طبیب قاتل ہیں؟

شیئر کریں:

تحریر محمد امنان

گذشتہ دنوں وزیر ہوا بازی غلام سرور خان نے کراچی طیارہ حادثہ کی ابتدائی رپورٹ اسمبلی
اور پریس کانفرنس کے دوران پڑھ کر بار بار سنائی اور حادثے کا ذمہ دار پائلٹس کے ذہنوں پہ
مسلط کورونا کے خوف کو قرار دے دیا۔

انکوائری کمیشن رپورٹ مشکوک کیوں ہوتی ہیں؟

یہاں تک بات کچھ کچھ سمجھ آتی ہے کہ ملک عزیز میں کسی بھی انکوائری کمیشن رپورٹ کے
معاملات اکثر و بیشتر بلکہ ہر بار مشکوک اور پراسرار سے رہے ہیں۔

اس کے بعد وزیر ہوا بازی کا ہوائی بیان یہ تھا کہ 262 پائلٹس کے لائسنس جعلی اور بوگس ہیں
جس کے بعد پوری دنیا میں قومی ائیر لائن کے داخلے بیشتر ممالک میں بند ہو گئے۔

بڑی جگ ہنسائی کی بات ہے موجودہ حکومت کے وزرا اور حواری یا ماننے والے اس بات کو اس
انداز سے ڈیفینڈ کرتے نظر آتے ہیں کہ بھئی انکو لائسنس کس نے جاری کئے؟
یہ پچھلی حکومتوں کا کام ہے اور کہ پی ٹی آئی کے وزیر نے سچ بولا وغیرہ وغیرہ۔

عطائیوں کا کون پتہ چلائے گا؟

اگر لگے ہاتھ ان افراد پر بھی انکوائری کمیشن بنایا جائے جنہوں نے لائسنس جاری کئے تو
معاملات کہیں دور بہت دور نکل جائیں گے خیر میرا مدعا کچھ اور ہے۔

کہنا یہ چاہ رہا ہوں چند گنے چنے قارئین سے کہ فیصل آباد کے نواح میں تاندلیانوالہ کے نام سے
علاقہ ہے جہاں کے اسسٹنٹ کمشنر اسامہ شارون نیازی نے ڈی ڈی ایچ او کے ساتھ مل کر
ایک مشترکہ کارروائی کے دوران دو کلینک جن میں ایک ریاض ڈینٹل اور دوسرا شمس کلینک کو سیل کر دیا۔

ماسک ساز صحافی مزدور

عطائیوں کے خلاف کارروائیاں اس سے قبل بھی ہوتی رہی ہیں لیکن یہ حالیہ کارروائی کچھ ہلا دینے
والی تھی اسسٹنٹ کمشنر تاندلیانوالہ اسامہ شارون نے بتایا کہ دونوں کلینکس پر نہ تو سٹریلائزیشن
کا باقاعدہ نظام تھا اور نہ ہی کلینک ویسٹ کو تلف کرنے کا کوئی انتظام نظر آیا۔

سب سے چونکا دینے والا انکشاف جو اسسٹنٹ کمشنر نے کیا وہ یہ تھا کہ ان کلینکس پر استعمال
ہونے والی وائلز(شیشیاں) جانوروں کی ادویات والی تھیں۔

یعنی نیم حکیم جانوروں اور انسانوں کو ایک ہی چھت تلے ایک دوسرے کی دوائیاں دے کر پیسے اینٹھ کر علاج فرما رہے تھے۔
کورونا نے بھرکس نکال رکھا ہے اور چند ڈاکٹروں سمیت عطائیوں نے بیمار شہریوں کا خون بھاری فیسوں اور اپنے ہی تیار کردہ طریقہ علاج سے چوسنا شروع کر رکھا ہے۔

اسسٹنٹ کمشنر سے دونوں کلینک سیل کر کے عطائی ڈاکٹروں کو فوری گرفتار کر کے مقدمات درج کروا دئیے ہیں مگر ایسے کتنے ہی نیم حکیم اور جعلی طبیب جانے ملک کے کس کس کونے میں بیٹھ کر خطرناک طریقہ علاج سے شہریوں کی جانوں سے کھیل رہے ہیں کسے خبر۔

یہاں حکومت اور متعلقین کے لئے زندگی لطیفہ ہے
قہقہہ لگانے دو

ایک بہت ہی قابل اور سنئیر ڈاکٹر میرے دوست ہیں جو فیصل آباد ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے جنرل سیکریٹری ہیں ڈاکٹر عرفان ان کا نام ہے ان سے اس سلسلہ میں بات ہوئی تو ڈاکٹر عرفان نے کہا کہ یار ان عطائیوں نے ڈاکٹرز کی رہی سہی ساکھ ایسے خراب کر رکھی ہے جیسے پیراشوٹر اور موسمی دیہاڑی داروں نے محنت سے کام کرنے والے جرنلسٹس کی کر رکھی ہے۔
ایسے طریقہ علاج شفا بانٹنے کی بجائے انسانی جانوں کو سنگین خطرے میں ڈال دیتے ہیں حکومتی سطح پر برائے نام اقدامات سے محکمہ صحت کا نظام دن بدن بگڑ رہا ہے مریض بڑھ رہے ہیں اور طبیب کم ہیں نیم حکیم شہریوں کی جانوں کے درپے ہیں لیکن ایکشن لینے والے صرف بیانات اور ٹویٹوں تک محدود ہیں۔

صحافیوں سے مجھے فیصل واوڈا کا ایک ٹویٹ یاد آگیا موصوف ایک صحافی کو ٹویٹ پر اوئے توئے کہہ کر پکار رہے تھے۔
اس صحافی نے واوڈا سے رسیدیں مانگی تھیں جس پر پی ٹی آئی کے اس وزیر نے اس پارٹی کا اصل رنگ دکھا کر صحافی کے لئے اخلاق سے گرے الفاظ استعمال کئے چند ایک صحافیوں نے اس کی مذمت بھی کی۔

خیر معاملہ تھا عطائیوں کے انسانی علاج کے لئے جانوروں کے لئے مخصوص طریقہ علاج اپنانا جس پر آج تک کوئی انکوائری کمیٹی نہیں بن پائی کہ یہ عطائی کہاں سے آتے ہیں۔

عطائی اور ڈاکٹرز کتنے ہیں؟

کون انہیں اجازت دیتا ہے کہ یہ انسانی جانوں سے کھیلیں اور انسانوں کو شفا کی بجائے مزید بیماریاں بانٹیں۔
ایک محتاط اندازے کے مطابق پاکستان میں ایک لاکھ دس ہزار کے قریب ڈاکٹرز رجسٹرڈ ہیں جن میں سے 25 ہزار دیگر ملکوں میں خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔

جبکہ پاکستان میں بچ جانے والے 85 ہزار ڈاکٹرز کی ملکی آبادی کے لحاظ سے شرح فی ڈاکٹر ایک ہزار سے زائد افراد کے علاج کے لئے مختص ہے۔

پی ٹی آئی کے منشور میں صحت کا نظام بہتر کرنا بھی تھا لیکن کورونا اور اس سے بھی بڑا مسلہ پی ٹی آئی کے لئے شاید سابقہ حکومتیں ہیں اس حکومت کو آج تک اپنی حکومت کے ہونے کا احساس نہیں ہو سکا خیر یہ انکا اپنا معاملہ ہے۔

میرا مدعا جو میں سمجھانا چاہ رہا تھا وہ یہ تھا کہ پاکستان کی سلامتی اور بقا کے لئے چند کمیشن بنائے جانا از حد ضروری ہیں۔

جن میں سیاسی طبیبوں، انسانی مسیحاوں اور خبری طبیبوں کی چھان پٹھک کر کے اگر ان شعبہ ہائے جات کو صاف کر لیا جائے تو کیا ہی مزے ہو جائیں۔

لیکن ایسا کرے گا کون ؟؟ کون ہمت کرے گا ہمارا وزیر اعظم خود مافیا مافیا کی گردان کرتے تھکا ہارا سا نظر آتا ہے ملک عزیز میں چل کیا رہا ہے کسی کو خبر ہے پر سب انجان بنے بیٹھے ہیں۔

ہاں یاد آیا وفاقی وزیر ہوا بازی غلام سرور خان کی اپنی ڈگری اور ڈپلومے وغیرہ مشکوک رہے ہیں لیکن یہاں سب چلتا ہے بھائی کس سے منصفی چاہیں؟؟؟؟

شور اتنا تھا کہ آواز بھی ڈبے میں رہی
بھیڑ اتنی تھی کہ زنجیر نہیں کھینچ سکا


شیئر کریں: