شکست کے بعد انتخابی نتائج پر سیاسی جماعتیں سراپا احتجاج

شکست کے بعد انتخابی نتائج پر سیاسی جماعتیں سراپا احتجاج

8 فروری کو ملک بھر میں‌ہونے والے عام انتخابات میں شکست پر پاکستان پیپلز پارٹی،مسلم لیگ ن اور ایم کیو ایم پاکستان کے
سوا تمام ہی جماعتیں سراپا احتجاج بنی ہوئی ہیں. انتخابی نتائج خواہشات اور زمینی حقائق کے برخلاف انتخابی نتائج پر تحریک انصاف
کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار، جمعیت علمائے اسلام، جماعت اسلامی، تحریک لبیک پاکستان، گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس اور دیگر
جماعتیں اپنے اپنے حلقوں میں‌مظاہرے کر رہی ہیں.
جمعیت علمائے اسلام کی جانب سے ملک بھر میں مظاہرے کیے جارہے ہیں. حیدرآباد، ٹانک اور دیگر علاقوں‌میں الیکشن کمیشن
اور مقتدر حلقوں کی توجہ دھاندلی کی طرف کرانے کے لیے احتجاج کیا جارہا ہے.
حیدرآباد میں احتجاجی دھرنے کی وجہ سے ٹریفک کی روآنی متاثر ہورہی ہے. اسی طرح ٹانک کے این اے 43 میں دوبارہ گنتی
کے لیے جے یو آئی کے کارکن دھرنا دیے ہوئے ہیں.
حلقہ این اے 43 ٹانک پر پی ٹی آئی کے امیدوار داور خان کنڈی 826 ووٹوں کی برتری سے جمعیت علمائے اسلام کے امیدوار
مفتی اسد محمود سے الیکشن جیت گئے تھے. مفتی اسعد محمود کی طرف سے دوبارہ گنتی کے لیے درخواست دی گئی تھی.