غیرملکی کیوں 22 کروڑ عوام کی قسمت کا فیصلہ کرتے ہیں؟

شیئر کریں:

تحریر: ندیم رضا

پاکستان کے بائیس کروڑ عوام کی تقدیر کے فیصلے غیرملکی کرتے ہیں۔
وزیرا عظم عمران خان کے معاونین خصوصی ٹیم کے 5 کھلاڑی امریکا، کینیڈا اور برطانیہ کی شہری ہیں۔
لیکن یہاں تو بڑے بڑے افسران جو اعلی عہدوں پر فائز ہیں امریکا، برطانیہ ، کینیڈا، یورپ اور دیگر ممالک کی شہریت رکھتے ہیں۔
ان میں گریڈ بائیس یعنی وفاقی سیکریٹری سطح کے بڑے بڑے نام بھی شامل ہیں۔
یہ وہ افسران ہیں جو انتہائی حساس نوعیت کے اجلاسوں میں شریک ہوتے ہیں۔

وزیراعظم کے معاونین اور بیوروکریسی میں غیر ملکی کس نے لگوائے؟ بہت کچھ جانیے سینئر صحافی ندیم رضا سے

جہاں ملک و قوم سے متعلق اہم فیصلے کیے جاتے ہیں ایسے میں ہماری سیکریسی کیسے سیکریٹ رہ سکتی ہے؟
ہماری سلامتی کا مشیر بھی غیر ملکی کو لگایا ہے انہیں کس نے اہم عہدے پر لگایا؟
ایسے افراد کی سیکیورٹی کلیئرنس کیسے ہو جاتی ہے؟
ایسے میں سپریم کورٹ نے واضح حکم دے رکھا ہے کہ دوہری شہریت والے بیوروکریٹس عہدہ چھوڑیں یا غیر ملکی شہریت چھوڑیں۔
اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلوں پر عملدرآمد میں کون رکاوٹیں ڈال رہے ہیں؟
ایسی صورت حال میں ہمارے وزیر اعظم عمران کان کیا کر رہے ہیں؟

عمران خان ناکام سیاست دان تھے، انہیں ہم نے مضبوط کیا، اکبر ایس بابر

دیکھنا اور جاننا ضروری ہے کہ ملک کا سسٹم خراب ہے یا اس سسٹم کو چلانے والوں کی وفاداری مشکوک ہے۔
کیوںکہ وہ پاکستان کے ساتھ ساتھ کسی اور کے بھی وفادار ہیں اور ان سے وفادار رہنا شائد ان کی مجبوری اور کمزوری ہے۔
کیا ہماری بھی کوئی مجبوری یا کمزوری ہے کہ ایسے ہی غیرملکی افسران سے اپنی قسمت کے فیصلے کرانے ہیں۔
اب سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ امریکا، ہو یا کینیڈا، یورپ برطایہ آخر انہوں نے پاکستان کے ان لوگوں کو اپنی شہریت کس بنیاد پر فراہم کی ہے؟
پھر یہاں اسی سے جڑے اور بھی سوال جنم لیتے ہیں کہ کیا یہ افراد ان کے لیے مفادات کے لیے کام نہیں کر رہے ہیں کیا ان پر بھی کسی کی نظر ہے؟
اگر یہ ان کے مفادات کا تحفظ یہاں کر رہے ہیں تو پھر پاکستان کے عوام کے مفادات کا تحفظ کون کر رہا ہے؟
آج پاکستان میں کتنے سرکاری افسران اعلی عہدوں پر فائز ہیں جو امریکا، کینیڈا، برطانیہ، یورپ اور دیگر ممالک کی شہریت رکھتے ہیں لیکن حکمرانی پاکستان کے عوام پر کرتے ہیں۔
سپریم کورٹ کے دوہری شہریت سے متعلق واضح احکامات ہیں اس کے باوجود سرکاری افسران اور مشیر لگا دیے گئے ہیں۔
امریکا یا کینیڈا کی شہریت والا کیسے پاکستان کے مفادات کا تفظ کرے گا جبکہ اس نے غیر شہریت کا حلف اٹھا رکھا ہوتا ہے۔
بات یہ ہے کہ انہیں کون اعلی عہدوں پر لگواتا ہے؟
حکمرانی کے لیے انہیں امریکا، کینیڈا، لندن اور دیگر ممالک سے بلواتے ہیں؟

‘بنی گالہ اسٹیبلشمنٹ’ نے آخری لمحوں میں بزدار کو کن شرائط پر بچایا؟

جبکہ مقامی لوگوں کو ترجیح دینی چاہیے جن کا مرنا جینا ہی ملک میں ہو۔
یہی وجہ ہے کہ چھاتہ برداروں کو بار بار مسلط کرنے کی وجہ سے ملک ترقی نہیں پا رہا ہے۔
حفیظ شیخ لگتا ہے آئی ایم ایف کے پسندیدہ کھلاڑی ہیں جو ہر دور میں پاکستان کے خزانے کی رکھوالی کرتے ہیں۔
اسی طرح اسٹیٹ بینک کے گورنر رضا باقر کو بھی درآمد کیا گیا ہے۔
معین قریشی اور شوکت عزیز دوہری شہریت کے ساتھ ملک کے وزیر اعظم رہ چکے ہیں۔
اسی طرح حکومت کے پندرہ میں سے پانچ معاونین خصوصی غیر ملکی نکلے ہیں۔
تانیہ ایدروس کینیڈا، سنگاپور، ذلفی بخاری برطانیہ، شہباز گل، شہزادہ سید قاسم اور ندیم بابرامریکی شہری ہیں۔
افضل ندیم چند کے بارے میں کہا جارہا ہے کہ وہ بھی کینڈا کی شہریت رکھتے ہیں لیکن انہوں نے سختی سے تردید کر دی ہے۔
مسلم لیگ ن کے دور حکومت سے پہلے اقاموں کا سلسلہ چلا تھا عمران خان اور ان کی ٹیم اس پر بڑی تنقید کیا کرتے تھے لیکن اب ان کے ارد گرد امریکی اور برطانوی شہریت رکھنے والے لوگ لگے ہوئے ہیں۔

معاونین خصوصی اور مشیروں کی تعیناتی معطل

بائیس کروڑ عوام کے ملک کی باگ دوڑ چلانے والی بیوروکرسی کے اعلی ترین افسران کی وفاداری دوسرے ملکوں کے ساتھ جڑی ہوئی ہے۔
یہ لوگ ہماری اور ہماری آنے والی نسلوں کے بہتر مستقبل کی منصوبہ کیسے کریں گے؟
انہیں بہتر مستقبل امریکا اور کینڈا میں نظر آرہا ہے۔
ایسے افسران کی فہرست بڑی طویل ہے۔
سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی رپورٹ کے مطابق ان میں احمد نواز سکھیرا، نوید کامران بلوچ، رابعہ آغا،
عشرت علی، سمیرا نذیر صدیقی، ذوالفقار احمد گھمن، احمد مجتبیٰ میمن اور سید اعجاز حسین شاہ اس طرح کے بہت سے نام ہیں۔
جمعیت علمائے اسلام کے رہنما اور سابق سینیٹر حافظ حمداللہ کی شہریت کا تنازعہ بھی چلا۔
اس سے اندازہ لگا لیں وہ سینیٹر بھی بن گئے اور حکومت مخالف بیانات پر ان کی دوسری شہریت کا کہہ شناختی کارڈ منسوخ کر دیا گیا۔ اس کا مطلب ہے کہ کوئی بھی غیر ملکی پاکستان میں سینیٹر اور اسمبلی کا رکن بن سکتا ہے؟
دوسری جانب آسٹریلیا میں دوہری شہریت پر نائب وزیر اعظم کا انتخاب غلط قرار دے دیا جاتا ہے۔
انہیں پھر اپنی نیوزی لینڈ کی شہریت چھوڑ کر دوبارہ الیکشن لڑتا پڑتا ہے۔
لیکن ہمارے ملک میں تو امریکی شہریت رکھنے والے کو سلامتی کا مشیر لگا دیا جاتا ہے۔
اب سوال ان پر بھی اٹھتا ہے کہ ان افراد کی سیکیورٹی کلیئرنس کون دیتا ہے؟
قانون موجود ہے اور اس پر عملدرآمد نہ کرایا جانا سنگین جرم نہیں؟ ایسے افراد کے خلاف کارروائی کون کرے گا؟


شیئر کریں: