علامہ خادم رضوی کا پنجاب کی تاریخ کے بڑے جنازوں میں سے ایک

شیئر کریں:

علامہ خادم حسین رضوی کے جنازہ نے حکومت اور عالمی اداروں کی آنکھیں کھول دیں۔
تحریک لبیک پاکستان کے سربراہ خادم رضوی کے جلوس جنازہ میں پنجاب بھر سے لوگوں
کی بڑی تعداد شریک ہوئی۔


اندروں لاہور کے علاقے میں گاڑیوں کے بجائے لوگ پیدل ہی مینار پاکستان کی طرف بڑھتے رہے۔
خادم رضوی کا شب حرکت قلب بند ہونے کے سبب انتقال ہوا اور آج مینار پاکستان پر جنازہ ہوا۔

مینار پاکستان سے ملحق پارک میں جگہ نہ ہونے کی وجہ سے علامہ خادم حسین رضوی کا جسد خاکی
سڑک پر ہی رکھ کر نماز جنازہ ادا کی گئی۔
اس موقع پر انتہائی رقت آمیز مناظر دیکھنے میں آئے ہر طرف سے لبیک یا رسول اللہ کی صدائیں
بلند ہوتی رہیں۔
علامہ خادم حسین رضوی کی نماز جنازہ علامہ عبدالستار سعید نے پڑھائی۔

ویسے تو جمعرات کی شب سے ہی مولانا کا دیدار کرنے کے لیے بڑی تعداد میں چاہنے والے لاہور پہنچ چکے تھے۔
مینار پاکستان کے ارد گرد کئی کلو میٹر تک خادم رضوی کے چاہنے والے ہی دیکھائی دیے ۔

فیض آباد دھرنا ایک بار پھر تحریک لبیک کی شرائط پر ہی ختم ہوا

خادم رضوی کیسے منظر عام پر آئے

خادم حسین رضوی 2017 کے فیض آباد دھرنے سے ملکی منظر نامے پر نمودار ہوئے۔
ان کی زندگی کا آخری دھرنا بھی فیض آباد 2020 ثابت ہوا دو روز پہلے حکومت سے معاہدہ ہوا
اور جمرات کی شب خالق حقیقی سے جا ملے۔
مولانا خادم رضوی نے زندگی کی صرف 54 بہاریں دیکھیں لیکن زندگی کے آخری چار سال وہ
ملکی منظر نامے پر چھائے رہے۔

خادم رضوی کا انتقال اور ہمارے دوہرے معیار

اب سوال یہ اٹھنے لگے ہیں کہ تحریک لبیک پاکستان کی قیادت کون کرے گا اور اس جماعت
کا مستقبل کیا ہوگا۔


شیئر کریں: