عالمی اداروں نے چین کے بعد ایران اور پاکستان کو ٹارگٹ کر لیا

شیئر کریں:

تحریر: عمید اظہر

ایف اے ٹی ایف کے دباو کے بعد کینیڈا نے ایران پر معاشی پابندیاں عائد کردیں۔
فائنانس ٹرانزیکشنز اینڈ رپورٹس اینالسس سینٹر آف کینیڈا نے ایف اے ٹی ایف کی ہدایات پر پابندیاں لگائی ہیں۔
ایران پر 25 جولائی سے نافذ کی گئی پابندیوں کا مقصد ملک کے معاشی حقوق کا تحفظ قرار دیا گیا ہے۔
مالیاتی ادارے نے ایران پر منی لانڈرنگ، دہشت گردوں کی امداد اور دوسرے ممالک کے معاشی نظام کو نقصان پہنچانے کا الزام عائد کیا ہے۔

ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کی مہلت بڑھا دی

کینیڈین وزیر خزانہ کا کہنا ہے کہ ایران پر پابندیاں کینیڈا کے فائنانس ایکٹ کے تحت لگائی ہیں۔
پابندیوں سے دہشت گردوں کی مالی معاونت اور منی لانڈرنگ روکنے میں مدد ملے گی۔
کینیڈا کی پابندیوں کے بعد ایران سے تبادلہ کی گئی رقم کو انتہائی حساس ترسیل رقم میں شامل کرلیا گیا ہے۔
اب کینیڈا سے ایران یا ایران سے کینیڈا بھیجی جانے والی ہر ٹرانزیکشن پر نظر رکھی جائے گی۔
کینیڈا نے ایران پر ابھی مکمل معاشی پابندیاں عائد نہیں کیں بلکہ رقم کی ترسیل کی ایک حد مقرر کی ہے۔
نئے قانون کے مطابق کوئی بھی ادارہ یا شخص ایران کے ساتھ ایک دن میں صرف 10ہزار کینیڈین ڈالر کی ترسیل ہی کرسکے گا۔
10ہزار ڈالر سے زائد رقم کی ترسیل پر مکمل پابندی ہوگی۔

‏ایف اے ٹی ایف کے پاکستان سے 150 سوال

ایرانی کرنسی سے کینیڈین کرنسی میں تبدیلی یا کینیڈا کی کرنسی سے ایرانی کرنسی میں تبدیلی سے پہلے تمام معلومات حکام کو دینا ہوں گی۔
یہی نہیں کینیڈا میں مقیم شہری بھی اگر ایران کو کوئی رقم بھیجنا چاہتے ہیں تو وہ ایک دن میں 10ہزار سے کم ہوگی اور رقم بھیجنے کی وجوہات سمیت آمدن کی ذرائع بھی حکومت کو بتانا ہوں گے۔
نئے قوانین کے تحت اگر کوئی شخص صرف 3ہزار ڈالر کی ترسیل بھی کرنا چاہتا ہے تب بھی اسے تمام معلومات اور ثبوت کینیڈین حکومت کو مہیا کرنے ہوں گے۔

ایف اے ٹی ایف کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال نہ کیا جائے

ایف اے ٹی ایف کی سفارش پر کینیڈا نے اچانک ایران پر پابندیاں کیوں عائد کیں؟
اس سوال کا جواب ہمیں حال ہی میں ایران اور چین کی بڑھتی ہوئی قربت سے مل جائے گا۔
دونوں ممالک نے معاشی طور پر ایک دوسرے پر انحصار کرنا شروع کردیا ہے جو بات مغرب کو سخت ناپسند ہے۔
ایران اور چین پہلے سے ہی مغربی پابندیوں کی زد میں ہیں۔
امریکا سمیت دیگر مغربی ممالک کی جانب سے ایران اور چین کو پہلے ہی تجارتی، معاشی اور سفارتی پابندیوں کا سامنا تھا۔
پابندیوں کی وجہ سے دونوں ممالک نہ صرف آزادانہ تجارت سے محروم تھے بلکہ انہیں معاشی نقصان کا بھی سامنا تھا۔
ایف اے ٹی ایف اور کینیڈا کی طرف سے عائد پابندیوں کے پیچھے بڑی وجہ ایران اور چین کے 25 سالہ آپسی معاہدہ کو قرار دیا جارہا ہے۔
دونوں ممالک نے اربوں ڈالر کے دفاع، انرجی اور دیگر معاشی منصوبوں کے معاہدے کیے ہیں۔
معاہدے کے تحت ایران چین کو سستا تیل فراہم کرے گا۔
چین ایران میں400ارب ڈالر سے زائد رقم مختلف منصوبوں پر خرچ کرے گا۔

ایف اے ٹی ایف کو رام کرنے کا آخری موقع

دونوں ممالک نے وسیع پیمانے پر دفاعی معاہدے بھی کر لیے ہیں جو ایران کی دفاعی صلاحیت کو مزید مستحکم کردے گا۔
ایران کے بعد پاکستان کو بھی ایف اے ٹی ایف کی بلیک لسٹ میں شامل کیا جاسکتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ تحریک انصاف ایف اے ٹی ایف کی ہدایات پر قانون سازی ایف اے ٹی ایف کے اگلے اکتوبر اجلاس سے پہلے کرنا چاہتی ہے۔
اگر عالمی ادارے کی ہدایت پر حکومت منصوبہ بندی میں ناکام رہی تو پاکستان کا بلیک لسٹ میں جانا یقینی ہے۔
اگر پاکستان ایف اے ٹی ایف کی بلیک لسٹ میں جاتا ہے کہ پاکستان پر معاشی پابندیوں کے ساتھ ساتھ شہریوں پر سفری پابندیوں کا بھی سامنا کرنے پڑے گا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان پر سی پیک کی وجہ سے عالمی مالیاتی ادارے دباو بڑھا رہے ہیں۔
چین پاکستان میں بھاری سرمایہ کر رہا ہے جس پر امریکا سمیت دیگر مغربی ممالک کو شدید تشویش ہے۔
ذرائع کے مطابق ایف اے ٹی ایف اور آئی ایم ایف پابندیوں کا دباو بڑھا کر چینی سرمایہ کاری کی تفصیلات تک رسائی حاصل کرنا چاہتا ہے۔
مغرب کو پاکستان، چین اورایران کی صف بندیوں پر بھی تشویش ہے۔
عالمی تھینک ٹینکس کے مطابق دنیا کا بیلینس آف پاور مغرب سے چین، پاکستان، ایران اور روس کی طرف شفٹ ہو رہا ہے۔
آنے والے دنوں میں چین نہ صرف دنیا کی سب سے بڑی معاشی طاقت بن جائے گا بلکہ فضائی میدان میں بھی چین امریکا کو پیچھے چھوڑ دے گا۔


شیئر کریں: