شیعہ آبادیوں میں چھاپوں اور نوجوانوں کی گرفتاریاں بند کی جائیں،ایم ڈبلیو ایم

شیئر کریں:

مجلسِ وحدت مسلمین سندھ کے صوبائی سیکریٹری جنرل علامہ باقر زیدی نے کراچی کی شیعہ آبادیوں
میں مسلسل چھاپوں کی مزمت کی ہے۔

مولانا کا کہنا ہے رواں ہفتے پولیس نے مسلسل چھاپے مارے اور بے گناہ شیعہ نوجوانوں کو گرفتار کیا۔
بے گناہ افراد کو ہراساں کرنے کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ
اختیارات کا ناجائز استعمال کرنے والے اہلکاروں کو لگام دے۔
علامہ باقر عباس زیدی نے کہا مادر وطن کو ہم کسی کی ذاتی جاگیر نہیں بننے دیں گے۔
ہمارے اجداد نے اسے ان گنت قربانیاں دے کر حاصل کیا ہے۔ پاکستان کے نظریاتی دشمنوں کو اس
پر قابض نہیں ہونے دیا جا سکتا۔
کالعدم جماعتوں کی خوشنودی کے لیے محب وطن قوم کاگھیراؤ ملک کو انتشار کی طرف دھکیلنے
کی بہت بڑی سازش ہے۔
تین دہائیوں تک ہمارے امام بارگاہوں، مساجد اور عزاداری کے اجتماعات کو دہشت گردی کا
نشانہ بنایا جاتا رہا۔

ہمیں اپنے نوجوانوں کی گرفتاریاں اور جبری گمشدگیوں کی اذیت بھی سہنا پڑی لیکن ہم نے
صبر کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا۔

اب قانون نافذ کرنے والے اداروں نے عزاداری کو جرم قرار دیتے ہوئے ہمارے نوجوانوں کی پکڑ
دھکڑ شروع کر رکھی ہے۔
ہم قانون کی بالادستی پر یقین رکھتے ہیں لیکن قانون کی آڑ میں ملت تشیع کا استحصال برداشت
نہیں کیا جائے گا۔

اگر انتظامیہ نے اپنی ظالمانہ روش نہ بدلی تو ملت جعفریہ احتجاج کا حق محفوظ رکھتی ہے۔
انہوں نے حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مطالبہ کیا کہ گرفتار شیعہ افراد کو فوری رہا
کیا جائے اور چھاپے مارنے کا سلسلہ بند کیا جائے۔


شیئر کریں: