غربت نے وائرس کی شکل اختیار کرلی، روزانہ 12ہزار ہلاکتوں کا خدشہ

شیئر کریں:

عالمی سطح پر کورونا وبا کے دوران لاک ڈاون کے منفی نتائج سامنے آگئے۔
دنیا کی آبادی کا بڑا حصہ شدید غربت کا شکار ہوگیا۔
غربت پر کام کرنے والے عالمی ادارے آکسفارم نے وارننگ جاری کردی۔
آکسفارم کی رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں 1کروڑ 22 لاکھ سے زائد آبادی کی زندگیاں غربت اور بھوک کی وجہ سے شدید خطرے میں ہیں۔

دنیا بھر میں مزید 6 کروڑ افراد غربت کا شکار

رپورٹ میں بتایا گیا ہے خوراک کی ترسیل متاثر ہونے کی وجہ سے بھوک نے ایک وائرس کی سی شکل اختیار کرلی ہے۔
آکسفارم کا کہنا ہے کہ بھوک کی وجہ روزانہ 12ہزار لوگوں کی ہلاکتوں کا خدشہ ہے
جوکورونا سے ہونے والی ہلاکتوں سے کہیں زیادہ ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جب کورونا کا عروج تھا تب مہلک وائرس کی وجہ
روزانہ 10ہزار ہلاکتیں ہو رہی تھیں لیکن غربت کی وجہ سے روزانہ 12ہزار لوگ مر سکتے ہیں۔

بھارت میں غربت، لوگ مردہ جانور کھانے لگے

رپورٹ میں بھوک اور افلاس کے ہاٹ اسپاٹ بھی بتائے گئے ہیں۔
افغانستان، شام اور سوڈان عالمی وبا کے دوران غربت کی وجہ سے شدید متاثر ہیں۔
افغانستان کو عالمی وبا نے قحط کے قریب لاکر کھڑا کردیا ہے۔
گزشتہ سال 25 لاکھ افراد غربت میں مبتلا تھے جو رواں سال مئی تک 35 لاکھ ہوگئی ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بھارت، برازیل اور جنوبی افریقا میں غربت میں تین گنا اضافہ ہوچکا ہے۔
عالمی ادارے کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مستقبل میں خوراک کی شدید کمی ہوجائے گی اس لیے زراعت کے شعبہ پر 10 گنا زیادہ توجہ کی ضرورت ہے۔
اگر عالمی طاقتوں نے فوری طور پر غربت اور زراعت پر توجہ نہ دی تو بڑی تعداد میں لوگ بھوک کی وجہ سے مرنا شروع ہوسکتے ہیں۔


شیئر کریں: