غربت اور لاچارگی کا سربازار تماشا

شیئر کریں:

تحریر ایم ائی ملک
مشکل میں دوسروں کی مدد کرنا انتہائی بہترین عمل ہے لیکن پریشان حال لوگوں کی عزت نفس مجروح کرنا اتنا ہی ناپسندیدہ فعل ہے۔
بدقسمتی سے پاکستان میں یہ عمل ہر دور میں دھرایا جاتا ہے۔
اس وقت صورت حال یہ ہے کہ لوگ کورونا سے مریں نا مریں شرم سے ضرور مرجائیں گے۔
دوسروں کی مدد ضرور کرنی چاہیے یہ عین عبادت ہے لیکن کسی کو شرمندہ کرنا اتنا ہی بڑا گناہ بھی ہے۔
مصیبت میں دوسروں کے کام آنا ایک بات اور اس کی آڑ میں خود نمائی اور اپنی ستائش الگ فعل اور فعل بد ہے۔
ادھر کورونا کی آفت نے تباہی مچائی ادھر حکومتی شخصیات سے لے کر انفرادی سطح تک آواز بلند ہوئی کہ آگے
بڑھیں اور مصیبت زدہ بھائیوں کی مدد کریں۔
بہت سے لوگوں نے اس آواز پر لبیک ضرور کہا لیکن کچھ ایسے بھی ہیں کہ جنھوں نے اس موقع کو بھی اپنی ستائش اور خود نمائی کے لیے سنہری موقع جانا۔
المیہ تو دیکھئیے کہ کسی نادار کو مٹھی بھر چاول ، آٹا دیا لیکن ایسی ایسی تصاویر وائرل کیں کہ لینے والا سوچ میں پڑگیا کہ جتنی عزت اچھالی گئی،اس سےتوبھوکا مرجانا ہی بہتر تھا۔
کاش کوئی بے بسوں کی آنکھوں میں جھانک کر اس کے دل کاحال تو جانے کہ اس پر کیا گزر گئی جب
اس کی غربت اور لاچارگی کو سربازار تماشا بنا دیا۔
نیکی تو صرف یہ ہے کہ ایک ہاتھ سے دیا جائے اور دوسرے کوخبر تک نا ہو لیکن ہمارے اس ماہورے کو الٹ کر رکھ دیا ہے۔
خدارا کچھ تو سوچیں عزت اور موت کو تو نا بیچو، آگے منہ بھی دیکھانا ہے۔
اوپر یہی منہ ل کر جاؤ گے تو پھر وہاں سے بجی جواب اگر ایسا ہی مل گیا تو پھر کیا کہو گے؟
بحرانی صورت حال میں تو نمود و نمائش اور خودنمائی سے باہر نکل آئیں۔


شیئر کریں: