علم یا پرچم کی اہمیت

شیئر کریں:

تحریر توقیر زیدی
تاریخ انسانی میں علم کی کہانی اتنی ہی پرانی ہے جتنا کہ خود انسان۔ دنیا کے کسی بھی ملک و قوم
کی انفرادیت کیلئے ایک مخصوص نشان ہوتا ہے جو جھنڈا یا پرچم کہلاتا ہے اور ہر ملک و قوم
کیلئے اس کا جھنڈا اس کی پہچان اس کی شان اور اور اس کا امتیازی نشان ہوتا ہے۔

محققین کی رائے کے مطابق تاریخ میں پہلا علم حضرت آدم علیہ سلام نے اپنے جانشین حضرت
شیث علیہ السلام کو عطا کیا تھا۔ یونانی جنگجو ہوں یا اشوک کا لشکر ، روم کے سپاہی ہوں یا تاتاری،
علم اور علم دار جنگوں کا لازمی جز رہے ہیں۔

بعد از اعلان نبوت تاریخ اسلام میں صاحب علم اولاد ہاشم کا خاصہ رہا۔ بدر کے میدان میں حمزہ بن
عبدالمطلب خیبر کے معرکے میں حضرت علی ابن ابی طالب اور جنگ موتہ میں علم جعفر طیار
کو جناب رسالت ماب صلی اللہ علیہ والیہ وسلم کے حکم سے عطا ہوا۔

ان ساری ہستیوں کی شجاعت اور مردِ میدان ہونا اپنی جگہ، مگر تاریخ اسلام میں جو نسبت عباس ابن
علی علیہ السلام سے ہے وہ کسی اور کے حصے میں نہیں آئی۔

سن 61 ہجری کے معرکہ حق و باطل میں حسین ابن علی کی مختصر سی فوج کا علم دار ہونے کا شرف
بھی حضرت علی شیر حضرت عباس کے حصے میں آیا جنہوں نے اپنی وفا و شجاعت سے علم کو
رہتی دنیا تک کے لیے امر کر دیا۔ تب سے اب تک علم صبر کی علامت اور وفا کا استعارہ ٹھہرا ہے۔
میدان کربلا میں دیگر جھنڈوں کی مانند لشکر امام حسین علیہ السلام کا بھی ایک پرچم تھا۔


کتب و مقاتل میں بھی آیا ہے کہ امام حسین علیہ السلام نے اپنے لشکر کے دائیں طرف کے لوگوں کیلے ایک پرچم مخصوص کیا اور یہ پرچم زہیر ابن قیس کو عنایت کیا اسی طرح بائیں جانب کا پرچم جناب حبیب ابن مظاہر کو عنایت کیا اور ان پرچموں کے علاوہ ایک اور پرچم لشکر کے مرکز میں تھا جسے قطب و محور سمجھا جاتا تھا۔ اسے اپنے بھائی حضرت ابوالفضل عباس کو دیا۔ تمام کتب مقاتل میں آیا ہے “واعطی رای الی الاخا العباس عباس علمدار وہ تھے اس پرچم کو اٹھانے کی تمام تر امتیاز و صلاحیت رکھتے تھے۔
صرف ایامِ عزا یعنی ماہ محرم میں علم عباس کا رنگ تبدیل کرکے سرخ سے سیاہ کردیا جاتا ہے جیسے کربلا نجف، کاظمین، مشہد میں روضوں پر علم تبدیل کیا جاتا ہے۔ لیکن اس سیاہ رنگ کے ساتھ اس پرچم میں علمدار کے ہاتھ کی شبیہہ کی طرح ایک پنجہ یا چاند ستارہ بھی لگا ہوتا ہے ساتھ ہی سیاہ کپڑے پر نام عباس علمدار و یا حسین، مظلوم کربلا تحریر ہوتا ہے جو اس سیاہ علم کو ایک الگ ہی امتیاز اور انفرادیت دیتا ہے۔
اگر یہ کہا جائے کہ اقوام عالم میں واحد پرچم پرچمِ حسینی و پرچمِ عباس ہے جسے دنیا بھر میں ہر قوم و رنگ نسل سے تعلق رکھنے والے علم عباس کو اپنے گھروں پر لگاتے ہیں اور جلوسوں میں اٹھاتے بھی ہیں۔ اس کی اہمیت و احترام سے دنیا واقفیت بھی رکھتی ہے۔عزادار امام حسین معرکہ حق و باطل میں یزیدی فوج پر طاری ہونے والے خوف کی علامت پرچم عباس کا پھریرا اپنے گھروں پر نصب کرنے میں فخر محصوص کرتے ہیں۔ عزاداران امام حسین کے قافلوں پر سایہ فگن یہ علم آج بھی اسی ہمت جرات اور استقامت کا تقاضہ کرتا ہے جس کا مظاہرہ فوج الہی نے یوم عاشور پر کیا تھا۔


شیئر کریں: