طالبان نے حسینی پرچم اتارنے پر معزرت کر لی مجلس میں بھی شرکت

شیئر کریں:

افغانستان میں ایک مرتبہ پھر سے مزہبی منافرت پھیلانے کی سازش طالبان نے ناکام بنا دی ہے۔ افغانستان
کے شمالی علاقے مزار شریف میں طالبان کے سیکیورٹی حکام مولوی عبدالقادر نے مسجد و امام بارگاہ
محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ والیہ وسلم میں مجلس عزا اور ماتمی جلوس میں شریک ہوئے۔

طالبان رہنما نے کچھ طالبان ارکان کی جانب سے حسینی پرچم گرائے جانے کے اقدام پر معذرت کرتے ہوئے
واقعہ کو غیر ذمہ دارانہ فعل قرار دیا۔ ہم اپنے شیعہ بھائیوں کی توہین نہیں کرنا چاہتے اور مزار شریف
میں بھائیوں کی طرح اکٹھے رہنا چاہتے ہیں۔

طالبان رہنما نے اس موقع پر واضح کیا کہ میں حنفی صوفی ہوں۔ میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ والیہ وسلم
کے نواسے امام حسین علیہ السلام کا احترام کرتا ہوں اور میں ان کی شہادت پر میں بھی غمزدہ ہوں۔

افغانستان میں طالبان کے دوسرے دور کا آغاز، بریف کیس سیاستدان فرار

طالبان حکام نے عزادارون کو یقین دلایا کہ کسی کو بھی دوسروں کی مذہبی رسومات میں مداخلت کا حق
نہیں دیا جائے گا اور شیعوں پر حملہ کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

خیال رہے طالبان کی سوچ اور فکر میں ماضی کے مقابلے میں بڑی تبدیلی آئی ہے۔ 90 دہائی میں اسی
مزار شریف اور بامیان میں طالبان نے ہزارہ برادری کا قتل عام کیا تھا۔ کابل پر قبضہ سے پہلے تک
ہزارہ کی مساجد امام بارگاہوں، اسپتالوں اور تعلیمی اداروں پر خودکش حملے معمول تھے لیکن اب
طالبان نے ماضی سے سبق سیکھتے ہوئے سب کو برابری کے حقوق دینے کا عہد کیا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ طالبان نے پہلی بار اپنا ایک کمانڈر ہزارہ برادری سے لیا ہے۔ باہمی راواری ہی میں
چالیس سال سے جنگی حالات کا سامنا کرنے والے افغانوں کی زندگی میں سکون آسکتا ہے۔

افغانستان میں امن سے پڑوسی ممالک اور خطے کی فضا بھی معاشی سرگرمیوں کے لیے سازگار
ہو سکے گی۔


شیئر کریں: