شفیق قریشی کی یاد میں

شیئر کریں:

تحریر عمران اطہر منگی

بچھڑنا تجھ سے میرے خواب ، نہ خیال میں تھا
یہ سانحہ بھی میری جان اب کے سال میں تھا

رت بدل رہی ہے ہجر کا موسم پھر کسی دیرینہ غم کی یادیں تازہ کررہا ہے۔
درختوں سے بچھڑتے یہ پتے محبتوں کے انجام کی پھر کوئی کہانی دہرا رہے ہیں۔
سرد موسم میں اکیلا پن اور تنہائی کا احساس بڑھتا ہی چلاجاتا ہے ایسے میں دن بھر کا تھکا ہارا
انسان جب گھر کی دہلیز پر پہنچے تو صرف گھر کے درودیوار ہی مسکرا کر اس کا استقبال کرتے ہیں۔
ایسے میں فراق کے لمحے ماحول کو مزید سوگوار کردیتے ہیں۔
ابھی میں گھر آکر بیٹھا ہی تھا کہ اچانک میرے موبائل پر واٹس ایپ پر میسیج آتا ہے۔
جس پرمیرا نام عمران لکھا ہوتاہے میں اپنا نام پڑھتا ہوں لیکن نمبر موبائل میں سیو نہیں۔
میں نے نمبر پہچاننے کی کوشش کی لیکن سمجھ نہیں آیا کچھ تھوڑی دیر ٹہر کے میں نے میسیج کیا کون؟
لیکن کافی دیر تک جواب نہیں آیا حسب معمول میں ٹی وی دیکھنے لگا تو پیپلز پارٹی کی پریس کانفرنس چل رہی تھی۔
شام کی اکثر چائے اکیلا ہی پیتا ہوں اس بہانے خود سے ملاقات بھی ہو جاتی ہے اور کچھ اچھی باتیں بھی۔
ابھی گھر سے نکلنے کا سوچ ہی رہا تھا کہ واٹس ایپ پر پھر اچانک اسی نمبر سے دوبارہ میسیج آتاہے ۔
عمران میں وقاص پہچانا؟
میں نے ریپلائے کیا کہ نہیں۔
پھر کچھ پل کے لیےایک خاموشی میں ٹی وی پر مختلف پروگرام دیکھتا رہتا ہوں کہ اچانک پھر کسی
ایک اور نمبر سے کال آتی ہے۔
میں موبائل ریسیو کرتا ہوں عمران بھائی کیسے ہیں میں نے جواب میں ٹھیک کہہ کر ابھی اس کی آواز
پہچانے کی کوشش کرہی رہا تھا تو ایک دم سے وہ کہتا ہےکہ میں وقاص ہو شفیق کا کزن آپ کے اسکول کا کلاس فیلو۔
یاد آیا؟ میں ایک دم نارمل ہوجاتا ہوں۔
وہ باتیں کرنا شروع ہوجاتا ہے واٹس ایپ پر آپ کی تصویر دیکھ کر آپ کو پہچانا آپ کا نمبر میرے پاس سیو تھا۔
میں نے کہا اچھی بات ہے اور سناؤ شفیق کیسا ہے؟
اصل میں وہ عمران بھائی وہ تھوڑی دیر کےلیے بات کرتے کرتے رک گیا۔
اسی لیے میں نے کال کی تھی کہ دو ہزار انیس مارچ میں شفیق بھائی کا ایکسیڈنٹ ہوگیا تھا تو ان کو شدید
چوٹیں سر پر لگی تھیں اور ایک ماہ وہ کوئٹہ سی ایم ایچ میں رہے اور اچانک ان کی ہارٹ بیٹ رکی اور وہ فوت ہوگئے۔
میں بے اختیار گھبرا کر چیخ کر اسے کہا کیا ؟جی عمران بھائی ایک ٹھنڈی آہ کے ساتھ اس نے کہا وہ اس دنیا سے رخصت ہوچکے ہیں۔
دوست کے بچھڑنے کا یہ غم میرے لیے اب نیا نہیں تھا اپنے وجود کے ساتھ ہر وقت جڑے کئی اچھے دوستوں کو زندگی کئی بار مجھ سے دور کرتی آئی ہے۔
ایک اضافہ اور ہوگیا کاش موت سے بھی انسان لڑ سکتااور اپنے پیاروں کو ہمیشہ کےلیے کبھی بچھڑنے نہیں دیتا لیکن قدرت کے اس نظام کے آگے انسان بے بس ہوجاتاہے۔
کوئٹہ کا آر چرروڈ بچوں کے اسکول کی کتابوں کے حوالے سے تو شروع سے مشہور تھا ہی لیکن تعمیر نو پبلک اسکول کی وجہ سے لوگ اسے ذیادہ جاننے لگے تھے۔
آرچر روڈ اسکول کے سامنے دوپٹہ رنگنے والوں کی دکانیں ہوا کرتی تھیں جہاں پر اکثر خواتین اور فیمیلز کا بےتحاشا رش لگا رہتا تھا۔ اسکول کے سامنے والی والی گلی اپوا گرلز اسکول کے سامنے سائیکل اسٹیںڈ ہوا کرتا تھا جہاں پر ہم اپنی سائیکل کھڑی کیا کرتے تھے اور اسکول کے اندر داخل ہوا کرتے تھے۔
کلاس 6 میں شفیق کے ساتھ پہلی ملاقات بھی اسی اسکول میں ہوئی تھی وہ ایک کلاس مجھ سے سینئر ہوا
کرتاتھا اسکول ٹائم شروع ہونے سے پہلے اور بریک ٹائم کے علاوہ اور اسکول کا وقت ختم ہونے کے بعد
اکثر ہم ملا کرتے تھے۔
ہماری سوچ خیال کا محور شاید ایک ہی تھا اس لیے دن بہ دن ہم ایک دوسرے کے بےحد قریب ہوتے گئے
پھر ایک دن میٹرک کرلیا ، تعمیر نو کالج چلے گئے پھر کالج کے بعد یونیورسٹی لیکن یونیورسٹی کے دنوں میں ایم بی اے اور ایم سی ایس کا نیا دور چل پڑا تھا ہرشخص یہی ڈگری حاصل کرنا چاہتا تھا لیکن میری کبھی بھی بینک کی نوکری میں دلچسپی نہیں رہی تو میں نے معذرت کرلی اور میں نے کہا کہ میں سوچوں گا کس شعبے میں ایم اے کرو آپ کو جو اچھا لگ رہاہے کر لیے۔اس نے کراچی کی ہمدرد یونیورسٹی میں ایم بی اے میں ایڈمشن لے لیا چھ ماہ کا وقت گزرنے کے بعد ایک دن اس کی کال آئی اور کہنے لگا یار ایڈجیسٹ نہیں ہو پارہاہوں کراچی کی بڑی مشینی لائیف ہے گھر پہنچتے پہنچتے آٹھ بج جاتے ہیں جس میں نہ انسان اسائنمنٹ پوری کرپاتا ہے اور نہ ہی پڑھ پاتاہے میں سوچ رہاہوں واپس کوئٹہ لوٹ آئو ۔۔۔۔۔میں نےکہا کہ یار ایک بار سوچ لو اتنا خرچہ ہواہے ابو سے مشورہ کرلو۔
ان سے بات ہوچکی ہے۔۔۔۔وہ کہہ رہے اگر ایزی نہیں بس واپس آجائو ۔۔۔۔پھر وہ واپس لوٹ آیا ہم کوئٹہ کی مختلف یونیورسٹیوں کے چکر لگاتے رہے آخر میں اس نے کوئٹہ کی اقراء یونیورسٹی میں ایڈ میشن لے لیا۔پھر ہم اکثر ملا کرتے تھے۔جناح روڈ پر کمال چرغہ اور کبیر بلڈنگ پر اکثر اس کی اور میری بیٹھیکیں ہوا کرتی تھیں ۔۔۔۔فرنچ فرائز چپس کے دور چلتے تھے۔۔۔ہم خیال ہونا کسی نعمت سے کم عمل نہیں ہے۔ہم بہت قریب کے دوست تھے اپنے دل کی ساری باتیں ایک دوسری سے کہہ دیتے تھے مشاورت کرتے تھے ۔کبھی کبھی مصروفیت کی وجہ سے کئی کئی دن تک آپس میں نہیں مل پاتےتھے لیکن جب بھی ملتے تھے لگتا ہی نہیں تھا کہ اتنے دنوں کا گیپ ہماری دوستی کےدرمیان آیاہواہے۔
زندگی کے سفر میں ایک اچھے دوست کاہونا اتنا ہی ضروری ہےجیسے جسم میں دل کا دھڑکنا ،،،،،،مجھے اچھی طرح یاد 1998 میں میرا روڈ ایسکڈینٹ ہوگیا تھا جس میں میری ٹانگ کا بری طرح فریکچر ہوگیا تھا ۔جب ڈاکٹر نے اسپتال سے ڈسچارج کردیا تھا اور پھر میں کئی مہنوں گھر سے باہر نہیں نکل سکا تھا ان دنوں میں شفیق میرا واحد دوست تھا جو مجھے فون کرتا رہتا تھا اور میرے سے ملنےآیا کرتا تھا کبھی کبھی وہ اکیلے پن سے تنگ آکر مجھے کہتاتھا کہ یار تم بھی عجیب آدمی ہو جلدی اچھی خوراک کھائو تم ٹھیک ہوجائو ہم دوبارہ سے اکھٹے گھومے پھرے ایسے مزہ ہی نہیں آتاہے۔ کچھ مہنوں کے بعد جب میں لنگڑا کر چلنا شروع ہوگیا تھا تو وہ زبردستی اپنی امی سے ملانے کےلیے وہ مجھے اپنے گھر لے گیا تھا آنٹی کو اللہ جنت میں فردوس میں اعلیٰ مقام عطا کرے انہوں نے دستر خوان پر ساری میری پسند کی چیزیں بنا کر رکھی تھیں اور مجھ سے کہنے لگی تھیں شفیق نے جو جو کہا کہ عمران کو پسندہے بیٹا سب بنا دیاہے بس تم لوگ بیٹھوں آپس میں باتیں کرو میں چلتی ہووہ پھر سارادن شفیق اور میں اس کے کمرے میں بیھٹے رہے کھاتے رہے اور باتیں کرتے رہے۔
شفیق جب جب بھی پریشان ہوتاتھا وہ اپنی پریشانی کی ساری باتیں مجھ سے کیا کرتا تھا ۔یوں کہے کے اس کے دل کی باتیں ساری میرے دل میں پہلے سے موجود تھیں،۔۔۔ہم اکثر دونوں مل کر کینٹ کی جانب سے جو راستہ ہنہ جھیل کی طرف سے جاتاہے پانی تقسیم کے مقام سے شام میں اکثر بیشتر ہنہ جھیل جایا کرتے تھے راستے میں کسی اچھی ہوٹل پر بیٹھ کر گھنٹوں باتیں کیا کرتے تھے۔پھر اس کی جاب کا سلسلہ شروع ہوا تو بینک میں وہ بہت مصروف رہنے لگا ایک دن تھک کرکہنے لگا کہ یار بینک میں کام کرنے والا انسان آخر میں کسی کام کا نہیں رہتا ۔میں اسے کہتا رہا کہ ہمت ہارنے کی ضرورت نہیں سب ٹھیک ہوجائے گا ایڈجیسٹ ہوجائوتو سب نارمل ہوجائےگا ۔۔۔۔ایک بینک سے دوسرے بینک وہ بینک بدلتا رہا میں یونیورسٹی کے بعد مکمل نیوز کی دنیا میں پھنستا چلا گیا اور ہماری کم ہی ملاقات ہوا کرتی تھی۔ایک دن میں نے اسے فون کیا کہ میں کراچی جارہاہوں کوشش ہے کہ وہی اڈجیسٹ ہوجائو توکہنا لگا یہاں سیٹ تو ہووہاں جانے کی کیا ضرورت ہے لیکن تمھاری فیلڈ کے مواقع وہاں پر ہے ۔دیکھ لو اگر اڈجیسٹ ہوسکتے ہو تو چلے جائو۔
پھر میں کراچی آگیا ہماری کبھی کبھار باتیں ہوتی تھیں۔۔۔۔لیکن جب جب بات ہوتی تھیں گھنٹوں پر مشتمل ہوتی تھیں۔ابھی پچھلے دنوں چار سےپانچ مرتبہ اسکے یوں کے فون نمبر پرکال کرتا رہالیکن فون نمبر بند ملا ۔۔۔۔میں نےسوچا بزی ہے فری ہوگا تو فون کرلے گا لیکن فون نہیں آیا بعد میں پتا چلا جس انسان سے اب میں باتیں شیئر کرنا چاہتاہوں وہ منوں مٹی تلے جا چکاہے۔ایک ایسی جگہ جہاں سے کبھی بھی انسان لوٹ کر نہیں آتاہے۔انسان ایک دن مرجاتاہے سب ختم ہوجاتاہے لیکن ساتھ بیتا وقت کبھی بھی بھلایا نہیں جاسکتا ۔میرا ماننا ہے تعلق ربط مرنے یا بچھڑنےکےبعد بھی ختم کچھ نہیں ہوتاہے وہ شعوری اور لاشعوری طور پر ہم سے جڑا رہتاہے اور شاید اس جڑے رہنے کے عمل کی وجہ سے ہی پچھے رہنے والے کچھ لوگ کچھ سال جینے کی بہتر اداکاری کرپاتے ہیں۔ایک اچھے انسان کے لیے انسان اچھاہی سوچ سکتاہے اس نے ہمیشہ دوستوں کا اپنوں کا بے شمار خیال رکھاہے اور میرا ایمان ہے قدرت نے بھی اس کا بےتحاشاخیال رکھاہوگا اسے سبھال رکھاہوگا۔
چھڑا ہے جو اک بار تو ملتے نہیں دیکھا
اس زخم کو ہم نے کبھی سلتے نہیں دیکھا
اک بار جسے چاٹ گئی دھوپ کی خواہش
پھر شاخ پہ اس پھول کو کھلتے نہیں دیکھا
یک لخت گرا ہے تو جڑیں تک نکل آئیں
جس پیڑ کو آندھی میں بھی ہلتے نہیں دیکھا
کانٹوں میں گھرے پھول کو چوم آئے گی لیکن
تتلی کے پروں کو کبھی چھلتے نہیں دیکھا
کس طرح مری روح ہری کر گیا آخر
وہ زہر جسے جسم میں کھلتے نہیں دیکھا


شیئر کریں: