غیرملکی پاکستانیوں‌ کو فیس بک کے ذریعے شادی کے نام پر لوٹنے لگے

شیئر کریں:

اسلام آباد سے احمد چوہان

فیس بک پر ہر آنے والی دوستی کی دعوت آپ کو زندگی بھر کی جمع پونجھی سے محروم کر سکتی ہے خوبرو
دوشیزاؤں کے فیس بک اکاونٹس پاکستان میں کون چلا رہا ہے؟ خبروالے نے کھوج لگا لیا.

ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ کے مطابق نایجیرین باشندوں کی گرفتاری میں اہم انکشافات سامنے آئے ہیں. ایف آئی اے
نے خفیہ اطلاع پر سیکٹر ایچ تیرا میں کارروائی کے دوران میزو ایوان، چکوما وکٹر اور بینارڈ ایبوسی کو رنگے ہاتھوں
گرفتار کیا ہے.

ڈپٹی ڈائریکٹر سائبر کرائم ونگ ایاز خان کا کہنا ہے یہ تینوں غیر ملکی فیس بک پر خوبرو لڑکیوں کے اکاؤنٹ بنا کر
لڑکیوں میں دلچسپی رکھنے والے فیس بک صارفین کو رومانوی باتیں کر کے پھنساتے تھے. ظاہر کیا جاتا تھا کہ بظاہر
فیس بک کا اکاؤنٹ بیرون ملک کی ایک لڑکی کا ہے جو غیر ملکی فوج میں اعلیٰ عہدے پر ہے اور امن مشن پر شام یا
یمن میں موجود ہے. اسے ایک کنوارے نوجوان کی تلاش ہے.. جب نوجوان اس کے جھانسے میں اجاتے تھے تو انہیں
محبت کے جال میں پوری طرح پھنسا لیا جاتا تھا.

انہیں اپنی محبت بھری باتوں کے جال میں جب پوری طرح پھنسا لیا جاتا تو غیر ملکی لڑکی کے اکاؤنٹ کو استعمال
کرتے ہوئے فیس پر دوستی کرنے والے کو شادی کی پیشکش کی جاتی تھی اور کہا جاتا تھا کہ غیر ملکی فوج کی یہ
اعلیٰ افسر تین ملین ڈالر کی مالک ہے اور اس کے اکاؤنٹ کی یہ رقم پاکستان کسی فلاحی کام کے لیے استعمال ہونی
ہے یہ رقم اس سے محبت کرنے والے کو منتقل کی جائے گی.
ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ کے انسپکٹر میاں عرفان کا کہنا ہے فیس بک صارف کو پوری طرح اپنے میں پھنسانے
کے بعد یہ نائجیرین باشندے اپنے فیس بک اکاونٹس شکار کو یہ کہتے ہیں کہ رقم اس کے اکاؤنٹ میں منتقل کی جا رہی ہے.

تین ملین ڈالر اور ایک لڑکی کا لالچ فیس بک صارف کو اندھا کر دیتا ہے. اس لالچ میں آکر فیس بک صارف اپنا سب کچھ
لٹانے پر آمادہ ہو جاتا ہے. جس کے بعد انہیں کہا جاتا ہے کے رقم ان کے اکاؤنٹ میں منتقل نہیں کہ کا سکتی جب تک یہ
اس رقم کو لینے کے لیے اس کا کسٹم جس کی مالیت 6 لاکھ روپے ہے یہ منتقل نہیں کر دیتا. فیس بک صارف ان کی
باتوں میں آجاتا ہے اور یہ رقم ایک اکاونٹ میں منتقل کر دی جاتی ہے.

انسپکٹر میاں عرفان کے. مطابق یہ رقم بھی ایک ایسے اکاؤنٹ میں منتقل کی جاتی ہے جس کے لیے انہوں نے ایک
ایسا شخص تیار کیا ہوتا ہے جس کو نائجیرین غیر ملکی باشندوں کی جانب سے پہلے ہی لالچ دیکر اپنے جال میں پھنسایا
ہوا ہوتا ہے.. یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جنہیں یہ کہہ کر اپنے گینگ میں ان ملزمان نے شامل کیا ہوا ہوتا ہے کہ پاکستان
میں کاروبار کے لیے انہیں ایک پاکستانی کی ضرورت ہے جو ان کے کاروبار میں پارٹنر کے طور ان کی معاونت کرے گا.

اس کے لیے ان کا شکار وہ لوگ ہوتے ہیں جن سے یہ سبزی فروٹ کی خریداری اور ٹیکسی سروس کے لیے استعمال کرتے
ہیں. یہ مرغے ان کے جال میں پھنسے ہی‍ں تو لالچ کی دلدل میں انہیں یہ اندازہ ہی نہیں ہوتا کہ یہ جرم کے بھنور میں
دھنستے چلے جا رہے ہیں.. تیس لاکھ ڈالر کے چکر میں محبت کی کشتی میں غوطے لگانے والے یہ سمجھتے ہیں کہ
اپنی ہمسفر محبوبہ کے ساتھ ان کہ زندگی کا سفر دولت کے سمندر می‍ں خوشگوار ہونے والا ہے اور یہ محبت کے
مارے چھ لاکھ روہے ادا کر دیتے ہیں..

تیس لاکھ ڈالر کے لالچ میں چھ لاکھ روپے غیر ملکی کسٹم کی ادائیگی کے لیے لالچ کے ماروں کے لیے کوئی بڑی بات
نہیں ہوتی. اس کے بدلے میں اگر گوری چمڑی والی مل جائے تو اس سے بڑی ڈیل کیا ہوگی؟ یہی سوچ کر پاکستانی فیس
بک صارف اپنی تمام جمع پونجھی اس گوری کے لیے لٹا دیتے ہیں. یہی سے شروع ہوتا ہے اس کالے گینگ کا کام.. جو
رقم اینٹھتے ہی اپنی اگلی چال پر کام شروع کر دیتا ہے.

سبزی والا، ٹیکسی والا یا دوکاندار ان نائجیرینز کے ساتھ ڈیل کرنے کے بعد اپنا دس فیصد حصہ نکال بقیہ رقم ان غیر ملکی باشندوں کے حوالے کر دیتا ہے.. اس کے بعد یہ باشندے یہ کہہ کر اس صارف سے مزید رقم کا مطالبہ کرتے ہیں کہ منہ لانڈرنگ اور پاکستان کسٹم کو بھی ادائیگیاں کرنی ہیں.. تیس لاکھ ڈالر پاکستان پہنچ گئے ہیں..اگر رقم چاہیے تو چھ لاکھ روپے کی مزید ادائیگی کرنی ہوگی.. غیر ملکی لڑکی کا اکاؤنٹ ہو اور محبت کا جھانسا پوری طرح سراعیت کرچکا ہو تو کہا کسی کی بات سمجھ میں آتی ہے؟؟ یہی کچھ ہوتا ہے ایسے فیس بک صارفین کے ساتھ بھی.. رقم ادا کرتے ہی یہ ڈیجیٹل عاشق اپنی محبت اور اس کے بھیجے ہوئے تیس لاکھ ڈالر کا انتظار کرنے لگتے ہیں.. مگر وہ دن کہی نہیں آتا جب رقم ملے یا غیر ملکی فوجی افسر..
ڈپٹی ڈائریکٹر ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ ایاز خان کا کہنا ہے کہ بیوقوف بننے والے صارفین کا کہنا ہے کہ اس گینگ کی جانب سے ایسا جال بنا جاتا ہے کہ اندازہ لگانا مشکل ہو جاتا ہے ان خوبصورت دوشیزاؤں کے چہرے استعمال کرنے والے اصل میں یہ نائجیرین باشندے ہیں..
ایف آئی اے نے پاکستان میں اس غیر ملکی گروہ کے لیے کام کرنے والے پاکستانیوں کے خلاف تحقیقات کے لیے بھی گھیرا تنگ کر دیا ہے.. اسی لیے گرفتار ہونے والے ٹیکسی ڈرائیور کا نام بھی صیغہ راز میں رکھا گیا ہے..
ایف آئی اے سائبر کرائم نے تحقیقات کا دائرہ وسیع کرتے ہوۂے غیر ملکیوں کے اس نیٹورک کے خلاف گھیرا تنگ کر لیا ہے.


شیئر کریں: