شعور کی نامعلوم جہتیں

شیئر کریں:

تحریر اجمل شبیر

ہم سمندر کو دیکھ کر کہتے ہیں کہ سمندر میں پانی بہہ رہا ہے۔ یہ سچائی نہیں ہے کہ سمندر میں پانی بہہ رہا ہے۔ سچائی یہ ہے کہ پانی میں سمندر ہے، کائنات میں رومی رقص کررہا ہے یا رومی میں ساری کائنات رقص کررہی ہے تو سچائی یہ ہے کہ رومی میں ساری کائنات رقص کررہی ہے ، ہم کہتے ہیں کہ ساری کائنات میں رومی محو رقصاں ہے۔رومی کا مطلب یہاں ہے کانشئینس یا awareness

کانشئینس میں ہی ساری کائنات ،ساری کرئیشن بہہ رہی ہے ،بولنے کے لئے ٹھیک ہے کہ کائنات کے زرے زرے میں خدا ہے لیکن سچ یہ ہے کہ ساری کرئیشن خدا میں ہے۔

پانی نہ ہو تو سمندر کہاں ہے،پانی نہ ہو تو دریا کہاں ہے،پانی نہ ہو تو جھیل کہاں ہے،پانی نہ ہو تو دریا کہاں ہے۔ رومی نہ ہو تو کائنات کہاں ،کانشئینس نہ ہو تو کرئیشن کہاں ہے ،خدا نہ ہو تو کہیں کچھ نہیں۔

جس کو ہم سمندر کہتے ہیں وہ پانی ہی ہے ۔

ڈریم اور ڈریمر میں کیا فرق ہے؟ سوچین خواب اور خواب دیکھنے والے میں کیا فرق ہے؟

کیا ڈرمیر ڈریم کے بغیر رہ سکتا ہے، خواب کو اور خواب دیکھنے والے کو الگ نہیں کیا جاسکتا
‏There is no way to separate dream and dreamer.

خواب میں ہم خواب دیکھنے والا بہت کچھ دیکھتا ہے، جو کچھ بھی خواب دیکھنے والا دیکھتا ہے سب کچھ میں وہی ہے۔خواب دیکھنے والا ہی نہ ہو تو خواب بھی نہیں ہوگا اور خواب میں جو کچھ نظر آتا ہے وہ بھی نہیں ہوگا

خواب میں پرندے ،آسمان،زمین،پہاڑ ،جانور نظر آتے ہیں ،اس سب کچھ میں خواب دیکھنے والا ہے۔

کانشئینس کی وجہ سے ہی دنیا ہے، رومی کی وجہ سے ہی کائنات ہے،خدا کی وجہ سے ہی سب کچھ ہے، کرئیشن سے کانشئینس delete ہوجائے تو کچھ بھی نہیں بچتا ۔سب کچھ ختم ہوجاتا ہے۔ رومی کو نکال دو تو کہاں ہے رقص۔

دنیا میں آپ خود کو صرف یہ باڈی سمجھتے ہو ،کہتے ہو میں صرف اس باڈی میں ہوں،سچائی یہ ہے کہ آپ اس باڈی میں نہیں ہو ،ہر جگہ ہو ، کانشئینس ہر جگہ ہے اور آپ کانشئینس ہو

امییجینیشن کا وجود imagine کرنے والے کے بغیر ممکن ہی نہیں ہے، imagine کرنے والا ہے تو ہی imagination ہے،ڈریمر ہے تب ہی ڈریم ہے ،رومی ہے تب ہی رقص ہے،کانشئینس ہے تب ہی یہ کائنات ہے، خدا ہے تب ہی سب کچھ ہے۔
‏This is truth

سمندر ،دریا ، پہاڑ ،وادیاں ،خوبصورت زمین ،زمین میں جو بھی دلکشیاں ہیں،سب کچھ کانشئینس کی وجہ سے ہے اور رومی کانشئینس ہے ،میں کانشئینس ہوں،آپ کانشئینس ہیں

دنیا میں جو کچھ ہے سب میں آپ ہو ۔
آپ کانشئینس ہو اس وجہ سے سب کچھ ہے ،آپ نہ ہوں تو کچھ بھی نہیں ہے۔

یہ دنیا جس میں ہم رہتے ہیں ،یہ دنیا جس میں ہم سب کچھ دیکھ رہے ہیں، یہ ساری دنیا کہاں ہے؟ یہ ساری دنیا انسان کو اپنے اندر ہی دیکھائی دیتی ہے،ہمیں لگتا ہے ہم باہر دیکھ رہے ہیں لیکن سچائی یہ ہے کہ ہم دنیا کو اپنے اندر ہی دیکھتے ہیں

‏There is no path or way to see outside.

ہم کسی چیز کو جب ٹچ کرتے ہیں اس کا پتہ ہمیں اندر ہی لگتا ہے، ہمیں لگتا ہے کہ ہم نے باہر ٹچ کیا ہے اور اس ٹچ کی feeling بھی باہر کی ہے، feel انسان اندر ہی کرتا ہے۔

اس دنیا میں جو کچھ بھی نظر آرہا ہے اس کے زرے زرے میں کانشئینس ہے یعنی میں ہوں۔ جو کچھ بھی ہے رومی کی وجہ سے ہے ،جو کچھ بھی دنیا میں ہے سب کچھ تمہارے اندر ہے،باہر کچھ بھی نہیں ،اندر کون ہے؟ تم ہو ۔

جو نظر آرہا ہے اور جو دیکھ رہا ہے دونوں ایک ہیں، ان دونوں کو الگ نہیں کیا جاسکتا ،سمندر کو پانی سے الگ نہیں کیا جاسکتا ، پانی کو بلبلے سے اور بلبلے کو پانی سے الگ نہیں کیا جاسکتا ،کانشئینس اور کائنات کو الگ نہیں کیا جاسکتا ،ڈریم اور ڈریمر کو الگ نہیں کیا جاسکتا ،خدا اور انسان کو الگ نہیں کیا جاسکتا ۔

مسئلہ کہاں ہے؟
سارا مسئلہ کنڈیشنگ کی وجہ سے ہے۔ بچپن سے آج تک ہم نے خود کو باڈی سمجھا ہے اور ہمیشہ ایک باڈی کی نظر سے دنیا کو دیکھا ہے ،ہمیشہ یہ سمجھا ہے کہ میں کچھ اور ہوں ،کائنات کچھ اور ہے ،میں زمین پر ہوں،خدا کہیں آسمان پر ہے ۔ یہ سب کچھ کنڈیشنگ کی وجہ سے ہے۔ جب بھی انسان خود کو سمجھ جاتا ہے ،خود کو دیکھ لیتا ہے ،یہ جان لیتا ہے کہ وہ صرف باڈی نہیں ہے بلکہ awareness ہے اور awareness کائنات کے زرے زرے میں ہے۔

جب بھی انسان awareness کی نظر سے دیکھتا ہے تو دنیا کا سچ دیکھائی دیتا ہے،یہ سچ دیکھائی دیتا ہے کہ میں تو ہر جگہ ہوں ،میں ہی ڈریمر ہوں اور یہ ڈریم یعنی دنیا اس کی ہر ادا میں بھی میں ہوں،یہ ہے دنیا کو دیکھنے کا انداز ۔ لیکن ہم دنیا کو ایسا نہیں دیکھتے ،ہم دنیا کوتوڑ توڑ کر دیکھتے ہیں اور ہر چیز میں پھنستے چلے جاتے ہیں ، توڑنے کا مطلب میرا یہ faith ہے ،میرا یہ نظریہ ہے ، میری یہ زات ہے، میرا یہ ملک ہے ،میری یہ زبان ہے ۔ جتنا ہم دنیا کو توڑ توڑ کر دیکھتے چلے جائیں گے اتنا ہی ہم مسائل میں پھنستے چلے جائیں گے ، کنڈیشنگ انسان کو پھنساتی ہے اور کانشئیسنس انسان کو آزاد کرتی ہے۔
کنڈیشنگ کی نظر سے جس reality کو ہم جانتے ہیں وہ reality نہیں ہے،جس reality کو ہم reality سمجھتے ہیں وہ ہماری state of mind سے connected ہے ۔سٹیٹ آف مائینڈ بدلتا ہے تو دنیا بھی ہمارے لئے بدل جاتی ہے۔
‏Nature of mind is connected with the state of mind and state of mind is connected with our brain. Mind only exists in forms.

اس خلا میں جو کچھ بھی ہو وہ سب کچھ خلا کی وجہ سے ہے ۔دنیا میں جو کچھ بھی ہے سب کچھ خلا کے اندر ہے اور یہ خلا یعنی space کس وجہ سے ہے ،یہ میری وجہ سے ہے ،سپیس کو سپیس کہہ کون رہا ہے ،میں کہہ رہا ہوں،رومی کہہ رہا ہے ،آپ کہہ رہے ہو ۔

میں ،آپ ،رومی کیا ہیں؟ ہم سب ایک ہیں، سب کانشئینس ہیں ،کانشئینس کی وجہ سے ہی سپیس کی existence ہے ۔یہ سپیس کب پیدا ہوتا ہے ،کب مرتا ہے؟ ہم سمجھتے ہیں سپیس میں یعنی دنیا میں چیزیں بنتی ہیں مٹتی ہیں،اس مٹنے اور بننے کا نام ہم نے زندگی اور موت رکھا ہوا ،سچ یہ ہے کہ سپیس میں نہ کچھ پیدا ہوتا ہے ،نہ مرتا ہے۔ انسٹرومنٹ ہے تو دنیا نظر آجاتی ہے ،نہیں ہے تو نظر نہیں آتی ،اس باڈی یعنی انسٹرومنٹ کی وجہ سے ہمیں لگتا ہے چیزیں پیدا ہورہی ہیں اور مررہی ہیں۔

کسی پارک میں آپ بیٹھے ہو ،وہاں ایک پرندے کو دیکھتے ہو ،آنکھ وہ پرندہ دیکھا رہی ہے،اس آنکھ کے سامنے مائیکروسکوپ رکھ دو تو وہی پرندہ کسی اور فارم میں نظر آئے گا تو اس کا کیا مطلب وہ پرندہ مر گیا ،پرندہ نہیں مرا ،انسٹرومنٹ بدل گیا ،انسٹرومنٹ کی وجہ سے دنیا بدل گئی ۔۔

ریت کے زرات تو آپ نے دیکھے ہوں گے، ریت کے ایک زرے کو مائیکرو سکوپ سے دیکھیں ،اس ایک زرے میں ایک مکمل galaxy نظر آتی ہے۔ سوچیں ریت کے ایک زرے میں ساری کی ساری کائنات ہے ، آج ہی تجربہ کریں ،انٹر نیٹ پر sand particle کو دیکھیں ،یوٹیوب پر ویڈیوز پڑی ہیں ،جس میں وہ یوٹیوبر یا سائنٹیسٹ بتا رہا ہو گا کہ ریت کے ایک زرے میں ساری کائنات دیکھاتی دیتی ہے

ساری کائنات ریت کے ایک زرے میں ہے ؟ کائنات کا سچ یہ ہے۔

یہ سپیس کہاں سے آتا ہے؟ کہاں چلا جاتا ہے؟ یہ سپیس کانشئینس سے connected ہے ، آپ سے connected ہے۔

دنیا میں جو کچھ بھی نظر آرہا ہے ،سب کچھ سپیس میں ہے ،سپیس ہے تو دنیا ہے،سپیس ہے تو آوازیں ہیں ۔

اس سپیس کا وجود رومی کی وجہ سے ،رومی مطلب میری وجہ سے ہیں ،میں مطلب کانشئینس کی وجہ سے ہے،کانشئینس مطلب آورینس کی وجہ سے ہے ، آورینس مطلب خدا کی وجہ سے ہے ۔

اس خلا کو کون دیکھ رہا ہے؟ آپ دیکھ رہے ہو ۔

اس سپیس کی بات کون کررہا ہے؟
آپ سپیس کے بارے میں بات کررہے ہو ۔

کس ڈیڈ ابجیکٹ کو سپیس نظر نہیں آرہا ہے ،کسی inert object کو سپیس نظر نہیں آرہا ہے ، کانشئینس سپیس کو دیکھ رہی ہے اور آپ کانشئینس ہو اور کانشئینس ڈیڈ نہیں ہے اور نہ اسے ڈیڈ کرنے کا کوئی طریقہ ہے ۔

مجھے یہ سپیس نظر آرہا ہے ،مجھے مطلب کانشئینس کو تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ میں اس سپیس کے انگ انگ میں ہوں ،جب میں سپیس کی روح ہوں تو دنیا میں جو کچھ ہے سب کچھ میری وجہ سے ہے کیونکہ یہ دنیا سپیس میں exists کرتی ہے اور سپیس مجھ میں exist کرتی ہے ،مجھ میں مطلب کانشئینس میں exist کرتی ہے۔

آپ ہو کون؟ اہم یہ سوال ہے؟ اس سوال میں ہی سچائی ہے۔

اگر آپ کہتے ہو کہ میں یہ باڈی ہوں ،پھر سوچتے رہو ،بھاگتے رہو ،پریشان رہو ،ہر وقت پیسوں ،ہیرے جواہرات ،دھن دولت کا پیچھا کرتے رہو ۔

‏What is reality? Reality is that you are not just an instrument or body through which you are seeing this World. You are consciousness or awareness. You are infinite or unlimited conscious. This consciousness looks limited because of the limitation of body or instrument, body or instrument is limited but consciousness is unlimited.
آپ رومی ہو ،آپ کانشئینس ہو ،ساری کی ساری کائنات آپ میں ہے،جس طرح سارے کا سارا ڈریم ڈریمر کی وجہ سے ہے ،اسی طرح ساری کی ساری کائنات کانشئینس کی وجہ سے ہے۔
‏This is the way to understand yourself.

‏The entire universe is an image. The whole creation is an image. The whole world is an image but you are not an image , you are reality.

بدقسمتی یہ ہے کہ جو سچ ہے وہ image میں کھو گیا ہے ،کھو جاو ،کوئی پرابلم نہیں ہے، اس امیج کو سچ جان لو اور خود کے سچ کو بھول جاو ،یہ problematic ہے۔

یہ ساری کائنات بہت بڑی ہے ، اس ساری کائنات کو آپ ایک چھوٹی سی سکرین میں دیکھتے ہو ،وہ چھوٹی سی سکرین آپ کا برین ہے، اس کائنات کو آپ ایک چھوٹی سی سکرین میں دیکھ رہے ہو ۔

جو کچھ بھی دیکھائی دے رہا ہے ،جو کچھ بھی سنائی دے رہا ہے ،جو بھی دنیا کے بارے میں ہم feel کرتے ہیں ،سب کچھ brain میں ہورہا ہے ۔
‏All the feelings,emotions, actions and reactions only exist in Brain. You are not just this brain or image. There is darkness in the brain, this darkness creates lights and this light creates images or the universe.
انسان کا برین ہر طرف سے packed ہے ، یہی وجہ ہے کہ ہم دنیا کو اس برین میں دیکھتے ہیں۔ برین میں اندھیرا نہ ہوتا صرف روشنی ہوتی تو کیا اس روشنی میں کچھ دکھتا ،روشنی میں روشنی دیکھائی نہین دیتی ،اندھیرا ہوگا تب ہی روشنی دیکھائی دے گی ۔

‏That’s why this world is a play of lights and shadows.

پروجیکٹر کو آپ نے کبھی دیکھا ہے،میرے پاس پروجیکٹر ہے ،میں اس پروجیکٹر کو دھوپ میں رکھتا ہوں تو کچھ نظر نہیں آتا ،رات کو سوتے وقت کمرے میں اندھیرا کردیتا ہوں اور پروجیکٹر کی لائیٹ جب دیوار پر پڑتی ہے تو دیوار رنگوں س بھر جاتی ہے اور ایک امیج بنتا ہے جو مجھے بہت اچھا لگتا ہے ، میوزک آن کردیتا ہوں ، اس امیج کو دیکھتے دیکھتے سو جاتا ہوں۔

پروجیکٹر کو سورج کی روشنی میں یا بلب کی روشنی میں آن کرو گے تو کچھ نظر نہیں آئے گا ۔

برین میں دنیا کی اوقات ایک امیج جیسی ہے، اس امیج میں جو کچھ ہے اس کی ہر ادا اور دلکشی میں میں ہوں۔

رات کو زمین سے جب آپ آسمان کو دیکھتے ہو تو لاکھوں ستارے،چاند ،آسمان سب کچھ دیکھائی دیتا ہے ، آپ کی نظر سب پر ہوتی ہے۔ دو سیاروں اور ستاروں کے درمیان جو سپیس ہوتی ہے اس پر بھی آپ کی نظر ہوتی ہے۔ وہ نظر آپ ہو ،وہی نظر کانشئینس ہے ، وہی نظر رومی ہے ،وہی نظر آویرنس ہے ۔

خود کو ایسے سمجھا جاتا ہے،رومی نے خود کو ایسے سمجھا ہے۔ تب جاکر وہ کائنات سے ایک ہوا ہے۔تب جاکر اس نے سچ کو دیکھا ہے۔
‏This is called Self Realization?

دنیا میں جو کچھ بھی نظر آرہا ہے یہ کانشئینس سے الگ نہیں ہے ،یہ سب کچھ کانشئینس کی وجہ سے ہے اور تم کانشئینس ہو ۔

رومی نے جب خود کو دریافت کیا تو اسے معلوم ہوا وہ یہ باڈی نہیں ہے ،وہ تو کانشئینس ہے،وہ کانشئینس جو کائنات کے زرے زرے میں ہے، رومی ڈریم بھی ڈریمر بھی ہے۔ وہ جانتا ہے ڈریم میں جو کچھ نظر آرہا ہے ،اس سب میں وہ ہے، اس لئے رومی ڈریم کے پیچھے نہیں بھگاتا ، پیسے کے پیچھے نہیں بھاگتا ، وہ جانتا ہے جب اس ڈریم کے انگ انگ میں وہ ہے تو کہاں جائے اور کہاں نہ جائے ،اس لئے وہ رقص میں ہے اور امیج کو دیکھ کر ہنس رہا ہے،امیج بدل بھی جاتا ہے،وہ اس بدلتے امیج کو بھی دیکھتا ہے لیکن کسی قسم کی interference نہیں کرتا ۔۔
ڈریم میں سب کچھ خود بخود ہوتا ہے،ڈریمر کچھ نہیں کررہا ہوتا ،دیکھ رہا ہوتا ہے۔ یہ دنیا بھی ایک ڈریم جیسی جتنا بھاگو گے پریشان رہو گے ،بھاگنا بند کروگے اور دیکھنا شروع کردوگے تو آزاد ہوجاو گے ،ہر قسم کے خوف اور خواہشات سے مکمل liberation

‏We look at the sea and say that water is flowing in the sea. It is not true that the sea is flowing. The truth is that there is an ocean in the water. The whole universe is dancing in Rome. The whole universe, the whole creation is flowing in consciousness. It is correct that God is in every particle of the universe, but the truth is that all creation is in God. Where is the sea without water, where is the river without water, where is the lake without water, where is the river without water. What we call ocean is water.
‏There is no difference between a dream and a dreamer۔ The dream and the dreamer cannot be separated۔ There is no way to separate dream and dreamer. If consciousness is deleted from creation, nothing is left. Everything is lost. There is consciousness in every particle of what is seen in this world۔ The ocean cannot be separated from water, water cannot be separated from bubble and bubble cannot be separated from water, consciousness and universe cannot be separated, dream and dreamer cannot be separated, God and man cannot be separated. The reality we know in terms of conditioning is not reality, the reality we see as reality is connected to our state of mind. Nature of mind is connected with the state of mind and state of mind is connected with our brain. Mind only exists in forms. This space is connected to consciousness, connected to you. No dead object sees space, no inert object sees space, consciousness is looking at space and you are conscious and consciousness is not dead and there is no way to make it dead. What is reality? Reality is that you are not just an instrument or body through which you are seeing this World. You are consciousness or awareness. You are infinite or unlimited conscious. This consciousness looks limited because of the limitation of body or instrument, body or instrument is limited but consciousness is unlimited. This is the way to understand yourself. The entire universe is an image. The whole creation is an image. The whole world is an image but you are not an image , you are reality.
‏All the feelings, emotions, actions and reactions only exist in Brain. You are not just this brain or image. There is darkness in the brain, this darkness creates lights and this light creates images or the universe. That’s why this world is a play of lights and shadows. This is called Self Realization۔


شیئر کریں: