عورت مارچ سے عورتوں کے حقوق کا تعلق

شیئر کریں:


تحریر: اویس اسلم

آج صبح آنکھ کھلتے ہی موبائل پر نظر پڑی تو ایک انجان نمبر سے 6 کالز آئی ہوئی تھیں

جو کہ میں موبائل کی رنگ بند ہونے کی وجہ سے نہیں کال رسیو کر سکا البتہ حسب معمول اٹھنے کے بعد چائے اور فریش ہونے کے بعد گھر کے دروازہ پر اپنی والدہ سے اپنی شادی کی تیاریوں کے بارے میں محو گفتگو تھا کہ اسی دوران اسی نمبر سے دوبارہ کال آئی اور کال رسیو کرنے پر انتہائی ادب اور پڑھے لکھے انداز میں ایک خاتون نے مجھ سے پوچھا کہ بھائی آپ ٹی وی چینل میں کام کرتے ہیں

میں نے کہا جی بہن فرمائیں میں ٹی وی چینل میں ہی کام کرتا ہوں تو وہ خاتون نے کہا کہ میں آپکا زیادہ وقت نہیں لوں گی

مزید پڑھیں:حق مہر نہیں دے سکتے تو پھر شادی کیوں کرتے ہو؟

لیکن مجھے صرف اتنا بتا دیں گے کیا عورت مارچ رحیم یارخان میں بھی ہوگا اس خاتون کا سوال سن کر میں ایک دفعہ خاموش ہوگیا

میرے ذہن میں ایک دم سے خیال آیا کہ کہیں میرے سوشل میڈیا پر عورت مارچ پر تنقید کرنے پر یہ خاتون تو نالاں نہیں یا کوئی ایسی بات جو میں سوشل میڈیا پر میرا جسم میری مرضی کےخلاف لکھ رہا ہوں اس خاتون کو بری نہ لگی ہو البتہ میں اسی سوچ میں گم ہی تھا کہ ایک بار پھر میرے کان میں آواز آئی کہ بھائی آپ مجھے سن رہے ہیں

یہ بھی پڑھیں:“میرا جسم میری مرضی” حمل گرانے میں اچانک اضافہ

لفظ بھائی سن کر میرے ذہن میں جو سوالات تھے ان کا جواب مجھے مل گیا میں نے جواب دیا جی بہن بتاو آپکو کیا جاننا ہے

ایک بار پھر اس خاتون نے جواب دیا کہ مجھے یہ بتا دیں کہ عورت مارچ رحیم یارخان میں ہوگا

خلیل الرحمن قمر کے پیغام میرا جسم میری مرضی

اس خاتون کے اس سوال کے جواب میں نے کہا کہ میرے علم میں نہیں لیکن آپ کا اگر کوئی مسئلہ یا مجھ سے شکایت ہے تو آپ بتائیں تو وہ خاتون میری بات مکمل ہونے سے پہلے ہی زور سے بولی کہ جی آپ سے ہی شکایت ہے عورت مارچ کے خلاف آپ جو کچھ سوشل میڈیا پر لکھ رہے بالکل درست ہے

مزید پڑھیں: حمل گرانے کے واقعات میں اچانک اضافہ

لیکن کبھی آپ نے عورت کے حقوق اسلام میں ماں بیٹی بہو بہن بیوی کے حقوق بارے لکھا؟

میری چند سیکنڈ کی خاموشی کے بعد اس خاتون نے کہا کہ یقیناً نہیں عورت مارچ کے خلاف میں بھی ہوں

لیکن نیشنل اور انٹرنیشنل میڈیا سمیت سوشل میڈیا پر اسکو زیر بحث محض ریٹنگ اور فالوونگ کے چکر میں کیا جارہا ہے

میری خاموشی اس خاتون کے جذبات میں اضافہ کر رہی تھی میں نے کہا بہن ایسی بات نہیں تو اس خاتون نے کہا کہ اگر ایسی بات نہیں تو آج تک عورت کے حقوق بارے کیوں آپ کے قلم نہیں لکھ سکے

آپ کی زبان عورت کے حقوق و تحفظ بارے کیوں بند ہو جاتی ہے روزانہ غیرت کے نام پر عورتوں کو زندہ جلا دیا جاتا ہے

اس پر آپ کی خاموشی صرف اسی لئے کہ یہ ریٹنگ کا مواد نہیں میں ابھی جواب سوچ ہی رہا تھا کہ افسوس کی آواز کے بعد کال بند ہو گئی

کچھ لمحہ سوچنے کے بعد میں نے دوبارہ کال کی تو نمبر بند ملا میرے دفتر پہنچنے کے بعد میں اس خاتون کے کہے ہوئے الفاظ پر سوچنے لگا اور تحقیق کرنے لگا کہ گزشتہ سال سینکڑوں کی تعداد میں خواتین غیرت پسند کی شادی اور اپنا حق مانگنے پر قتل کر دی گئیں

سینکڑوں کی تعداد ایسی خواتین کی ہے جو تیزاب گردی کا شکار ہوئیں اور ہزاروں کی تعداد میں ایسی خواتین ہیں جو اپنی آبرو بچانے کیلئے گھروں سے بھاگ نکلی اور دارالامان میں پناہ لئے ہوئی ہیں

لیکن آج تک ان پر ہمارے قلم نہیں لکھ سکے جبکہ اسلام میں خواتین کے حقوق کے بارے واضح طور پر ہدایات ہیں لیکن انتہائی افسوس کے ساتھ کہنا پڑرہا ہےکہ عورت کا غیرت کے نام پر قتل کاروکاری کی خبر ٹی وی چینل پر صرف تیس سیکنڈ چلنے کے بعد ردی کی ٹوکری میں پھینک دی جاتی ہے

جبکہ اب چند دنوں سے عورت مارچ اور میرا جسم میری مرضی پر ریٹنگ کے چکر میں میزبان مہمانوں کو لڑوانے کی کوشش کرتے ہیں اور چند ایسے مرد جو اپنے آپ کو مشہور کرنے کیلئے خواتین کا احترام اور چند ایسی خواتین جو اپنی مشہوری کیلئے مردوں کا احترام بھول چکی ہیں

ہمارا میڈیا اپنی ریٹنگ کے چکر میں یہ سب آنے والی نسل کو دیکھا اور سیکھا رہا ہے کہ مردوخواتین کی اس معاشرے میں کوئی عزت نہیں

دوسری جانب ہماری نوجوان نسل نے فیس بک اور دیگر سوشل میڈیا کی اپلیکشن پر ووٹنگ شروع کردی ہے

بجائے اسکے کہ ہم عورت کے حقوق کو بتائیں لیکن انتہائی افسوس کے ساتھ چند روز سے ٹی وی چینلز سمیت سوشل میڈیا پر مرد عورت کو اور عورت مرد کو نیچا دکھانے میں مصروف ہے.


شیئر کریں: