علم کی خدمت

شیئر کریں:

تحریر: آفتاب مہمند

عالمی جریدے “دی اکانومسٹ” کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان دنیا بھر میں مہنگائی کے حوالے سے جہاں چوتھا ملک بن گیا ہے تو وہیں ملک بھر میں غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے والے افراد کی تعداد 8 کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے۔ خود وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے حال ہی میں تقریبا ساڑھے 8 کروڑ ملکی آبادی کیلئے 28 ارب روپے کا ایک خصوصی پیکج دے کررکھا ہے۔ جہاں غربت کی شرح میں مسلسل اضافہ ہوتا ہے، تو وہیں بچوں کی تعلیم پر بھی کافی برے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق پاکستان بھر میں اب بھی ڈھائی کروڑ سے زائد بچے غربت کے باعث تعلیم سے محروم ہیں۔
پاک الائنس فار میتھس اینڈ سائنس کے مطابق ملک بھر میں تعلیم سے محروم رہنے والے بچوں کی تعداد 32 ملین سے زائد ہے جن میں اکثریت بچیوں کی ہے۔ مذکورہ ادارے کے مطابق صرف صوبہ خیبرپختونخوا میں 38 لاکھ بچے تعلیم سے محروم ہیں، جن میں 60 فیصد سے زائد بچیاں شامل ہیں۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق خیبرپختونخوا میں تعلیم سے محروم رہ جانے والے بچوں کی تعداد 18 لاکھ ہے جن میں 64 فیصد بچیاں شامل ہیں۔
اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ جس ملک کے 8 کروڑ سے زائد لوگ سطح غربت سے نیچے زندگی گزار رہے ہوں تو وہاں پھر کروڑوں بچے و بچیاں تعلیم سے ضرور محروم ہونگے۔ تعلیم سے محروم رہ جانے والے بچوں کے حوالے سے جب بھی کوئی سروے سامنے آتا ہے تو اکثر اوقات اسمیں زیادہ تعداد بچیوں کی ہوتی ہے۔ اسکے کئی اسباب ہیں جن میں ہرطرح کے تعلیمی اخراجات ، ٹرانسپورٹیشن کے نظام کا نہ ہونا سرفہرست ہیں۔
خیبر پختونخوا حکومت کی طرف سے کئی منصوبے شروع کئے گئے ہیں جو ان مسائل کا حل نکال سکیں جن میں گھر آیا استاد پالیسی، تعلیمی اداروں میں ڈبل شفٹ کا اغاز، سٹریٹ سے سٹیٹ چلڈرن منصوبہ شامل ہے۔ اسی طرح کئی فلاحی ادارے ہیں جو بچوں کو بازاروں، گلی کوچوں اور مختلف مقامات سے اٹھا کر تعلیم دلوانے کیلئے کوشاں ہیں۔ ایسے میں پشاور سے تعلق رکھنے والا ایک نوجوان عرب شاہ ہے جس نے انفرادی طور پر بچیوں کی تعلیم کا بیڑا اپنے سر اٹھا رکھا ہے۔ انہوں نے بچیوں کو تعلیمی اداروں تک رسائی کیلئے مفت ٹرانسپورٹ کی سہولت دے رکھی ہے۔ اس کار خیر کے ہیچھے انکی اپنی ایک منفرد کہانی بھی ہے۔

پشاور سے تعلق رکھنے والے 31 سالہ نوجوان رکشہ ڈرائیور عرب شاہ نے آج سے 8 سال قبل علاقے کی بچیوں کو تعلیم کے حصول کیلئے مفت ٹرانسپورٹ کی سہولت کا آغاز اسلئے کیاتھا کیونکہ انہیں اپنی پانچ بہنوں کا درد یاد ہے جب وہ چھوٹا تھا اور انکی پانچ بہنیں ٹرانسپورٹ نہ ہونے کے باعث تعلیم کے حصول سے محروم رہ چکی ہیں۔ کچھ عرصہ قبل وارسک روڈ کے رہائشی عرب شاہ کو انکے ایک جاننے والے نے اس غرض سے ایک رکشہ فراہم کیا تھا، تاہم بعدازاں بہت جلد ہی انہوں نے اپنا رکشہ خرید لیا تھا۔ کچھ ہی دنوں یہ خبر آس پاس کے علاقوں تک پھیلنے لگی، اسی طرح سوشل میڈیا کے ذریعے خبر دوسرے علاقوں تک بھی جا پہنچی، تو اپنے گاوں کے علاوہ بچیوں کی تعلیم کے خواہشمند لوگوں نے دوسرے علاقوں سے بھی انکے ساتھ رابطے شروع کر دیئے۔

عرب شاہ کے پاس اب بچیوں کی اچھی خاصی تعداد ہے جنکی خدمت کا سلسلہ انہوں نے جاری رکھا ہوا ہے اسکے علاوہ انہوں نے علاقے کے مدارس تک اپنی خدمت کا دائرہ کار بڑھا دیا ہے۔ ڈیڑھ سال قبل یہ خبر سوشل میڈیا کے ذریعے عالمی نوبل ایوارڈ یافتہ اور ضلع سوات/ پاکستان کی رہائشی ملالہ یوسفزئی تک پہنچی تو انکے والد نے عرب شاہ کیلئے ایک سوزوکی کا بندوبست کیا تاکہ زیادہ سے زیادہ بچیوں کو ٹرانسپورٹ کی سہولت مہیا کی جا سکے۔ اب تک ہزاروں یتیم، نادار، غریب بچیاں اس ٹرانسپورٹ سہولت کے ذریعے تعلیم حاصل کر چکی ہیں۔
اس وقت 100 سے زائد بچیاں اس سہولت سے فائدہ اٹھا رہی ہیں، جس میں پرائمری سے لیکر کالج لیول تک کی بچیاں شامل ہیں۔ اسی طرح مدارس میں پڑھنے والی بچیوں کی تعداد 50 سے زائد ہے۔ بعض اوقات بچے سکول فیس بھی ادا نہیں کرسکتے لہذا وہ ذمہ داری بھی عرب شاہ پر آن پڑتی ہے۔ عرب شاہ نے ابھی تک شادی نہیں کی، جسکے پیچھے یہی راز پوشیدہ ہے تاکہ قوم کی بچیوں کی خدمت کا یہ سلسلہ ڈسٹرب نہ ہو اور انکا فوکس صرف بچیوں کی تعلیم کے حصول ہی پر رہے۔ اب انکا ایک بھائی بھی اس کار خیر میں انکا ساتھ دے رہا ہے۔ کیونکہ رکشہ اور سوزوکی بیک چلانا انکے لئے ممکن نہیں۔

رات دیر تک محنت مزدوری کرکے رکشے کیلئے سی این جی کے خرچے کا بندوبست کرنا عرب شاہ کی روٹین ہے۔ انکے بڑے بھائی نے گھر کے سارے خرچے کا بیڑا اپنے سر اٹھا کر عرب شاہ کو اس کار خیر کے سلسلے کو جاری رکھنے کے لئے بھرپور فری ہینڈ و سپورٹ دے رکھی ہے۔ اس ضمن میں تمام گھر والوں، والدہ اور خصوصا ان بہنوں کی انہیں بھرپور حمایت حاصل ہے جو ایک زمانے میں ٹرانسپورٹ نہ ہونے کے باعث تعلیم کی روشنی سے محروم رہ چکی تھیں۔ عرب شاہ کے لئے یہ بات قابل اطمینان ہے کہ اپنی بہنیں تو انکی تعلیم حاصل نہ کر سکیں لیکن دوسری کی بہنوں بیٹیوں کو وہ علم کرانے میں مدد کر رہے ہیں۔ ان میں ایسی بھی کئی بچیاں ہیں جو پڑھ لکھ کر اب استانیاں بن چکی ہیں اور قوم کو بچیوں کو پڑھا رہی ہیں۔
اس حوالے سے روزانہ کی بنیاد پر سکول و مدارس کی بچیوں کو مفت ٹرانسپورٹ کی سہولت کا باقاعدہ ڈیٹا اکھٹا کیا جاتا ہے، یہ اعداد وشمار بعد میں بچیوں کے والدین تعلیمی اداروں کے ذمہ داران کیساتھ شئیر کیاجاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انکی سروسز پر نہ صرف والدین بھرپور اعتماد کرتے ہیں بلکہ اہل علاقہ اور تعیلمی اداروں کے ذمہ داران انکی خدمات کو بہترین الفاظ میں سراہتے ہیں۔ اس بااعتماد کار خیر کی بدولت وقتا فوقتا ایسی بچیوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔عرب شاہ کا کہنا ہے کہ انکو حکومت یا مخیر حضرات کی مدد کی کوئی ضرورت نہیں، انہوں نے حکومت اور عوام سے اپیل کی کہ ہزاروں، لاکھوں بچیاں ٹرانسپورٹ کی وجہ سے علم حاصل نہیں کر سکتیں، انہیں مفت ٹرانسپورٹ کی سہولت فراہم کریں تاکہ قوم کا کوئی بھی بچہ یا بچی تعلیم سے محروم نہ ہو۔


شیئر کریں: