عوام کی امیدنو

عوام کی امیدنو

تحریر سجادحسین

انتخابی میدان سج چکا ہے، تمام سیاسی پارٹیاں اپنے اپنے منشور کیساتھ میدان میں اترچکی ہے، کسی کا نعرہ روٹی کپڑا اور مکان ہے تو کسی کا نعرہ نوجوانوں کو نوکریاں دینا، کسی کا نعرہ انصاف ہے تو کسی کا نعرہ مستحکم پاکستان۔ آخر قوم کی امیدوں کا محور کون ہوگا؟کون سی سیاسی پارٹی 2024 کے انتخابات میں جیتے گی،کہیں سیٹ ایڈجسٹمنٹ ہے توکہیں میدان میں کھلی لڑائی۔ مختلف جلسے جلوسوں میں کہیں بلاول بھٹو زرداری للکار رہا ہے تو کہیں مریم نواز شریف اس کا جواب دے رہیں ہیں۔ مگر ایک پارٹی کا یہ شکوہ ہے کہ انہیں لیول پلینگ فیلڈ نہیں مل پارہی۔ سیاست میں اتار چڑھاو تو آپ دیکھ چکے، پیپلزپارٹی کیخلاف بھی آپریشن کیا گیا تھا، 1999 میں جنرل مشرف نے نواز شریف کا تختہ الٹ کر خود اقتدارکی باگ دوڑ سنبھال لی تھی اور ملک کے سیاہ و سفید کے مالک بن گئے تھے۔ سیاستدانوں کی کمزوریوں میں سے ایک کمزوری یہ بھِی ہے کہ جو جلسوں میں وعدے کیے جاتے ہیں ان پر عمل نہیں ہوتا۔ سندھ کے حالات پر آج مسلم لیگ ن تنقید کررہی ہے۔تو پنجاب کے حالات پرپی پی تیرانداز ہورہی ہے۔

سوال یہاں یہ پیدا ہوتا ہے کہ عوام کو جو سبزباغ دیکھائے جاتے ہیں وہ پورے کیوں نہیں کیے جاتے، کہاں ہے روشن پاکستان؟ کہاں ہیں ایک کروڑ نوکریاں، کہاں ہیں؟ 50لاکھ گھر؟کہاں ہے روٹی کپڑا اور مکان؟؟یہ سارے سیاسی وعدے ایفا نہ ہوسکے۔ شاید اس لیے پاکستان کا نوجوان سیاسی پارٹیوں کو ووٹ دینے سے بیزار نظر آتاہے وہ اس کا ذمہ دارسیاستدانوں اوراداروں کو سمجھتا ہے۔کچھ شخصیات ایسی بھی ہیں جو اپنے عمل سے امید تک کے سفرکو حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ ملک ریاض غریبوں کے لیے بحریہ دسترخوان چلا رہے ہیں، ڈاکٹر امجد ثاقب نوجوانوں کیلیے پہلی بغیر فیس کے یونیورسٹی بنا رہے ہیں، ایدھی صاحب کی خدمات آج بھی جارہے ہیں۔ زمرد خان بھی فلاحی ادارہ چلارہے ہیں،عبدالعلیم خان فاونڈیشن بھی فری ڈسپنسریز سے لے کر فری ڈائیلاسزسنٹرزتک، کفالت پروگرام سے لے کر اپنا گھر تک جیسے فلاحی پروگرام چلارہی ہے۔جن سے لاکھوں غریب اور مستحق افراد کی مدد کی جاتی ہے یہ ان کے حلقے کی عوام کو بھی اعتراف ہے۔جب ایسے لوگ سیاست میں قدم رکھتے ہیں تو عوام کی پزیرائی بھی ملتی ہے۔اگراپنے منشور کے مطابق وہ عمل بھی کردیکھائیں تو عوام کو اور کیا چاہیے۔

ایک بات خوش آئیند ہے کہ 300یونٹس استعمال کرنے والوں کو بجلی مفت دی جائے گی، یہ آئی پی پی اور پی پی کا نعرہ ہے۔ سندھ میں پی پی،متحدہ، پیرپگاڑا سے عوام کو امیدیں ہے، کےپی کے میں اے این پی، جے یوآئی، پی ٹی آئی جیسی جماعتیں بھی اپنے اپنے منشور سے عوام کو اپنی طرف راغب کررہی ہیں۔سوال یہاں یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اقتدار میں آنے کے بعد عوام کے حالات بہتر ہوں گے یا نہیں۔ عوام کیلیے امیدنوکون ہوگا ؟ یہ فیصلہ 8 فروری کی رات کو ہوجائے گا؟آپ کیلئے امید نو،امید سحر، نواز دو، روٹی کپڑا اور مکان کون ہوگا؟

(نوٹ کالم نویس سجادحسین ریسرچ اسکالر ہیں، سوشل میڈیا کے بھی ماہرین میں شمارہوتے ہیں)
Sajjadh99@gmail.com