شہدائے کارساز کی 14 ویں برسی، کراچی میں پیپلز پارٹی کا بڑا جلسہ

سانحہ شہدائے کارساز کی 14 ویں برسی پر سلیکٹڈ حکومت کی ناکام پالیسیوں کے خلاف پیپلز پارٹی نے مزار قائد کے سامنے باغ جناح میں سیاسی طاقت کا مظاہرہ کیا۔ شہدائے سانحہ 18 اکتوبر کی یاد میں باغ جناح کا جلسہ حاضری کے اعتبار سے پی ڈی ایم کے اگست میں ہونے والے جلسہ سے زیادہ بڑا دیکھائی دیا۔
پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو آصفہ بھٹو کی آمد پر شرکاء نے نشستوں سے کھڑے ہو کر بلاول بھٹو کا پرتباک استقبال کیا۔ بلاول بھٹو زرداری نے اپنے پرجوش استقبال پر حاضرین کو حسب عادت فلائنگ ’’کس‘‘ کی۔ بلاول بھٹو اسٹیج پر پہنچے تو وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ، سعید غنی، وقار مہدی، عاجز دھامرہ اور پیپلزپارٹی کے دیگر قائدین نے پرجوش انداز میں استقبال کیا۔
بلاول بھٹو آصفہ بھٹو زرداری نے پارٹی رہنماؤں کے ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر حاضرین سے اظہار یکجہتی کیا۔ بلاول بھٹو کی آمد پر پیپلز پارٹی کے جیالوں اور جیالیوں نے پرجوش نعرے بازی اور پارٹی پرچم لہرا کرچیئرمین بلاول اور آصفہ کا خیرمقدم کیا۔ بلاول بھٹو کی آمد پر جلسہ گاہ میں شہدائے جمہوریت کو سلام پیش کرنے کے لیے پیپلز پارٹی کا خصوصی ترانہ سلام جانثاروں کو سلام جان سے پیاروں کو بجایا گیا۔
بلاول بھٹو نے حسب روایت گہرے نیلے کلر کا شلوار قمیض زیب تن کیا ہوا تھا۔ آصفہ بھٹو کی جلسے میں شرکت پر جیالوں اور جیالیوں کا جوش و خروش دیدنی تھا۔ بلاول بھٹو نے تقریر کا آغاز ایک نظم سے کرکے جیالوں کا لہو گرمایا۔ جلسے میں “وہی جوش ، وہی ولولہ بلاول کی صورت میں بھٹو نظر آیا” ترانہ سب سے زیادہ بجایا گیا۔
مقررین نے جلسہ کے شرکاء سے پیپلز پارٹی کی شہید چیئرپرسن بے نظیر بھٹو کے مشن کو آگے بڑھانے کا عہد لیا۔ شرکاء نے 2007 ء کو بے نظیر بھٹو کی وطن واپسی سے شروع ہونے والی جدوجہد کو منطقی انجام تک پہنچانے اور بلاول بھٹو کو وزیراعظم بنانے کا عہد لیا۔
مزارقائد کے سائے تلے 36 کنٹینرز پر مشتمل 120 فٹ لمبا، 60 فٹ چوڑا اور50 فٹ اونچا اسٹیج پی پی پی کے پرچموں سے سجایا گیا تھا جبکہ باغ جناح کے وسیع و عریض میدان میں 40 ہزار سے زائد کرسیاں لگائی گئیں۔ مرکزی اسٹیج پر “سانحہ کارساز کے شہداء کو سرخ سلام” کا بڑا بینر آویزاں کیا گیا۔ جلسہ گاہ میں پارٹی پرچموں،بڑی بڑی اسکرینز اور پینا فلیکس پر شہید ذوالفقار علی بھٹو ، شہید بے نظیر بھٹو ، آصف علی زرداری ، بلاول بھٹو زرداری کی تصاویر نمایاں تھیں۔

چیئرمین بلاول بھٹو آصفہ بھٹو کی آمد اور جلسہ کے آغاز سے پہلے جلسہ گاہ کے اطراف ڈینگی اسپرے کرایا گیا۔ جلسہ کی کارروائی کا آغاز بعد نماز مغرب35 -6 پر مولانا احترام الحق تھانوی کی تلاوت اور ڈاکٹر جمیل راٹھور کی نعت سے ہوا۔ پیپلزپارٹی کراچی کے صدر صوبائی وزیر سعید غنی، وقار مہدی اور عاجز دھامرہ کے ابتدائی کلمات سے خطابات کا آغاز ہوا۔ جلسے میں پیپلزپارٹی کے شہید قائدین سانحہ 18 اکتوبر اور شہدائے جمہوریت کے لئے فاتحہ خوانی کی گئی

جلسے میں “جب تک جنتا تنگ رہے گی پیپلز پارٹی کی جنگ رہے گی” کا نیا نعرہ متعارف کرایا گیا۔

بلاول کی آمد سے قبل “آیا آیا بلاول، چھایا چھایا بلاول” کا ترانہ گونج اٹھا۔ وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ اور پیپلز پارٹی کے رہنماؤں سعید غنی وقارمہدی دیگر نے دوران تقاریر زندہ ہے بی بی کے فلگ شگاف نعرے لگوائے۔ کلسے میں گو نیازی گو کا نعرہ مقررین اور شرکا جلسہ سب سے زیادہ بلند کیا گیا۔

بلاول بھٹو کی تقریر سے پہلے سعید غنی نے وزیر اعظم بلاول ، وزیر اعظم بلاول کے پرجوش نعرے لگوائے۔ پیپلزپارٹی کے جیالوں نے زبردست نعرے بازی کی تاہم ’’ جئے جئے جئے بلاول ‘‘ ان کا سب سے پسندیدہ نعرہ رہا۔ اسٹیج پر شہدائے کارساز کی تصاویر پرمبنی گیلری میں پیپلزپارٹی کے شہید قائدین سے سفرجمہوریت میں شہید ہونے والے کارکنان کی تصاویرآویزاں کی گئیں۔
جلسہ کی کارروائی دکھانے کے لیے مرکزی اسٹیج اور جلسہ گاہ کے علاوہ اطراف کی سڑکوں پر اسکرینز نصب کی گئیں۔ جلسہ گاہ کی اندرونی سیکیورٹی پیپلز پارٹی کے جیالوں نے سنبھال رکھی تھی۔ کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم کی تنصیب کے علاوہ کمانڈوز اور جانثاران تعینات تھے۔ جلسہ گاہ میں داخلے کے لیے واک تھرو گیٹ نصب کیے گئے تھے اور کیمروں سے پنڈال کی مانیٹرنگ کی گئی۔ جلسہ گاہ میں پیپلز پارٹی کے شہداء کے لواحقین اور خواتین کے لیے علیحدہ انکلوژر قائم کیاگیا۔ جلسہ میں آنے والے شرکاء کے ہاتھوں میں شہداء سانحہ 18 اکتوبر کی تصاویر اور پیپلز پارٹی کے پرچم نمایاں تھے۔ اسکرینز پر پیپلز پارٹی کی شہید چیئرپرسن بے نظیر بھٹو کی 18 اکتوبر کو وطن واپسی پر تاریخی ریلی دکھائی گئی۔
جلسہ گاہ میں سیکیورٹی کے خصوصی انتظامات کیے گئے تھے۔ 4 ہزار سے زائد پولیس اہلکار اور 400 سو زائد خواتین پولیس اہلکار تعینات کی گئیں۔ اسٹیج کی سیکیورٹی ایس ایس یو کمانڈوز جانثاران اور پیپلز پارٹی کے رضا کاروں کے سپرد تھی۔ جلسے کے آغاز سے قبل بم ڈسپوزل اسکواڈ کی خصوصی ٹیموں نے جلسہ گاہ کی سرچنگ کی۔ جلسہ گاہ سے نمائش چورنگی،پیپلزسیکریٹریٹ، گرومندر اوراطراف کی سڑکوں پر عوام کے جم غفیر نے بلاول بھٹو زرداری کا خطاب سنا۔
جلسہ گاہ کے اطراف کی سڑکوں پرتقاریرنشرکرنے کےلیے ساؤنڈ سسٹم اوراسکرینز نصب کی گئیں۔ جلسے کے اختتام پر بلاول بھٹو نے پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کے ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر شرکائے جلسہ کے سامنے یکجہتی کا اظہار کیا۔ پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو کا خطاب پاکستان سمیت دنیا بھر میں لائیو نشر کرنے کے لیے او بی وین کے خصوصی انتظامات کیے گئے تھے۔ جلسہ کی کوریج کے لیے ڈرون کیمرے بھی استعمال کیے گئے۔ جلسہ گاہ میں خواتین اور بچوں نے پارٹی پرچم کی مناسبت سے چہروں پر فیس پینٹنگ کرا رکھی تھی۔