ضدی وزیر اعظم اور گیارہ بلیک میلرز جنازے

شیئر کریں:

تحریر: شجر عباس

سانحہ مچھ جس میں ہزارہ کمیونٹی کے گیارہ بےگناہ اور مظلوم مزدوروں کو جس بے دردی اور بربریت سے قتل کیا گیا اس کی کوئی نظیر نہیں ملتی ۔ دوسری طرف نام نہاد ریاست مدینہ و بالخصوص وزیر اعظم عمران خاں کی بے حسی ، رعونت ، انانیت اور بے رحمی کی بھی دور دور تک کوئی نظیر و مثل نہیں ۔ ایک طرف ظاہری طور پر لاشیں جنازے اور مظلومیت تھی اور دوسری طرف ظلُم و استبداد جبر اور بے حسی تھی ۔ ایک طرف موسم کی سختیاں آہیں سسکیاں اور آنسو تھے دوسری طرف طعن تشنیہ اور طنز بھرے لہجے تھے ۔

ایک طرف اپنے جوانوں کے لاشوں پر بین کرتی مائیں بہنیں اور بیٹیاں اس انتظار میں 6 دن اس لیئے بیٹھی رہیں کہ اُن داد رسی ، اشک شوئی ، اور دلی جوئی کے لئے اسلام آباد سے وقتِ حاکم اور چنتخب وزیر اعظم آئے گا اور ان مظلوموں کے آنسو پونچھے گا لیکن دوسری طرف وہ بے دل انسان اپنی فرعونیت میں مست ہوکر ترکی کے ایکڑوں کے ساتھ خوش گپیوں اور قہقہوں میں نیم مدہوش تھا ۔ اور یوٹیوبرز کو یہ ٹاسک دے رہا تھا کہ میری ناکامیوں کو کامیابیوں میں تبدیل کر کے حکومت کی قصیدہ خوانیاں کیسے بیان کرنی ہے ۔

بے شرمی اور ڈھٹائی کی حد تو اسُ وقت ہوئی جب ایک توہم پرست ، جہلی عملیات اور جادو ٹونوں پر یقین کرنے والے شخص نے اپنے خطاب میں یہ دلائل اور عزر پیش کیا تھا کہ وراثا اپنے پیاروں کے لاشے پہلے دفنائیں میں پھر آؤں گا کیونکہ میں وزیراعظم ہوں اور آپ مجھے بلیک میل نہیں کر سکتے ۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیسے مظلوم نہتے خواتین مائیں بہنیں بیٹیاں بچے اور ستر ستر اور اسی اسی سال کے بزرگ کٹے لاشوں کے ساتھ حکمرانِ وقت کو بلیک میل کرسکتے تھے ۔ جناب خان صاحب ماضی قریب میں اپنے ارشادات میں فرمایا کرتے تھے کہ جتنا میں مغربی تہذیب و تمدن جس میں بے مروتی اور بے حسی ہے کو جانتا ہوں شائد ہی کوئی جانتا ہے اور ساتھ ہی اپنی مشرقی روایات اور اخلاقیات کا درس بھی دیتے تھے ۔

شائد یہ ساری کہانیاں اور قصے سن کر ہزراہ برادری کے معصوم لوگوں نے بھی سوچا ہو گا کہ ہماری مشرقی روایات اور تہذیب میں ہے کہ جب بھی کوئی سانحہ یا حادثہ پیش آتا ہے تو لوگ اپنے بڑوں کے آنے کا انتظار کرتے ہیں صرف اس لئے کہ اُن کا بڑا جب آئے گا تو نہ صرف وہ انُ کی داد رسی کرے گا بلکہ اس کے لئے یہ عزت و تکریم ہو گی کہ وہ خود اپنے لوگوں اور پیاروں کو دفنائے گا ۔ لیکن اس گھر یعنی پاکستان کا وزیراعظم اپنی شہریوں یا بچوں کے انتظار کو بلیک میل کرنا سمجھتا ہے ۔

گویا یہ کہا جائے کہ انسانیت ہار کر مر رہی تھی اور جنونییت تکبر اور ضد جیت گئے ۔ خانوں کے خان کی یہ تاریخ رہی ہے کہ اپنے کزن نجیب اللہ قریبوںدوستوں نعیم الحق اور کرکٹرعبدالقادر کا جنارہ چھوڑ ہی چکے تھے لیکن ان مظلوم بے کس اور مفلوک الحال مزدوروں کے جنازے چھوڑنے کا کیا مقصد تھا وہ صرف ایک ہی بات ہے کہ جو لوگ جہلی عملیات اور جادو پر یقین رکھتے ہیں اُن کو عامل یا جادو گر سب سے پہلے یہ بتاتے ہیں کہ کسی جنازہ میں آپ نے شرکت نہیں کرنی ۔ جس کا ثبوت بے رحم خان صاحب نے دے دیا ہے ۔

اور جب ظاہری طور پر کفر کو توڑا بھی تو مظلوم بے کسوں کی ماؤں بہنوں اور بیٹیوں کے پاس خود نہ گئے بلکہ اُن کو اپنے شاہی دربار میں پیش ہونے کو کہا کیا یہ انسانیت اور انسانی اقدار کی تزلیل نہیں کیا یہ تکبر نہیں ۔ کیا یہ مدینہ کی ریاست ہے یا ریاست یزید ہے ۔ کہ واقع کربلا امام حسین ع اور اُن کے پیاروں کی شہادتوں بعد خانوادہ اہلبیت ع کی پاک اور طاہر شہزادیوں کو دربار یزید میں پیش کیا گیا ۔

اسیُ طرح سنت یزیدی پر عمل کرتے ہوئے خان صاحب نے بھی ہزارہ کی خواتین کو طلب کیا ۔ اور اپنا رعب دبدبہ اس طرح جتایا کہ میں وزیر اعظم ہوں میں پہلے تو آپ کے پاس آیا تھا لیکن اب میں وزیراعظم ہوں میرے کچھ تقاضے ہیں ۔ خان صاحب ذرہ سوچیں یہ ظاہری تخت و تاج یزید اور فرعون کے بھی تھے لیکن اُن کا نام لیوا بھی نہیں ۔ بلکہ آج لوگ اگر کسی کو بددعا یا گالی دیں تو اسے فرعون اور یزید کہتے ہیں ۔ آپ بھی کیا یہی چاہتے ہیں کہ تاریخ میں ایسے ہی پکاریں جائیں ۔

آپ کے اس طرز عمل پر آپ کے وزیر مشیر بھی ٹیوٹر پر اپنے پیغامات میں ہزراہ والوں سے کہہ رہے تھے کہ اے مظلوموں ہم شرمندہ ہیں ۔صرف وہی نہیں بلکہ صحافت کے عظیم پیشے کو بدنام کرنے والے بدنما داغ جو آپ کی نااہلیوں اور جہالت پر بھی قصیدہ خوانیوں پر مامور جہلی صحافی وہ بھی چیخ چیخ کر آپ کی بے حسی ہٹ دھرمی اور خود غرضی پر نادم اور اظہارِ برمی کر رہے تھے ۔

جہاں تک معاملہ ہے کہ ہزارہ والوں نے لاشوں کو کیوں دفنایا ۔ جس کو آپ کامیاب مزاکرات یا ڈائیلاگ کی کامیابی کہے رہے ہیں اصل میں حقیت اسکے برعکس ہے کیونکہ نام نہاد لیڈروں کی طرح نام نہاد ملاؤں نے بھی جب یہ دیکھا کہ ایک طرف وہ اس مظاہرے میں مظلوم اور مجبور ہزارہ والوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے طور پر غم میں شامل ہیں اور دوسری طرف وہ آپ حکومت میں اتحادی ہیں حکومتی لذتوں اور نشوں کو وہ کیسے چھوڑ سکتے ہیں ۔

جب آپ کے وزیروں اور مشیروں کی آفروں کو ٹھوکر مار دی گئ اور مزاکرات بار بار ناکام ہوئے تو ملاؤں نے چال چلی کہ ایک ہی طریقہ ہے بگڑئی ہوئی بساط کو بچانے کا تو پھر انھوں نے ایران کے مجتہد مکارم شیرازی سے رابطہ کیا کہ آپ ہی ڈوبتی ناؤ کو پار لگانے کے لئے کوئی حکم یا فتوی جاری کریں ۔ جب مکارم شیرازی نے ہزراہ والوں کو یہ حکم دیا تو وہ مان گئے اور اپنے پیاروں کو دفنایا۔ اب سوال یہ ہے کہ کیسے دعوے ، وعدے ریاست مدینہ کے ۔ کیسا احساس پروگرام جب آپ کا احساس ہی مر چکا ہے ۔

آخر میں مولا علی ع کے قول کے ساتھ کہ
کفر کی حکومت قائم رہ سکتی ہے مگر ظلم کی نہیں ۔


شیئر کریں: