March 22, 2020 at 8:14 am

تحریر ممتاز علی ملک

ہم سب سننے کے ساتھ ساتھ دیکھ بھی رہے ہیں کہ دنیا میں اس خطرناک وائرس سے کس قدر تباہی ہو رہی ہے۔ 188 ممالک اس کی ذد میں آ چکے ہیں دس لاکھ سے دو کروڑ تک اموات ہو سکتی ہیں۔
اب تک اٹلی,چین, ایران اور اسپین سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔
چین میں اس وائرس کی سب سے پہلے نشاندہی کرنے والے ووہان شہر سے تعلق رکھنے والے آنکھوں کے 34 سالہ ڈاکٹر لی کو اور اس کی فیملی کو تضحیک کا نشانہ بنایا گیا اور اس سے الٹا پولیس نے پوچھ گچھ کی کہ دوبارہ اس طرح کی غلط اطلاع مت پھیلائے اور پھر سب نے دیکھا چین کو بھگتنا پڑا۔
اٹلی والوں نے بھی شروع میں سنجیدہ نہیں لیا آج وہاں پورا ملک فوج کے حوالے ہے اور 24 گھنٹوں کے دوران 900 افراد موت کے منہ میں جا چکے ہیں جہاں تعداد 5 ہزار کے قریب پہنچ چکی ہے۔
ایران میں حالات بہت ہی سخت اور خراب ہیں وہاں اب تک مرنے والوں کی تعداد 1556 تک ہو چکی ہے اسپین میں 1378 تک لوگ مر چکے ہیں۔

جب جنوری اور فروری میں ایران اور پاکستان اپنے دوست ملک چین کی حوصلہ افزائی کر رہے تھے اسی وقت اپنے ہاں بھی اس موذی مرض کے پھیلنے کو روکنے کی تدابیر اپنائی جا سکتی تھیں ایران نے بہت دیر کر دی ایرانی سائنسدانوں نے دو ہفتے پہلے حکومت کو کرونا کی پیشگی اطلاع دے دی تھی الیکشن کو ملتوی کرنا عقلی فیصلہ ہوتا اور پھر دوسراقدام انقلاب کی سالگرہ کے اجتماعات کو کینسل کرنا بنتا تھا لیکن نہیں کیا گیا چلیں اور کچھ نہیں تو قم اور مشہد کو لاک ڈاؤن کر دیا ہوتا اور اب وہاں بے وقت کی ٹکریں ماری جا رہی ہیں بہت زیادہ نقصان ہو چکا ہے کون ذمہ دار ہے پورا ملک لپیٹ میں ہے دشمندار اقوام تو بہت زیادہ محتاط ہو کر چلتی ہیں ہاں البتہ لوگ وہاں تیزی سے صحت یاب ہو رہے ہیں یہ ایک حوصلہ افزاء بات ہے.

اس مشکل وقت میں وزیر اعظم پاکستان وزیر خارجہ اور وزیر انسانی حقوق محترمہ شیریں مزاری صاحبہ کا عالمی برادری سے ایران پر سے پابندیاں ہٹائے جانے کے مطالبات قابل ستائش ہیں اور سندھ حکومت اب تک وسائل کے مطابق سب سے زیادہ اور معقول انتظامات کر رہی ہے۔

اسی طرح ہمارے ملک میں یورپ سے وطن واپس آنے والے کرونا کے مریضوں کی تعداد زائرین کی تعداد سے دس گنا زیادہ ہے ائیرپورٹ پر متاثرہ افراد کو چیک کرنے کا کوئی باقاعدہ نظام موجود نہیں ہے
میرا تو خیال ہے دہاڑی دار اور مریض افراد کا مقامی سطح پر تعین کر کے ان کے راشن اور ادویات کا خیال کیا جائے اور ملک میں لاک ڈاؤن کر دیا جائے اس سے پہلے کے دیر ہو جائے چین سے جس قدر ممکن ہو سکے اس کڑے وقت میں میڈیکل وسائل اور بچاؤ کی ماہرانہ مدد طلب کی جائے ہمارے پاس تو 2500 سے بھی کم وینٹی لیٹرز مشینیں ہیں جو کہ نہ ہونے کے برابر ہیں۔

روسی صدر کا اپنی قوم کو مختصر مگر واضح بیان ہم سب کے لئے بھی شاندار پیغام ہے۔
“روسی عوام کے پاس دو چوائسز ہیں پندرہ دنوں کے لئے اپنے گھروں میں بند ہو جائیں یا پھر پانچ سال کے لئے جیل میں بند ہو جاؤ ”

ایک اور بات کسی ثبوت کے بغیر یہودی سازش کا ڈھول پیٹنا بند کرنا ہو گا ورنہ لاکھوں افراد مذہبی جذبے اور غیرت ایمانی کو بچانے کے چکر میں بلاوجہ مارے جائیں گے۔

“نیچر میڈیسن” نامی اعلی تحقیقاتی سائنسی مجلے میں شائع ہونے والے مقالے میں علمی طور پر ثابت کیا گیا ہے کہ کرونا وائرس کسی لیبارٹری سے پیدا نہین ہوا بلکہ ایک قدرتی آفت ہے۔ ایسے میں سازش کی بے بنیاد بات کر کے لوگوں کو باہر نکالنا اموات کا سبب بن سکتا ہے
امریکہ برطانیہ فرانس کے ساتھ ساتھ اب
اسرائیل میں بھی یہ عالمی وبا پہنچ چکی ہے اور ایک ہلاکت ہو چکی ہے
یہ مقالہ ان پانچ سائنسدانوں نے مل کر تحقیق کرنے کے بعد لکھا ہے، اور اس تحقیق کو اٹلی چین ایران یا کسی اور ملک کے سائنسدان دوہرا کر اسکے نتائج کی تصدیق کر سکتے ہیں:
1. Kristian G. Andersen
2. Andrew Rambaut
3. W. Ian Lipkin
4. Edward C. Holmes 
5. Robert F. Garry

اس مقالے کا عنوان ہے
The proximal origin of SARS-CoV-2

بہتر یہی ہو گا جہاں تعلیمی و سماجی امور پر پابندی لگائی گئی ہے وہاں تمام تر مذہبی اجتماعات پر حکومت کے پابندی لگانے سے پہلے ہمارے مذہبی اکابرین کو خود پابندی لگا دینی چاہئے میں عراق سے دیے گئے مرجع وقت آیت اللہ سیستانی کے فتوے کو سرہاتا ہوں جنہوں نے بر وقت لوگوں کو اس خطرے سے احتیاط برتنے کے حوالے سے متنبہ کیا ہے وقت کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے اسماعیلی برادری کا اپنے جماعت خانے بند کرنا احسن اقدام ہے ہمیں بھی وقتی طور پر اپنے مذہبی اور سماجی امور اور اجتماعات جن میں

1۔ نماز جماعت
2۔ نماز جمعہ
3۔ مجالس عزا
4۔ جشن ولادت
5۔ جلوس عزا
6۔ ہاتھ ملانا
7۔ گلے ملنا
8۔ قریب ہو کر بات کرنا
9- نکاح اور شادی
10- غیر ضروری طور پر گھر سے باہر نکلنا
11- عرس میلے ٹھیلے
12- ہوٹلنگ اور شاپنگ

ان سب امور کو وقتی طور پر گھروں تک محدود یا پھر موخر کر دینا ہی حکیمانہ اقدام ہو گا.
کیونکہ مرض سے پیشگی بچاؤ کرنا عین تقوی کی شکل ہے.
پوری دنیا کی طرح ہمارا ملک بھی اس وقت غیر معمولی حالات سے دوچار ہونے جا رہا ہے عوام کو آگاہی دیں اور احتیاطی تدابیر پر عمل کرنے کی بار بار تلقین اور سختی کریں حکومت کی طرف سے اٹھائے گئے ہر عاقلانہ اقدام کی حمایت کریں ذمہ داری کا ثبوت دیں اور غیر سنجیدگی اور کھلنڈرے پن سے باہر نکلیں یہ نہ ہو کہ کہیں دیر ہو جائے کیونکہ یہ سب کا ایسا ذاتی مسئلہ ہے جو اجتماعیت سے جڑا ہے تماتر عوامی رائے عامہ کے لوگوں کو مصدقہ اطلاعات کے سوا کچھ بھی بات عوام میں نہیں پھیلانی چاہیے تمام سیاسی اور مذہبی جماعتوں کو چاہیے کہ اپنے اپنے چورن بیچنا بند کریں یہ وقت ایک دوسرے پر الزامات لگانے سے زیادہ ملکر اقدامات اٹھانے کا ہے کیونکہ ہمارا ملک اس صورتحال کا متحمل نہیں ہو سکتا…..!

Facebook Comments