شعبان آفتابوں ماہتابوں کا مہینہ، دعا کیسے رد ہو

شیئر کریں:

تحریر بتول فاطمہ
ماہ رجب المرجب کی مانند ماہ شعبان المعظم بھی افق امامت و ولایت پرکئی آفتابوں اور ماہتابوں کے طلوع اوردرخشندگی کا مہینہ ہے۔
ہجری کیلنڈر کا آٹھواں مہینہ شعبان المعظم نبی اکرم سے منسوب کیا جاتا ہے۔
اس ماہ میں اہل بیت کی اہم ترین شخصیات امام حسین علیہ السلام، میدان کربلا کے علمدار حضرت غازی عباس اور بی بی زینب سلام اللہ علیہا کی ولادت ہوئی ہے۔
شعبان کا آغاز ہی بی بی زینب کے یوم ولادت جیسے اہم دن سے ہوتا ہے۔
وہی بی بی جیسے تاریخ اسلام میں “باپ کی زینت” کہا گیا۔
بی بی زینب سلام اللہ علیہا حضرت علی علیہ السلام اور مخدومہ کائنات بی بی فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی بیٹی ہیں۔
راوایات کے مطابق 6 ہجری کو مدینہ میں آپ کی ولادت ہوئی۔
تاریخی روایات کے مطابق یہ نام آپ کے نانا پیغمبر خدا حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے رکھا۔
یہ وہی نام ہے جو جبرائیل خدا کی طرف سے لائے تھے۔
حضور نے انھیں اپنی زوجہ اور ام المومنین حضرت خدیجہ سے تشبیہ دی
حضرت زینب سلام اللہ علیہا کے معروف القابات میں فاضلہ، کاملہ، عقیلۂ بنی ہاشم اور شریکۃ الحسین ہیں۔
حضرت زینب سلام اللہ علیہا اپنے بھائی امام حسین علیہ السلام سے خاص محبت رکھتی تھیں۔
آپ کربلا میں بھی امام حسین علیہ السلام کے ساتھ رہیں ۔
10 محرم الحرام 61 ہجری کومعرکہ حق وباطل میں اسیر ہوئیں اور کوفہ و شام لے جائی گئیں۔
حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے اپنی فصاحت و بلاغت سے دین اسلام کی حفاظت اور ترویج کی۔
کربلا سے شام تک مختلف شہروں میں دیے گئے خطبات باطل کے مقابل حق اور سچ کی فتح اور تاریخ میں خاص مقام رکھتے ہیں۔
روایات کے مطابق سیدہ زینب سلام اللہ علیہا سنہ 63 ہجری کو دنیا سے رخصت ہوئیں۔
آپ کا روضہ شام کے شہر دمشق میں ہے۔
آسمان امامت و ولایت کے تیسرے درخشدہ ستارے، نواسہ رسول جگر گوشہ بتول، سالار شہیدان حضرت امام حسین علیہ السلام یوم ولادت تین شعبان سے منسوب ہے۔
اس مبارک مہینے میں گلستان محمدو آل محمد کے ایسے سرور انگیز پھول کھلے ہیں کہ ان کی مہک سے صدیاں گزرجانے کےبعد بھی ایمان کو معطر کئے ہوئے ہیں۔
پیغمبر خدا خاتم النبیاﷺ نے نے آپؑ کی ولادت کے دوران ہی آپ کی شہادت کی بھی خبر دی اور آپ کا نام حسین رکھا۔
رسول اللہؐ، حسنین کو بہت چاہتے تھے اور ان سے محبت رکھنے کی سفارش بھی کرتے تھے۔
وہی حسین جنھیں رسول اکرم نے امت کے لیے کشتی نوح کی مانند قرار دیا۔
ان سے توسل کو راہ نجات کہا گیا، اسلام کی آبیاری جیسے امام حسین نے کی رہتی دنیا تک اس کی مثال باقی رہے گی۔
امام حسین علیہ السلام ہی نے رہتی دنیا تک کے لیے حق و باطل کو واضح کر دیا۔
چار شعبان حضرت علی کے جری فرزند اور امام حسین کے بھائی غازی عباس علم دار کے یوم ولادت سے منسوب ہے۔
معرکہ حق و باطل کربلا میں حضرت غازی ابوالفضل العباس کی حضرت امام حسین سے وفاداری اور دین اسلام کی حٖفاظت کے لیے قربانی حق کے متلاشی ہر زمانے اور قوم کے لیے مشعل راہ ہے۔
اہل اسلام اس مہینے کی برکت اور خدا کی پسندیدہ اور بزرگ ہستیوں کے واسطے سے رب جلیل سے توسل کرتے ہیں کہ انھیں ہر قسم کی آفات سے دور کرکے امت محمدیہ پر اپنا کرم و فضل عطاکرے۔
ہم شعبان کی برکت اور پاکیزہ ہستیوں کے واسطے سے خدا سے دعا کرتے ہیں کہ دنیا کو کورونا کی وبائی مرض سے نجات دے۔۔


شیئر کریں: