیوں سے ہمیشہ کیلئے محفوظ کردیا۔


شیئر کریں: