صومالیہ میں الشباب کا حملہ، یو اے ای اور بحرین کے فوجی ہلاک

صومالیہ میں الشباب کا حملہ، یو اے ای اور بحرین کے فوجی ہلاک

افریقا کے شورش زدہ ملک صومالیہ میں فوجی اڈے پر حملے میں چار اماراتی اور ایک بحرینی فوجی افسر مارے گئے. متحدہ عرب امارات
(یو اے ای) حکام کے مطابق القاعدہ سے منسلک مسلح گروپ الشباب نے صومالی دارالحکومت موغادیشو میں فوجی اڈے کے تربیتی
مشن پر حملے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔
گزشتہ روز جنرل گورڈن فوجی اڈے کو دہشت گردوں نے نشانہ بنایا تھا۔ متحدہ عرب امارات کی وزارت دفاع نے ابتدائی طور پر اپنے تین
فوجیوں اور ایک بحرینی فوجی کی ہلاکت کا اعلان کیا تھا اور دو زخمی ہوئے تھے۔ ایک زخمی ابوظہبی پہنچنے پر دم توڑ گیا۔
الشباب نے اس حملے کی زمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا متحدہ عرب امارات صومالی حکومت کی حمایت کرتے ہوئے مسلح گروپ کے
خلاف برسرپیکار ہے .

الشباب کون ہیں؟

الشباب نوجوان کی تنظیم ہے جو 1991 کی خانہ جنگی کے بعد سے صومالیہ میں امن و امان میں خلل ڈالنے میں ملوث ہے. یاد رہے اس
تنظٰم کو القاعدہ کی معاونت حاصل ہے اور یہ گروپ کچھ وقت تک موغادیشو پر بھی قابض رہ چکا ہے. افریقی یونین کی زیر قیادت فورس
نے یو اے ای اور دیگر ممالک کی حمایت کے ساتھ مل کر اس گروپ کو دارالحکومت سے باہر دھکیل دیا۔
جب سے ہی شکست خوردہ الشباب وفاقی حکومت اور افریقی یونین کے زیر انتظام امن مشن فورس سے لڑ رہی ہے. الشباب اسلامی
قانون کی اپنی تشریح کی بنیاد پر ایک نئی حکومت قائم کرنا چاہتی ہے۔ یہ گروپ انتہائی گنجان آباد علاقوں میں بم دھماکے کرتا ہے۔
الشباب نے پڑوسی ملک کینیا میں بھی حملے کیے ہیں. حالیہ برسوں میں متحدہ عرب امارات نے مشرقی افریقہ کی بندرگاہوں میں
تیزی سے سرمایہ کاری کی ہے. اسی طرح صومالیہ سے الگ ہونے والے صومالی لینڈ میں سرمایہ کاری کر رہا ہے.
صومالیہ کو محفوظ بنانا خلیج عدن اور بحیرہ عرب میں سیکورٹی کے بارے میں امارات کے وسیع تر خدشات میں فٹ بیٹھتا ہے۔ یمن کے
حوثیوں کی جانب سے بحیرہ احمر میں جہازوں پر حملوں کے بعد صومالی بحری قزاقی بھی کئی برسوں بعد دوبارہ شروع ہوچکی ہے۔