غزہ پر اسرائیلی جارحیت، جنگی اخراجات اور داخلی دباؤ

تحریر محمد رضا سید
اسرائیل نے عالمی دباؤ اور داخلی صورتحال کے پیش نظر غزہ پر جارحیت کا سلسلہ عارضی طور پر بند کیا ہے، یہ عارضی جنگ بندی پیر کی شب ختم ہوجائیگی جبکہ اس وقت اسرائیل شدید سیاسی بے چینی کا شکار ہے،تل ابیب میں ہزار وں اسرائیلی شہریوں نے وزیر اعظم نیتن یاہو کے خلاف مظاہرے کئے ہیں کیونکہ غاصب اسرائیلی حکومت غزہ پر ہفتوں مسلط کی گئی جنگ کے مقاصد کو حاصل کرنے میں ناکام رہی اور جبری طور پر محاذ جنگ پر بھیجے گئے اسرائیلی نوجوانوں کے والدین مشتعل ہوتے جارہے ہیں
اسرائیلی شہری سمجھتے ہیں کہ نیتن یاہو کی حکومت کی جنگ پسندی نے بحران کو بے قابو کردیا ہے جبکہ عارضی جنگ بندی نے یہودی ریاست کو گھٹنوں کے بل کھڑا کردیا ہے اس صورتحال میں کہ حماس اور القسام کے ہاتھ میں ترپ کے پتے ہیں ، غزہ پر وحشیانہ جارحیت کیلئےغاصب اسرائیل نے جھوٹ پر انحصار کیا مگر غزہ میں مرتے ہوئے انسانوں بالخصوص معصوم بچوں کی چیخوں نے آسمان کو بھی رونے پر مجبور کردیا۔
اسرائیلی جھوٹ کی قلعی کھلتے ہی مغربی دنیا میں اسرائیل مخالف عظیم الشان مظاہروں نے تل ابیب کو مغربی دنیا میں اجنبی بنادیا اوریقیناً مغربی حکومتوں پر اپنی رائے عامہ کے اثرات پڑے، جن مغربی حکومتوں نے ٧ اکتوبر کے بعد تل ابیب کی یاترا کی اور اسرائیل کو وحشیانہ طرز عمل اپنانے کیلئے پشت پناہی کی انہی مغربی حکومتوں اور بالخصوص امریکہ نے اسرائیل کو عارضی جنگ بندی اور حماس کی شرائط کو ماننے پر مجبور کیا، یہاں ہم امریکہ اور یورپی دنیا کی سول سوسائٹی کے مثبت کردار کو فراموش نہیں کرسکتے جوکہ ایک تاریخی حقیقت ہے۔
عارضی اور مختصر جنگ بندی کے دوران اسرائیلی ذرائع ابلاغ اور سول سوسائٹی نے اسرائیل کے جنگی اخراجات کا بھی جائزہ لینا شروع کردیا ہے جو کہ نیتن یاہو کیلئے مزید درد سر بننے گا، غزہ پر تل ابیب کی مسلط جنگ سے اسرائیل کو کچھ حاصل ہوا ہو یا نہیں اس کا تفصیلی جائزہ تو دفاعی مبصرین لیتے رہیں گے اور اس بابت ایک سے زیادہ رائے سامنے آئیں گی.

لیکن دنیا بھر کے عام لوگوں کو جو بات سمجھ آئی ہے وہ یہ ہے کہ اسرائیل قابل تسخیر ریاست ہے، چند سو عرب نوجوان گھریلو ہتھیاروں کے ہمراہ شجاعت اور دلیری کیساتھ اسرائیل کو صفحہ نقشہ سے مٹانے کا راستہ دکھا دیا ہے،
ابھی تک جنگی نتائج اور طوالت کے بارے میں کچھ نہیں کہا جاسکتا ہے جبکہ غزہ پر مسلط جنگ میں غاصب اسرائیل کو روزانہ کی بنیاد پر 260 ملین ڈالر خرچ کرنے پڑ رہے ہیں جبکہ اسرائیلی معیشت اور سیاسی دونوں سطح پر انتہائی غیر یقینی صورتحال ہے، جس نےاسرائیلی معیشت کو ڈرامائی جھٹکا لگا یا ہے۔
اسرائیلی فوج نے غزہ پر جنگ کیلئے 3 لاکھ 60 ہزار اضافی ریزروسٹ کو طلب کیا گیاہے، جو اسرائیل کی افرادی قوت کا تقریباً 8فیصد ہے، جس کی وجہ پیداواری اور غیرپیداواری شعبوں میں ورک فورسز کی دستیابی کم ہوچکی ہے، جس نے اسرائیل کی معیشت کو سست کردیا ہے، اس کا منفی اثر آئندہ مہینوں اور سالوں میں سامنے آئے گا، تارکین وطن اور غیر ملکی کارکنوں پر مشتمل 16.2فیصد لیبر فورس کی اسرائیل سے روانگی نے زرعی اور تعمیراتی شعبے کو بہت زیادہ متاثر کیا ہے۔
امریکہ اور یورپی ملکوں کا اسرائیل کی طرف نقد مالی بہاؤ نے اس ملک کی کرنسی کو ڈالر کے مقابلے میں سہارا دے رکھا ہے اور امکان یہی ہے کہ امریکہ اور یورپی ملکوں کی جانب سے اسرائیل کیلئے کیش امداد کا بہاؤ جاری رہے گا، تاوقتکہ امریکہ اور یورپی عوام کو یہ باور نہ کرایا جائے کہ اُن کا ٹیکس اسرائیلی شہریوں پر خرچ کیا جارہا ہے، اسرائیل کی داخلی سیاست جنگی مقاصد سے دور ہوتی حکومت کے موافق نہیں جائیں گے، تین لاکھ 60 ہزار ریزروسٹ جنگی محاذ پر ہراوّل دستے کی صورت میں تعینات ہیں اِن کے مرنے اور زخمی ہونے کے امکانات روشن ہیں جوکہ اسرائیل کی داخلی سیاست میں بحران کی صورت اختیار کرجائے گی.

حماس اور اسرائیل نے 56 قیدی رہا کر دیے

اسرائیلی حکومت اس وقت جنگ بندی کو مستقل کرنے پر نقصان تو ہےاور نہیں کرتی تو زیادہ نقصان کا امکان ہے،
اسرائیلی تکبر کو ریزہ ریزہ کرنے والے اللہ کے سپاہی تو ایک طویل جنگ لڑنے کیلئے تیار ہیں اُن کے پاس کھو دینے کیلئے مادی اعتبار سے کچھ نہیں ہے البتہ پاک روح ہے جو اللہ کی راہ میں قتل کرنے اور قتل ہونے کیلئے موجود ہے۔
دوسری جانب بیرون ملک فلسطین کی مزاحمتی تحریک حماس کے دفتر کے سربراہ خالد مشعل کا کہنا ہے کہ غزہ کی پٹی پر اسرائیلی جارحیت کے 48 دنوں کے بعد بھی فلسطینیوں کے اندر مزاحمتی عزم بدرجہ اتم موجود ہے جبکہ ہمارے عسکری رہنما اچھی حالت میں ہیں،
خالدمشعل نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ قابض اسرائیلی حکومت اپنے کسی بھی ہدف کو حاصل کرنے میں ناکام رہی ہے، حماس کے فرنٹ لائن کمانڈرز ،مجاہدین اور زیر زمین نیٹ ورک اچھی حالت میں برقرار ہے اور ہم جنگ بندی کے بعد نئے محاذ کھولنے کی تیاری کررہے ہیں۔
حماس کو اس بات کا یقین ہے کہ اُس کا بزدل دشمن جنگ کو طویل عرصے جاری رکھنے کی استعداد نہیں رکھتاجبکہ حماس طویل المدتی جنگ کیلئے تیار ہے، اگرچہ غزہ میں انسانی صورتحال تکلیف دہ ہےلیکن یہ صدمہ حماس کیلئے مزاحمت جاری رکھنے میں رکاوٹ نہیں بن سکتا۔
غزہ پر اسرائیلی جارحیت ہولناک نتایج کی حامل ہے تل ابیب اپنے تکبر سے آزاد نہیں ہوتا اور جنگ بندی کو مستقل بنیادوں پر ایک مضبوط امن معاہدے پر منتج نہیں ہونے دیتا تو اب اسرائیل کا خالص نقصان ہوگا۔