عراق کی پارلیمنٹ پر مظاہرین کا قبضہ قبل از وقت الیکشن کا مطالبہ

شیئر کریں:

عراق کی پارلیمنٹ پر مظاہرین کا قبضہ کئی روز سے جاری ہے۔ بااثر رہنما اور
پارلیمنٹ کی سب سے بڑی پارٹی کے سربراہ مقتدی الصدر نے اسمبلی توڑ کے
قبل از وقت الیکشن کا مطالبہ کر دیا ہے۔ مقتدی الصدر نے پارلیمنٹ میں بستر
لگائے مظاہرین سے کہا ہے کہ وہ اسمبلی توڑے جانے تک وہیں بیٹھے رہیں۔

عراق میں تقریبا ایک سال سے حکومت سازی تعطل کا شکار ہے۔ سیاسی جماعتیں
باالخصوص مقتدی الصدر کی جماعت وزیراعظم کے نام پر متفق نہیں ہوپارہی ہے۔
جس کی وجہ سے ملک میں باقاعدہ حکومت نام کی کوئی چیز نہیں ہے اور بجٹ
بھی پیش نہٰیں کیا جاسکا ہے۔

عراق میں مظاہرین نے پھر پارلیمںٹ‌ پر قبضہ کر لیا

پچھلے اتوار سے مظاہرین پارلیمنٹ کے اندر قبضہ کیے بیٹھے ہیں۔ پارلیمنٹ کے
اردگرد اور کھانے پینے کے اسٹال لگادیے گئے ہیں۔
مقتدی الصدر نے گزشتہ روز اپنے ٹیلی ویژن پر خطاب میں دوسری جماعتوں سے بات
چیت کا امکان مسترد کر دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے پہلے انتخابات کا اعلان کیا جائے پھر
بات کریں۔

سری لنکا کے بعد عراق کی پارلیمنٹ پر بھی مظاہرین کا قبضہ

اقوام متحدہ نے بھی عراق کی سیاسی جماعتوں سے کہا تھا کہ وہ اپنے ملک کو اقتدار
پر ترجیح دیں اور معمالات طے کریں۔
9 جولائی کو سری لنکا کے عوام نے بھی صدارتی محل پر قبضہ کر لیا تھا اور دو
دہائیوں سے اقتدار پر قابض پاکسے خاندان کو فرار پر مجبور کیا۔ سری لنکا کے عوام
کرپشن، بے روزگاری، توانائی کے بحران اور بدانتظامی کے خلاف باہر نکلے تھے
بالکل یہ الزامات عراق میں بھی لگائے جارہے ہیں۔


شیئر کریں: