عید پر گوشت کتنا چاہیے؟

شیئر کریں:

اسلام آباد سے ایم اے چوہان

ڈاکٹرز نے اس سال عید قربان پر کثرت سے گوشت کھانا گزشتہ سالوں کی نسبت زیادہ خطرناک قرار دے دیا ہے۔
گوشت سے ہونے والی بدہظمی کورونا کے پھیلاو کا سبب بھی بن سکتی ہے۔

تکے، کڑھائی، قورمہ کھائیں یا فرائی گوشت لیکن اس دوران اپنی صحت کا خاص خیال رکھنا ہو گا۔
گوشت کا زیادہ استعمال آپ کی عید خراب کرنے کا سبب بھی بن سکتا ہے ۔
گوشت کو اسٹور کرنے والوں کے لیے بھی یہ خطرناک ہو سکتا ہے۔
یورک ایسڈ، کولیسٹرول اور دل کے امراض میں مبتلا مریضوں کے
لیے گوشت کا استعمال ٹھیک نہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ گزشتہ سالوں کے مقابلے میں اس سال حالات زیادہ احتیاط برتنا ہو گی۔
گوشت کھانے کا مطلب یہ بھی نہیں کہ اتنا کھالیں کہ بیمار ہو جائیں۔ اگر بیماری کی
وجہ سے اسپتال جانا پڑا تو خطرناک ہو سکتا ہے۔
کیونکہ اب پہلے جیسے حالات نہیں ہیں اسپتال میں خطرناک نوعیت کی بیماریوں
میں کورونا جیسی بیماری بھی لگ سکتی ہے۔

اگر آپ متاثر ہوئے تو گھرمیں آپ کے پیارے بھی اس سے متاثر ہو سکتے ہیں۔
خاص طور پر چھوٹے بچے اور بوڑھے اس سے زیادہ خطرناک طریقے سے متاثر ہو سکتے ہیں۔
ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ تفریح مقامات کی بندش کا غصہ قربانی کے گوشت پر نکالنا
کسی بھی صورت میں خطرے سے خالی نہیں۔

اس لیے صحت پر سمجھوتا نا کیا جائے تو بہتر ہے قربانی کے جانور کا گوشت کھائیں ضرور لیکن احتیاط کے ساتھ
بسیار خوری صحت کےلیے نقصان دہ ہوسکتی ہے۔


شیئر کریں: