عابد کی عدم گرفتاری پر ریاست کے ساتھ میڈیا بھی خاموش

شیئر کریں:

لاہور موٹروے زیادتی کیس کے مرکزی ملزم عابد علی کی گرفتاری میں ناکامی پر سب ہی
نے خاموش سادھ لی ہے۔
9 ستمبر 2020 کو لاہور کے گجر پورہ میں موٹر وے پر خاتون کے ساتھ اجتماعی زیادہ کی گئی۔

بچوں کے سامنے ماں کی عزت تار تار کیے جانے کے واقعہ کو 16 روز گزر گئے لیکن مرکزی ملزم عابد علی
کو گرفتار نہیں کیا جاسکا۔

موٹر وے پاکستان میں محفوظ ترین شاہراہ تصور کی جاتی ہے لیکن اس واقعہ نے سب کو ہلا کر رکھ دیا
لیکن نہیں ہلایا تو وہ حکمران ہیں۔

دو ہفتے صرف بیان بازیوں میں گزار دیے اور پہلے ہی روز کہہ دیا گیا کہ ہم جلد خوشخبری سنائیں گے۔
پنجاب پولیس کی ناکامی چھپانے کے لیے صوبائی کے ساتھ ساتھ وفاقی حکومت نے بھی اپنا کردار ادا کیا۔

آئی جی پنجاب اور سی سی پی او لاہور کی پشت پناہی آج تک کی جارہی ہے لیکن ملزم کی گرفتاری پر
اب کوئی بیان نہیں دیا جارہا۔

سی سی پی او لاہور نے اپنی ناکامی تسلیم کرنے کے بجائے الٹا کہہ دیا تھا کہ خاتون رات بارہ بجے گھر
سے نکلی ہی کیوں تھی۔

27 سالہ عادی ملزم عابد علی کو جو پولیس اور قانون نافذ کرنے والے ادارے گرفتار نہ کرسکے ان سے
پھر کیا توقع رکھی جاسکتی ہے؟

پاکستان کے شہری اسی لیے اب سوال اٹھا رہے ہیں کہ ہر مرتبہ قریب پہنچنے کے باوجود پولیس آخر کیوں
ملزم کو گرفتار نہیں کر پاتی؟

کہیں ملزم عابد علی کی زندہ گرفتاری سے اعلی پولیس افسران کے راز فاش ہونے کا خدشہ تو نہیں؟
کہا یہی جارہا ہے کہ ملزم عابد پولیس کے کہنے پر کارروائیاں کرتا رہا ہے۔
جیل سے بھی جلد باہر آجایا کرتا تھا اور درجنوں واقعات میں ملوث ہے۔

شہریوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس واقعہ کو بھی دیگر واقعات کی طرح ٹھنڈا کردیا جائے گا۔
کچھ وقت کے بعد سانحہ کے مرکزی کردار عابد علی کی مقابلے میں ہلاکت ظاہر کر دی جائے گی۔


شیئر کریں: