عالمی سامراج نے فلسطین کا نام لینا جرم بنا دیا

شیئر کریں:

دنیا میں جہاں بھی کوئی مظلوم عوام کے ملک فلسطین کا ذکر بھی کرے تو ان کے خلاف کارروائی کر دی جاتی ہے۔
امریکا کی ماڈل بیلا حدید نے سوشل میڈیا کمپنی پر فلسطین سے متعلق پوسٹ ہٹانے پر سوالات اٹھا دیئے۔
نوجوان فلسطینی نژاد امریکی ماڈل نے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر والد کے امریکی پاسپورٹ کی تصویر شیئر کی۔

پوسٹ پر اپنے والد کی جائے پیدائش فلسطین لکھنا ان کے لیے جرم بنا دیا گیا۔
بیلا حدید کے دنیا بھر میں فالوورز کی تعداد تین کروڑ دس لاکھ سے بھی زائد ہے۔

انہوں نے انسٹا گرام کی جانب سے موصول پیغام شیئر کر دیا “ان کی پوسٹ کمیونٹی ہدایات
کے مطابق نہ ہونے پر ہٹائی گئی ہے”

بیلا حدید نے اپنے اکاؤنٹ پر انسٹاگرام کو ٹیگ کرکے سوال اٹھایا اگر انہیں اپنے والد کی جائے پیدائش
فلسطین ہونے پر فخر ہے تو ان کی پوسٹ کا کون سا حصہ کمیونٹی ہدایات کی خلاف ورزی کرتا ہے؟
کیا ہمیں انسٹاگرام پر فلسطینی ہونے کی اجازت نہیں؟

کشمیر اور فلسطین میں یکسان داستان

انہوں نے انسٹاگرام کمپنی سے پوچھا کہ کس طرح سے ان کی پوسٹ ہراسگی یا جنسی مواد کی تشہیر کرتی ہے؟
بیلا حدید کے خیال میں انسٹاگرام پر بطور فلسطینی اظہار رائے کا حق نہ رکھنا ہراسگی ہے۔
لوگوں کو خاموش کروا کے فلسطین کی تاریخ نہیں مٹائی جا سکتی۔

پورا فلسطین فلسطینی عوام کا ہے

بیلا حدید نے انسٹاگرام سے پوسٹ ہٹائے کے بعد دوبارہ والد کے پاسپورٹ کی تصویر پوسٹ کردی۔
“میرے والد 6 نومبر 1948 کو فلسطین میں پیدا ہوئے انہیں فلسطینی ہونے پر فخر ہے”
انہوں نے اپنے فالوورز کو بھی والدین کی تصاویر کے ساتھ اپنی جائے پیدائش پوسٹ کرنے کو کہا۔
ماڈل بیلا کے والد ایک بڑی کاروباری شخصیت ہیں۔

امریکی ماڈل سوشل میڈیا کے ذریعے فلسطینیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتی رہتی ہیں۔
2017 میں فلسطینی کی آزادی کے لیے ہونے والے لندن مظاہرے میں بھی شریک ہوئی تھیَں۔


شیئر کریں: