عید زندان

شیئر کریں:

تحریر احمد عاصم
ان ہزاروں کشمیری مسلمانوں کےنام جو کئی سالوں سے بلکہ کئی دہائیوں
سے عید کی خوشیاں اپنوں کے ساتھ مناٹنے کے لیے ترس رہے ہیں۔

تیرگی شب میں تابندہ ہوئی ہے یادوں کی کہکشاں
ابر حسرت کو چیرتی ہوئی آئی ہے عید زنداں
ریشہ ریشہ بہشت سکوں کا دھوپ نے جیسے جلایا ہو
برگ برگ غنچائے شوق کا آندھی نے جیسے ہلایا ہو
دہلیز دل پر ایک مجنوں تڑپ نے آ کر دی ہو جیسے دستک
مقید پانیوں میں اک موج پریشاں بٹھکتی رہے گی آخر کب تک
صحرائے غم میں آج اچانک صبا چلی ہے خراماں خراماں
یاد وطن کے ریشمی سائے لوٹے ہیں چین و قرار
در قفس پر بوئے چمن کا کب سے ہے انتظار

اپنے پرائے گھر اور آنگن سب رقصاں دیدہ تر میں
کس کا کریں غم کس کا ماتمبے بسی کے اس سفر میں
گلشن جاناں پھول اور ندیاں اور پھر صبح بہاراں
اہل زنداں کا حال ایسا بازار مرگ میں جیسے گداگر
متاع ہجراں شراب اذیت خرید لائے سب کچھ لٹا کر
حلقہ زنجیر کی تنگ دامانی نالاں ہے سختی جان دیکھ کر
کھلتی جوانیوں سے دست و گریباں نئے نرالے انداز ستم گر
جاں بھی سوزاں روں بھی بسمل خاموشی ہے محو فغاں
زور ظلم کی حد سے شروع ہے جنون لذت ایثار
فسانہ نصرت کے لوح و قلم ہیں تیغ سفاک اور سنگ مزار
بلند شان ہر موکھ مان لے گی اک دن بیزار کاتب تقدیر کو
رواں موج جہلم سنائے گی ایک شب نوید صبح قوم دلگیر کو
دشت ظلمت میں شمع وصال کو جلائیں بجھائیں عید کی یہ خوشیاں


شیئر کریں: