عہد ظلمات “برصغیر میں برطانوی سلطنت”

شیئر کریں:

لیل و نہار/ عامر حسینی

چھیاسٹھ سالہ سشی تھرور ہندوستان کی ریاست کیرالہ کے قدیم ملیلائی نسلی گروہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان کا
جنم ایک ملیالم اسپینگ گھرانے میں ہوا جو لندن میں سیٹل تھا۔ وہ 2009ء سے کیرالہ کے ایک حلقے سے
بھارتی لوک سبھا کے رکن چلے آتے ہیں۔ وہ ہندوستان کے تین بڑے اخبارات “دا ہندؤ، دا ٹائمز آف انڈيا اور حیدر آباد کرانیکل میں ویکلی کالم لکھتے رہے ہیں اور میں نے انہی اخبارات میں پہلے پہل ان کے کالم پڑھے۔ اور پہلی بار ان کا 2001ء میں چھپنے والا انگریزی ناول “فسادات” پڑھا تھا۔ اس کے بعد “ميں ہندؤ کیوں ہوں” ان کی دوسری کتاب پڑھی۔ اور پھر ان کی سب سے زیادہ مشہور کتاب ” دا ایرا آف ڈارکنس: دا برٹش ایمپائر ان انڈیا” پڑھی جو پہلی بار 2016ء میں شایع ہوئی اور دوسری بار یہ “دا ان گلورییس ایمپائڑ: وٹ برٹش ڈڈ ود انڈیا” کے عنوان سے 2017ء میں شایع ہوئی۔ اصل میں آکسفورڈ یونین میں 2015ء میں تھرور کو ایک سیمینار میں بلایا گیا جس کا عنوان تھا: برطانیہ کے ذمہ اپنی سابقہ نوآبادیات کا تاوان واجب الادا ہے۔ ان کی وہاں کئی گئی تحریر دیکھتے ہی دیکھتے سوشل میڈیا پہ وائرل ہوگئی اور وہیں سے انھیں اس موضوع پہ ناشر ڈیوڈ داویدر نے ایک کتاب لکھنے کا مشورہ دیا اور انھوں نے یہ کتاب لکھ ڈالی۔ اردو پڑھنے والے قارئین کے لیے یہ بات اطمینان کا باعث ہونی چاہئیے کہ اب یہ کتاب اردو ترجمے کے ساتھ پاکستان میں پڑھنے کے لیے دستیاب ہے جسے لاہور سے عکس پبلیکیشنز لاہور نے شایع کی ہے۔ کتاب کے مترجم برصغیر کی نوآبادیاتی اور مابعد نوآبادیاتی دور کی تاریخ کے محقق استاد عابد محمود ہیں۔ دو ہفتے قبل میری ان سے عکس پبلیکیشنز لاہور ملاقات ہوگئی اور اس ملاقات میں ان سے گفتگو کرکے مجھے اندازہ ہوا کہ برصغیر کی تاریخ پہ ان کی نظر کتنی گہری ہے اور انہوں نے اس حوالے سے قریب قریب تمام قابل ذکر محققین کی کتابوں اور تحقیقی مقالوں کو نہ صرف اچھے سے پڑھ رکھا ہے بلکہ وہ اس موضوع پہ خود بھی کئی مقالے قلم بند کرچکے ہیں۔

میں نے مذکورہ بالا کتاب پر ہندؤ لٹ فار لائف 2017ء میں 70 سالہ تقابلی ادب کی استاد گوری وشوا ناتتھن کا سشی تھرور سے ایک مکالمہ یو ٹیوب پہ لائیو دیکھا تھا۔ اکتالیس منٹ کے اس مکالمے میں گوری وشوا ناتھن کے ان کی کتاب کے حوالے سے اٹھائے گئے انتہائی دقیق سوالات کا بڑی خندہ پیشانی سے جواب دیا تھا۔ وہ ادب کی استاد ہیں تو انہوں نے سشی تھرور سے پوچھا تھا کہ جوزف کانرڈ نے اپنے ناول “دا ہارٹ آف ڈارکنس” میں تو “افریقہ کو نوآبادیات بننے سے پہلے قلب ظلمات قرار دیا تھا جہاں روشنی نوآبادیاتی حکمران لائے تھے تو یہ کیا آپ نے اپنی کتاب میں اس تصور کو الٹا کر رکھ دیا اور ہندوستان میں برطانوی نوآبادیاتی دور کو ہی ‘دور ظلمات” سے تعبیر کر ڈالا؟” اور ساتھ ہی گوری نے ان سے پوچھا کہیں وہ وی ایس نائپال سے تو متاثر نہیں ہوئے جنھوں نے برصغیر ہندوستان کو نوآبادیاتی دور سے مجروح تہذیب قرار دیا تھا۔ تھرور نے اس کے جواب میں کہا کہ ان کی کتاب ہندوستان میں برٹش راج کو رومانوی رنگ کے ساتھ بیان کرنے والے دانشوروں کا جواب ہے جو غلط طور پر یہ کہتے ہیں کہ ہندوستان کو ایک وحدت میں برطانوی راج نے پرویا تھا۔ تھرور اپنی کتاب کے دوسرے باب میں نیل فرگوسن جیسے نوآبادیاتی دور کو ایک سنہری دور بناکر پیش کرنے والوں کے نظریات کو دلائل سے غلط ثابت کیا ہے۔ انھوں نے اس تاثر کو بھی غلط قرار دیا ہے کہ برطانوی راج سے پہلے ہندوستان کے ایک وحدت ہونے کا تصور موجود نہیں تھا۔ وہ بتاتے ہیں کہ کیسے ہندوستان موریہ گپت(185-322 ق م) ،مغل سلطنتیں (1526-1857ء) اور کسی حد دکن میں وجے نگر سلطنت(1136-1565ء) اور مراٹھا اتحاد(1674-1878ء) ہندوستان کی وحدت کی تحریکیں ہی تو تھیں۔ اور اگر برطانوی سامراج کی مداخلت نہ ہوتی تو ہندوستان کی سیاسی وحدت اس سے کہیں بہتر انداز میں ہوتی جیسی سیاسی وحدت اسے برطانوی سلطنت نے دی۔


تھرور اپنی کتاب میں پیش کیے گئے استدلال کی ساخت پہ بات کرتے ہوئے گوری کو بتاتے ہیں کہ انھوں نے مانٹیری استدلال سے اخلاقیاتی استدلال کا رااستا اختیار کرتے ہوئے ثابت کیا ہے کہ کیسے برطانوی راج ہندوستان اور ہندوستانی باشندوں کے لیے روشن دور کی بجائے ایک تاریک دور تھا۔ اور اس دور کے حوالے سے برطانیہ پہ لازم ہے وہ ہندوستانی عوام سے معافی مانگے۔ پیش لفظ میں تھرور نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ جب وہ ہندوستان کہتے ہیں تو اس سے مراد آج کی برصغیر کی تینوں ریاستیں ہوتی ہیں اور عوام سے مراد بھی ان تینوں ریاستوں کے عوام ہوتے ہیں جن سے برطانیہ کو معافی مانگنے کی ضرورت ہے۔ وہ اپنی کتاب میں یہ دکھاتے ہیں کہ کیسے ایسٹ انڈیا کمپنی کے جرائم کو کیسے برٹش حکومت نے چھپایا اور اس کمپنی کے حکام اور ان کی طرف سے بنائے گئ‏ے حکام کی لوٹ مار کو تحفظ کیا جس میں برٹش پارلیمنٹ بھی شامل تھی۔ وہ یہ بھی بتاتے ہیں کہ برطانوی عوام نے جنرل ڈائر جیسے ہندوستانیوں کی نسل کشی اور قتل عام کے مرتکب افسران کو برطانوی عوام کا نجات دہندہ قرار دیا بلکہ اس جیسوں کے لیے کروڑوں پاؤنڈ بھی چندے میں جمع کیے۔ وہ کہتے ہیں کہ لندن جہاں آج بھی نوآبادیاتی دور میں تعمیر ہونے والی عالیشان عمارتیں موجود ہیں لیکن برطانیہ کے تعلیمی اداروں میں نوآبادیاتی دور میں ہوئے مظالم کی تاريخ سرے سے پڑھائی ہی نہیں جاتیں۔ ان کی بیٹی جس نے لندن کے تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کی ، ان کی کتاب پڑھنے کے بعد ان سے کہنے لگی کہ اس نے اپنی درسی کتابوں میں اس موضوع پہ ایک لفظ بھی پڑھا جو اس کتاب کا موضوع ہے۔ تھرور اس کتاب میں بہت تفصیل سے دکھاتے ہیں کہ وہ ہندوستان جس کا عالمی جی ڈی پی میں نوآبادیاتی دور سے پہلے 23 فیصد حصّہ تھا وہ کیسے کم ہوتے ہوتے محض 3 فیصد رہ گیا اور ہندوستان کے کیسے نوے فیصد باشندے خط غربت سے نیچے گرکر رہ گئے۔ اس کتاب میں سشی تھرور برطانوی نوآبادیات سے پہلے اور برطانوی آبادیات کے دوران دیہی سماج کی حالتوں کا موازانہ کرتا ہے اور بتاتا ہے کہ نوآبادیاتی دور میں کس بری طرح سے ہندوستان کے دیہی سماج کو برباد کیا گیا اور اسے برطانیہ میں موجود مخصوص جاگیرداری سماج جیسا بنانے کی کوشش کی گئی ۔ تھرور دکھاتا ہے کہ آگر برطانوی نوآبادیات نہ آتی تو ہندوستان کی دستکاری اور پارچہ بافی کی صنعتیں جدید صنعتی انقلاب کے دور میں داخل ہوجاتیں اور ہندوستان بھی اسی جدید بورژوازی انقلاب کے مرحلے سے کزرتا جس مرحلے سے مغربی معاشرے گزرے تھے۔ بلکہ سشی تھرور دلائل اور اعداد وشمار سے یہ بتاتا ہے کہ برطانیہ کا صنعتی انقلاب اور ٹیکسٹائل سمیت دیگر صنعتوں کی ترقی ہی ہندوستان کی صعنتی بربادی اور اس کے خام مال کی لوٹ مار سے ممکن ہوئی وگرنہ ہندوستان برطانیہ سے کہیں زیادہ ترقی یافتہ صعنتی ملک ہوتا۔

سشی تھرور انتھروپولوجی اور سماجیاتی کے کئی ایک محققین کے کے حوالے سے لکھتا ہے کہ نوآبادیاتی دور میں مردم شماری کا پروجیکٹ مخصوص شناختوں کو زبردستی ہندوستان کی سماجی حقیقت جو بہت متنوع اور لچک دار تھیں پر مسلط کرنے کا منصوبہ تھا اور اس کا مقصد ہندوستان کی مادی کالونائزیشن کے ساتھ ساتھ اس کی ذہنی کالونائزیشن کا منصوبہ بھی تھا۔ منوسمرتی کوڈ کی بنیاد پہ مردم شماری نے ہندوستانی سماج میں جات پہ مبنی لچک دار سمای بنتر کو جامد بنتر میں بدل ڈالا۔ سشی تھرور لکھنؤ کی مثال دیتے ہوئے کہتا ہے کہ برطانوی سامراج کے نوآبادیاتی نظام سے پہلے لکھنؤ کی ثقافت غیر فرقہ وارانہ تھی – وہاں پہ محرم کی ثفاقت مشترکہ تھی جسے شیعہ، سنّی اور ہندؤ مل کر منتے تھے اور یہ نوآبادیاتی دور تھا جس نے واجد علی شاہ کے لکھنؤ کی محرم کی ثفافت کو فقط شیعہ ثفافت میں بدل ڈالا اور یہاں پر فرقہ وارانہ تناؤ اور تضادات مستقل شناختوں میں ڈھل کر رہ گئے۔ تقسیم کرو اور حکمرانی کرو کا اصول ہمیں برطانوی سامراج کی نوآبادیاتی سینس کی تشکیل کے پروجیکٹ میں صاف کارفرما نظر آتا ہے۔ سشی تھرور کمیونل سوال کو بھی نوآبیادتی نظام کی دین بتلاتا ہے۔

سشی تھرور کی کتاب کا آخری باب بحث کو سمیٹتا ہے اور تھرور اس میں لکھتا ہے :

“برطانوی سلطنت فی نفسہ بڑے پیمانے پہ ایک ہلٹرین پراجیکٹ تھا۔ اس منصوبے میں عسکری فتوحات اور آمریت، فنا اور نسل کشی، مارشل لاء اور خصوصی عدالتوں ، غلامی اور جبری مشقت اور یقینا نظر بندی کیمپ اور عوام کی سمندر پار نقل مکانی کا امتزاج تھا۔ اگرچہ وہ غلط نہکں تھا ، شاید ایک زیادہ مفصل تجزیہ درکار ہو۔ راج کی وراثت کا مشاہدہ اس کے ان معاشروں پہ اثرات کا جائزہ لینا بھی ہے۔ جنھیں اس نے شکستگی سے دوچار کیا اور ان کی ہئیت بدل ڈالی اور انسان جنھیں اس نے بدل ڈالا، جلا وطن کیا، ہ‏یت سازی تباہ کی اور ایک نیا فرد بنا ڈالا؛ کاروبار اور نسلی میل جول کے ساتھ اختلاط ، چونکہ برطانوی سرمایہ دار منافع کی تلاش میں تھے، چاہے جہاں بھی ملے؛ لوگوں کا ایک دوسرے سے ساتھ اختلاط ‘ اور ہندوستانیوں کی دوسسرے علاقوں میں نقل مکانی کے زریعے ، ہندوستان کے اندر قدیم بندھن ٹوٹنے اور نئے قائم ہونے کے نتیجے میں زبان و ثقافت کا دوغلا پن ؛ زات برادری، مذہب ، وطن اور سلطنت کی باہم متضادم وفاداریوں کی کشمکش ؛ اور سب سے بڑھ کر ،منافع کی ناقابل مدافعت للچاہٹ ، نوآبادیاتی پراجیکٹ کا سب سے عقیق خیات بخش ولولہ تھا، اس کتاب کے دائرہ عمل سے بہت پرے ، یہ ایک وسیع پراجیکٹ تھا۔”

میں چاہوں گا کہ برصغیر میں ماقبل نوآبادیاتی دور، نوآبادیاتی دور اور مابعد نوآبادیاتی دور کی تاریخ میں دلچسپی لینے والا اردو خواں طبقہ سشی تھرور کی کتاب کے اس اردو ترجمے کو ضرور پڑھے ۔ سیاسی کارکنوں، طالب علموں ، وکلاء اور تقسیم کی سیاست کو سمجھنے والوں کو بھی اسے پڑھنے کی ضرورت ہے۔ عابد محمود نے اس کتاب کا اردو ترجمہ کرکے ہمارے معاشرے پہ احسان کیا ہے جس پہ وہ داد کے مستحق ہیں۔


شیئر کریں: