عمران خان کیوں ناکام ہوا؟

شیئر کریں:

تحریر اجمل شبیر
دنیا کے ہر انسان کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ یہ سمجھتا ہے کہ جو وہ سوچتا ہے وہ ٹھیک ہے باقی جو لوگ سوچ
رہے ہیں وہ سوچ ٹھیک نہیں۔
انسان نے خوش رہنا اور دوسروں کو بھی خوش رہنے دینا تو سب سے پہلے ہمیں اس عادت کو چھوڑنا ہوگا
ہر انسان کے نوے فیصد مسائل اسی عادت کی وجہ سے ہیں۔
تمام لڑائی جھگڑے اسی وجہ سے ہیں ۔والد کیا کہتا ہے؟
بچوں کے بارے میں جو وہ سوچ رہا ہے وہ ٹھیک ہے ،بچے جو اپنے بارے میں سوچ رہے ہیں ،وہ غلط ہے؟

ایک فیتھ والا دوسرے فیتھ والے کے بارے میں یہی کہتا ہے وہ ٹھیک ہے دوسرا غلط ہے۔

بیوی اور شوہر کے درمیان بھی یہی لڑائی ہے ،بوائے فرینڈ اور گرل فرینڈ کی بھی یہی لڑائی ہے۔ دوستوں کے
درمیان بھی یہی لڑائی ہے ،نظریات کے درمیان بھی لڑائی کی وجہ یہی ہے۔

سارے انسان بس صبح سے شام تک کیا کرتے ہیں ،یہی تو کرتے ہیں کہ میں ٹھیک ہوں ،توں غلط ہے میری
سوچ ٹھیک ہے ،تیری سوچ غلط ہے ،میرا راستہ ٹھیک ہے ،تمہارا راستہ غلط ہے،میرا نظریہ درست ہے
تمہارا نظریہ غلط ہے۔

ہم جب یہ کہیں گے کہ مسلمان ٹھیک ہیں اور باقی سب گندے لوگ ہیں تو لرائی تو ہوگی ،جب ہندو کہے گا کہ
وہ ٹھیک سارے مسلمان غلط ہیں تو جھگڑے ہوں گی۔

مسئلہ کیا ہے ہم میں سے ہر انسان نے اپنی سوچ کو مضبوطی سے پکڑ رکھا ،اتنی مضبوطی سے کہ ہم دوسرے
کی سوچ کو صرف غلط نہیں کہتے بلکہ جھوٹ سمجھتے ہیں۔

میں جو سوچ رہا ہوں وہ ٹھیک ہے
توں جو سوچ رہا ہے وہ غلط ہے
تمام لڑائیوں کی جڑ یہی ہے

اس مسئلے سے نکلنا ہے تو اس کا حل بہت simple ہے ،وہ یہ ہے کہ سب سے پہلے خود کی سوچ پر سوالیہ نشان لگادیں؟ کیا سوالیہ نشان کہ میری سوچ درست بھی ہوسکتی ہے اور ممکن ہے میری سوچ غلط ہو۔

جب یہ سوالیہ نشان لگ جائے گا تو اس سے کیا ہوگا ،آپ میں انا نہیں رہے ،arraogancy نہیں رہے گی ،آپ ججمنٹل نہیں ہو گے

ایروگنٹ کون ہے ؟ دنیا کا ہر وہ انسان ایروگنٹ ہے جو اپنی سوچ کو درست اور دوسرے کی سوچ کو غلط سمجھتا ہے ،ہمبل کون ہے جو اپنی سوچ پر سوالیہ نشان لگا دیتا ہے ،کیا سوال کہ میری سوچ درست بھی ہوسکتی ہے اور غلط بھی ہوسکتی ہے

ہم کیسے سوچتے ہیں ؟ ہمارے مائینڈ میں انفارمیشن پڑی ہیں ،اسی انفارمیشن کی بنیاد پر ہم سوچتے ہیں ،وہ انفارمیشن جو برین میں پڑی ہیں ،آپ کیسے sure ہو کہ وہ انفارمیشن credible ہیں

وہ انفارمیشن جو مجھ میں پڑی ہیں ،اس کے بارے میں کیسے یہ کہا جاسکتا ہے کہ وہ انفارمیشن دوسرے کے لئے بھی اچھی ہوگی ،کسی میں کچھ انفارمیشن پڑی ہے ،کسی اور میں کچھ اور انفارمیشن پڑی ہے ،اسی انفارمیشن سے سوچ بنتی ہے ۔آپ کو کیسے یقین ہے کہ میری سوچ غلط ہے اور دوسرے کی سوچ درست ہے۔

جب انسان یہ سمجھ جاتا ہے کہ اس کی سوچ غلط بھی ہوسکتی ہے اور درست بھی ہوسکتی ہے تو وہ کسی دوسرے کی سوچ کو غلط نہیں کہتا ہے اور نہ ہی اس میں کسی قسم کی ایروگینسی آتی ہے

اس سماج میں دیکھ لیں ،ایروگنٹ کون ہیں؟ انتہا پسند کون ہیں ؟ فساد کون کررہے ہیں؟ وہ جو اپنی سوچ کو سچ اور دوسرے کی سوچ کو جھوٹ کہتے ہیں

Every information is limited
So dont be too serious for information

Every information is incorrect ,what is absolutely correct ? that can be absolutely correct that is correct for everyone in all the situation

Thinking by nature is limited

دنیا کا ہر وہ انسان جو یہ سوچ رہا ہے کہ اس کا پوائنٹ آف ویو ٹھیک ہے دوسرے کا غلط ،وہ مسائل میں رہے گا اور ایروگنٹ رہے گا ،انا پرست رہے گا اور ہمیشہ تکلیف میں رہے گا ،اسی کا نام arrogancy ہے ،اسی کا نام انا ہے

یاد رکھیں arrogant لوگوں کی کوئی عزت نہیں کرتا ،ایروگنٹ لوگوں سے بات کرنے میں مزہ نہیں آتا ،اس کے زیادہ دوست بھی نہیں ہوتے

ہم انسان کس کے ساتھ ریلیشن رکھتے ہیں ،ہم ان کے ساتھ جڑنا پسند کرتے ہیں جو humble ہوتے ہیں ،جو اپنا پوائنٹ آف ویو کسی پر تھوپتے نہیں ،جو یہ کہتے ہیں دوست میرا یہ نقطہ نظر ہے ،ممکن ہے درست ہو اور یہ بھی ممکن ہے درست نہ ہو ،جو آپ سوچ رہے ہیں ،وہ درست ہو

ہم سب ایک دوسرے کو بدلنا چاہتے ہیں ،ہم کیا چاہتے ہیں میری سوچ پر عمل ہوگا تب ہی تبدیلی آئے گی ،عمران خان کو حکومت مل گئی ،تبدیلی آگئی ،کیا سب کچھ ٹھیک ہوگیا ہے ؟ کیوں نہیں ٹھیک ہوا ،کبھی سوچا ؟ عمران خان کی سوچ کی بنیاد کیا تھی تبدیلی ،سماج کو بدلنا ،دوسرے کی سوچ کو بدلنا ،کیا سب بہتر ہوگیا ہے ،ہمارے حکمران بھی ایروگنٹ ہیں ،خود کو پاک صاف سمجھتے ہیں ،دوسرے کو کرپٹ اور گھٹیا ،اس وجہ سے کچھ نہیں بدلا ؟

جو حکمران ایروگنٹ ہوگا ،جہاں کے لوگ ایروگنٹ ہوں گے ،جو حکمران انا پرست ہوگا ،جہاں کے عوام انا پرست ہوں گے وہاں خوشی اور خوشھالی ممکن ہی نہیں ،بس اسی زاویئے سے پاکستان کی سیاست اور معاشرت کو سمجھنے کی کوشش کریں

ہم سب ٹھیکیدار ہیں ،ہر کسی نے کسی کو بدلنے کا ٹھیکا لے رکھا ہے ،ہر کوئی کیا کہہ رہا ہے میں ٹھیک ہوں تو غلط ہے ،میں صادق اور امین ہوں ،توں کرپٹ ہے ۔ ٹھیکیداری کا نظام کبھی نہیں چلتا ،عمران خان بھی ایک ٹھیکیدار مائینڈ سٹ کے ساتھ حکومت میں آیا تھا ،اسی وجہ سے ناکام ہوگیا

Don’t be too serious
What you think
What is thinking
It’s just a point of view


شیئر کریں: