غیرملکی ماڈل کی 8 سال کی سزا کالعدم ڈھائی سال بعد رہا

شیئر کریں:

لاہور ہائیکورٹ نے غیر ملکی ماڈل ٹریزا کو ڈھائی سال بعد رہا کرنے کا حکم دے دیا۔ عدالت نے ماڈل گرل کی ساڑے آٹھ سالہ قید کی سزا کو کالعدم قرار دے دیا۔
لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس علی باقر نجفی کی سربراہی پر مشتمل دو رکنی بینچ نے اپیل پر سماعت کی۔ ماڈل ٹریزا کے وکیل نے بتایا کہ غیر ملکی ماڈل گرل ٹریزا کو حقائق کے برعکس گرفتار کیا گیا، ٹریزا کی گرفتاری کے وقت قانونی طریقہ کار کو نظر انداز کیا گیا، ٹرائل کورٹ نے ٹریزا کو حقائق کے برعکس ساڈھے آٹھ سال قید کی سزا سنائی۔ عدالت نے کارروائی کرتے ہوئے ماڈل ٹریزا کو رہا کرنے کا حکم دے دیا۔
ماڈل ٹریزا کو لاہور ائیرپورٹ سے دسمبر 2018 کو گرفتار کیا گیا تھا۔ ٹریزا کے خلاف کسٹم حکام نے مقدمہ درج کیا۔ لاہور سیشن کورٹ نے ماڈل ٹریزا کو اپریل 2019 میں قید کی سزا سنائی۔ ٹرائل کورٹ نے شریک ملزم حفیظ کو عدم شوائد کی بنیاد پر بری کیا گیا تھا۔ جس کے بعد ماڈل ٹریزا کوٹ لکھپت جیل میں قید تھی اور لاہور ہائیکورٹ میں اپیل دائر کر رکھی تھی۔


شیئر کریں: