طلال چوہدری لہو لہان واقعہ کے نشانات مٹانے کی کوششیں تیز

شیئر کریں:

مسلم لیگ ن کے سابق وفاقی وزیر داخلہ طلال چوہدری کے زخمی ہونے کا ان دنوں ہر سو چرچا ہے۔
جسے دیکھو فیصل آباد میں ہونے والے واقعہ کو لے کر تبصرہ کر رہا ہے۔
طلال چوہدری اور عائشہ رجب علی دنوں ہی واقعہ کے حقائق پر پردہ ڈالنے کی کوشش کر رہی ہیں۔
طلال چوہدری نے لہولہان ہونے کے واقعہ کے حقائق مٹانے کی کوششیں بھی تیز کر دی ہیں۔

مسلم لیگ ن کی قیادت فوج مخالف بیانات پر تو یکسو تھی لیکن طلال چوہدری کے زخمی ہونے
پر مخمصہ کا شکار ہے۔
پارٹی قیادت طلال چوہدری کی پٹائی کو حادثہ قرار دے رہی ہے۔

فوج مخالف بیان دینے والے طلال چوہدری کو لہولہان کر دیا گیا

دوسری جانب حقیقت یہ ہے کہ سابق ایم این اے کی خوبروہ اہلیہ عائشہ رجب علی اور ان کے بھائیوں
نے طلال چوہدری کی پٹائی کی ہے۔

طلال چوہدری کی رات تین بجے کس طرح درگت بنائی گئی اس واقعہ کی ویڈیو ڈی ایس پی
اور عائشہ کے بھائیوں کے پاس محفوظ ہے۔

طلال چوہدری نے خود اپنے موبائل سے کال کر کے پولیس کو بلایا تھا مدینہ ٹاؤن تھانہ کے اے ایس آئی
نے ان کا بیان بھی ریکارڈ کیا تھا۔

اس کے برخلاف طلال چوہدری کہتے ہیں کہ وہ تنظیم سازی کے امور پر بات کرنے مرحوم ایم این اے
کی بیوہ عائشہ کے گھر گئے تھے۔

اگر یہ بات مان بھی لے جائے تو لیکن یہ کون تسلیم کرے گا کہ میٹنگ کا وقت رات تین بجے؟
اس میٹنگ میں طلال چوہدری، عائشہ رجب علی، عائشہ کا نوجوان بیٹا روشان اور عائشہ کے
بھائی موجود تھے۔
ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ طلال چوہدری نے عائشہ کے بیٹے کو بلیک میل کیا تھا۔
طلال اس کے ذریعے عائشہ پر شادی کے لیے دباؤ ڈال رہے تھے۔
واقعہ کے وقت روشان نے خودکشی کا ڈرامہ بھی رچایا لیکن عائشہ کے بھائیوں نے پکڑ لیا۔
پھر کچھ دیر بعد روشان نے سب کچھ بیان کر دیا کہ کس طرح طلال چوہدری اسے بلیک میل کر رہا تھا۔
یہ سنتے ہی عائشہ اور اس کے بھائیوں نے جو ہاتھ لگا اس سے طلال چوہدری کی دھلائی کر ڈالی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ کافی مار پٹائی کے بعد طلال چوہدری نے پیروں پر پڑ کر معافی مانگی جس پر
انہیں فون واپس کیا گیا۔

اصل واقعہ یہ تھا لیکن بعض میڈیا نے مسلم لیگ ن کی طرف سے جاری کی گئی حادثہ کی خبر نشر کی ہے۔
پاکستان کی سیاست میں اس طرح کے واقعات کم ہی پیش آتے ہیں۔

مستقبل میں ایسے واقعات کی روم تھام کے لیے سیاسی جماعتوں کو چاہیے کہ وہ اپنے رہنماؤں اور کارکنوں
کو ایک دوسرے کے احترام کی تربیت کا بندوبست بھی کریں۔

معاشرے کے لیے بھی یہ لمحہ فکریہ ہے کہ جس قوم کے رہنما ایسی حرکتیں کریں گے تو پھر دوسروں کا
تو کوئی حال نہیں ہو گا۔


شیئر کریں: