صحافی بنے سیاسی جماعتوں کے ترجمان

شیئر کریں:

تحریر وجیہہ الحسن

صحافت ایک ایسا پیشہ ہے جو غیر جانبدار ہوتا ہے صحافی کسی کی حمایت نہیں کرتا سچائی حقیقت پر مبنی بات کرتا ہے چائیے اس کے لئیے اسے اپنی جان کا نظرانہ ہی کیوں نہ پیش کرنا پڑے اگر ہم ماضی میں جائیں تو بہت سارے ایسے صحافی ہیں جنھوں نے سچائی کی خاطر اپنی زندگیاں گنواں دی جن کے قاتل اج تک پکڑے نہیں گئے صحافت ہے کیا کسی بھی معاملے کے بارے میں تحقیق اور بصری یا تحریری شکل میں بڑے پیمانے پر قارئین، ناظرین یا سامعین تک پہنچانے کے عمل کا نام ہے صحافت پیشہ کرنے والے کو صحافی کہتے ہیں شعبہ صحافت سے منسلک کاموں میں ادرات، تصویری صحافت، فیچر ڈاکو منسٹری وغیرہ بینادی کام ہے سب سے پہلا اخبار 1605 میں شائع ہوا بظاہر تو لگتا ہے کہ صحافت کرنا بہت آسان کام ہے مگر یہ کام دیکھنے میں جتنا آسان لگتا ہے اتنا ہی زیادہ مشکل ہے خبر نکلنا اور اس کو بنانا ہی ایک بہت بڑا آرٹ ہے ایک زمانہ تھا جب صحافت کو عبادت سمجھا جاتا تھا سچی خبریں عوام تک پہنچائی اور دیکھائی جاتی تھی سب سے پہلے پرنٹ میڈیا تھا یعنی اخبارات خبروں کی تصدیق کرنے کے بعد اخبار میں شائع ہوتی تھی یعنی ایک دن خبریں جمع کی اور اگلے دن صبح اخبار میں شائع ہوئی جس میں صحافی اپنی ذاتی رائے نہیں دے سکتا تھا کیونکہ خبر میں اپنی ذاتی رائے نہیں دی جاتی حقائق پر مبنی بات بتائی جاتی ہے پرنٹ میڈیا کا دور چلتا رہا خبریں شائع ہوتی رہیں پھر اچانک الیکڑانک میڈیا کا دور آگیا جس میں عوام تک خبر کی رفتار پہچانا بہت تیز ہوگئی ادھر واقع ہوا ادھر ٹی وی پر ٹھک کر کے عوام تک بات پہنچا دی گئی اس الیکٹرانک دور میں خبر کا انداز بدل گیا اب صحافت کم اور تماش بینی زیادہ ہونے لگی یہ وہ دور تھا جہاں زرد صحافت زیادہ ہونے لگی خبر کو عوام تک مرچ مصالحہ لگا کر پیش کیا جانے لگا جس کو ہم میڈیا وار کا بھی نام دے سکتے ہیں کیونکہ ٹی وی، کیبل ہر گھر میں موجود ہے اور الیکٹرانک دور میں پروگرام، ٹاک شوز، ہر گھنٹے بعد نیوز بلیٹن چلنے لگے اور عوام ایک ایک سکینڈ سے باخبر ہونے لگی پریس کانفرنس ہوں یہ پھر کوئی بھی پروگرام اسی وقت لائیو نشر کر کے عوام تک پہچایا جاتا تھا پھر ایک دم انٹرنیٹ سمارٹ ٹی وی سوشل میڈیا نے صحافت میں انٹری مار دی اور پھر صحافت کا ایسا جنازہ نکلا کہ اج تک کوئی جنازہ پڑھانے والا نہیں ہے جھوٹ دھوکہ مکاری الزام تراشی بنا تصدیق کئیے جھوٹی سچی سب خبریں سوشل میڈیا پر شائع ہونے لگی اور اج کل ہر بندہ صحافی بنا پھرتا ہے یو ٹیوب چیبلز نے ایسی تباہی پھیری جس کے اثرات رہتی دنیا تک قائم رہیں گے اب صحافت نے ایک ایسا خطرناک موڑ لے لیا ہے جہاں سے واپسی آنا مشکل ہوگیا ہے صحافی صحافت کرنا بھول گئے ہیں اب صحافی مختلف سیاسی جماعتوں کی ترجمانی کرتے نظر اتے ہیں بڑے بڑے ٹاک شوز میں اینکرز اپنی اپنی پسند کی جماعتوں کو سپوٹ کرتے نظر اتے ہیں ٹی وی چینلز بھی تقسیم ہو چکے ہیں اج کے دور میں صحافت غیر جانبداری سے جانبدار ہو چکی ہے اور کوئی پوچھنے والا بھی نہیں اج ہر صحافی کی اپنی منطق ہے


شیئر کریں: