عمران خان کا نظریہ دفن، 104 سالہ شخص نے کورونا کو ہلاک کردیا

شیئر کریں:

موت اور زندگی کی ضمانت کوئی نہیں دے سکتا سائنس اور ڈاکٹرز اپنی تحقیقات کر کے بتا ضرور سکتے ہیں کہ کورونا وائرس سے بڑی عمر کے افراد کی زندگیوں کو خطرہ ہے اور نوجوانوں کو زیادہ خطر نہیں۔
لیکن اس کے برعکس بھی بہت کچھ ہورہا ہے چند روز کے بچوں سے لے کر نوجوان اور کڑیل جوان بھی اس وبا کی نظر ہو رہے ہیں۔
ایسی صورت حال میں زندہ دل اور باہمت افراد کورونا کو شکست دے کر سائنسدانوں کا منہ چڑا رہے ہیں۔
پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان بارہا کہتے رہتے ہیں کہ کورونا سے جوانوں کو نہیں بڑی عمر کے افراد کو خطرہ ہے۔
ایک اور معمر شخص نے موت کو شکست دے کر عمران خان کے اس دعوے کو دفن کر دیا ہے۔
دوسری جنگ عظیم کے تجربہ کار ایک سو چار سالہ امریکی شخص نے کورونا وائرس کو شکست دے دی ہے۔
وبا سے نجات کے بعد انہوں نے اپنی سالگرہ بھی منائی۔
امریکا میں کورونا وائرس سے سب سے زیادہ افراد متاثر ہو رہے ہیں لیکن اوریگون کے ایک سو چار سالہ شخص کورونا وائرس سے چھٹکارہ حاصل کرنے میں کامیاب ہو گیا ہے۔
بل لیپشیز کورونا وائرس کو ہرانے والے معمر ترین شخص کا اعزاز حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔
بل لیپشیز ایک خوش قسمت شخص ہیں جنھوں نے وبا کو شکست دینے کے ساتھ ہی اپنی سالگرہ بھی منائی۔
اہل خانہ کے مطابق بل لیپشز میں وائرس کی علامات پانچ مارچ کو نظر آنا شروع ہوئی تھیں۔
بیٹی کیرول برائون بتاتی ہیں والد صاحب بہت زیادہ بیمار ہوگئے تھے وہیل چیئر پر بیٹھ کر کھڑکی کے ذریعے ہماری جانب ہاتھ ہلاتے اور ہمیں لگتا کہ وہ کرشمہ کردکھائیں گے۔
لیکن ان کی ہمت دیکھ کر لگتا تھا کہ وہ ضرور حیرت انگیز طور پر دوبارہ سے صحت پکڑیں گے۔
فیملی ویٹرنز ہوم کے عملے کی شکرگزار ہے جن کی نگہداشت سے بل لیپشیز کو صحت یابی میں مدد ملی اور اب انہوں نے اپنی 104 ویں سالگرہ یکم اپریل کو منائی۔
اس سے قبل موذی وبا کو شکست دینے والی سب سے معمر شخصیت ایران سے تعلق رکھنے والی 103سالہ تھیں جنھوں نے گذشتہ مہینے کورونا وائرس کو شکست دی تھی۔
خاتون ہفتہ سے وسطی شہر سیمنان میں اسپتال میں داخل تھیں۔
اٹلی میں بھی مسٹر پی نامی معمرشخص صحت یاب ہوئے جن کی عمر 101 سال تھی۔
یہ بات اٹل ہے کہ موت اور زندگی خدا ہی کی طرف سے ہے انسان کے ہاتھ میں کچھ بھی نہیں۔


شیئر کریں: