شہید صفت غیور کی پھر یاد آئی

شیئر کریں:

تحریر طاہروسیم

4 اگست 2010 کو خود کش دھماکے میں شہید ہو نے والے فرنٹئیر کانسٹبلری
(ایف سی) کے کمانڈنٹ صفوت غیور کی برسی منائی جاری ہے،
جس گاڑی میں ان کی شہادت ہوئی اس کوحیات آباد میں ایف سی ہیڈ کواٹر میں
محفوظ رکھا گیا ہے،
گزشتہ روز ان کی یادگار پر جانے کا اتفاق ہوا، نڈر بہادراور جانباز آفیسر صفت
غیور کی خدمات کو مدنظر رکھتے ہو ئے ملک بھر میں 4 اگست کو یوم شہداء کے
نام منسوب کیا گیا ہے،

شہید صفت غیور پاکستان موومنٹ کے سرکردہ رہنما سردار عبدالرب نشتر کے بھانجے
اور سابق گورنر اویس غنی اور سابق آرمرڈ چیف وحید کاکڑ کے کزن تھے.
سابق وزیر اعلی اور سابق وزیر داخلہ آفتاب شیر پاو کے برادر نسبتی تھے ،ان
کا تعلق پشتون قبیلے کاکٹر سے تھا،صفت غیور کے والد عبدالغیور تھائی لینڈ میں
سفیر رہ چکے تھے،
انھوں نے1981ءمیں پولیس سروس آف پاکستان میں بطور اسسٹنٹ سپرڈنٹ کی حیثیت
سے شمولیت اختیار کی،وہ پشاور میں بطور ایس ایس پی آپریشن اور بعد ازاں چیف
کیپٹل سٹی پولیس کے عہدے پر فائز رہے.
دسمبر2009 میں ان کی خدمات ایف سی کے حوالے کی گئی،صفت غیور کو 4
اگست 2010 میں پشاور کینٹ میں واقع ایف سی ہیڈکواٹر کے قریب ایک خودکش
حملے میں نشانہ بنایا گیا.
ان کی وفات کے بعد وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک کی جانب سے انھیں ” نشان شجاعت“ کے اعزاز سے نوازا گیا ،


شیئر کریں: